Ruling on one of the Spouses Washing the other After Death – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

کیا شوہر او ربیوی وفات ہونے پر ایک دوسرے کو غسل میت دے سکتے ہیں؟

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ  المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


سوال: بعض فقہاء (احناف وغیرہ) کی رائے ہے کہ ازدواجی تعلق موت ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے، آپ اس بارے میں کیا رہنمائی فرمائيں گے؟

جواب: یہ رائے سنت کے مخالف ہے، ا س کی جانب توجہ نہ دی جائے)[1](۔

سوال: میں نے بعض آئمہ مساجد سے سنا کہتے ہيں کہ اگر عورت مر جائے تو اس کے شوہر کے لیے جائز نہيں کہ وہ اسے غسل دے، وہ اس لیے کہ اب وہ وفات کے بعد اس کے لیے اجنبی ہوچکی ہے، تو کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب:  یہ صحیح نہیں۔ صواب بات یہ ہے کہ (بیوی کے) فوت ہوجانے پر وہ اسے غسل دے سکتا ہے ۔ اور وہ (بیوی) بھی اس (شوہر) کے فوت ہوجانے پر اسے غسل دے سکتی ہے۔ کیونکہ بلاشبہ ثابت شدہ سنت اس پر دلالت کرتی ہے۔

اورا سماء بنت عمیس  نے اپنے شوہر ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہما کو وفات کے بعد غسل دیا۔

اسی طرح  علی  رضی اللہ عنہ  نے اپنے بیوی فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کو غسل دیا۔

مقصود یہ ہے کہ شوہر کے بیوی کو اور بیوی کے شوہر کو غسل دینے میں کوئی حرج نہيں ہے۔ کیونکہ یقیناً وہ اس (بیوی) کے بارے میں سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ (بیوی) اس (شوہر) کے حال کے بارے میں سب سے زیادہ جانتی ہے۔ اور اب بھی ان کے درمیان ایک تعلق عدت کا باقی ہے، لہذا کوئی حرج نہيں اس (شوہر) کے اس (بیوی) کو غسل دینے میں اور اس (بیوی) کے اسے (شوہر کو) غسل دینے میں([2])۔

شیخ رحمہ اللہ کے ان فتاویٰ کے علاوہ یہ احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں:

عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے فرمایا:

” رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ:بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ“ ([3])

 (رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد تھا، اور میں کہہ رہی تھی:  ہائے میرا سر!، تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! ہائے میرا سر!(یعنی بلکہ خود میرے سر میں درد ہے)، پھر فرمایا: تمہارا کوئی نقصان نہیں  اگر تم مجھ سے پہلے فوت بھی ہوگئی تو میں خود تمہارے سارے کام انجام دوں گا، تمہیں غسل دوں  گا، تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا)۔

عائشہ  رضی اللہ عنہا  ہی سے روایت ہے کہ فرمایا:

”  لَمَّا أَرَادُوا غَسْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا نَدْرِي، أَنُجَرِّدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثِيَابِهِ كَمَا نُجَرِّدُ مَوْتَانَا، أَمْ نَغْسِلُهُ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ؟ فَلَمَّا اخْتَلَفُوا أَلْقَى اللَّهُ عَلَيْهِمُ النَّوْمَ. حتَّى مَا مِنْهُمْ رَجُلٌ إِلَّا وَذَقْنُهُ فِي صَدْرِهِ، ثُمَّ كَلَّمَهُمْ مُكَلِّمٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، لَا يَدْرُونَ مَنْ هُوَ: أَنِ اغْسِلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثِيَابُهُ، فَقَامُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَسَلُوهُ وَعَلَيْهِ قَمِيصُهُ، يَصُبُّونَ الْمَاءَ فَوْقَ الْقَمِيصِ، وَيُدَلِّكُونَهُ بِالْقَمِيصِ دُونَ أَيْدِيهِمْ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَلَهُ إِلَّا نِسَاؤُهُ“([4])

(جب صحابہ نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! ہمیں نہیں معلوم کہ ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے کپڑے بھی اسی طرح اتار دیں جس طرح اپنی میتوں کے کپڑے اتارتے ہیں، یا پھر انہیں آپ کے بدن پر رہنے دیں اور اسی طرح (اوپر) سے غسل دے دیں؟پس جب لوگوں میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند طاری کر دی یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص ایسا نہ تھا جس کی ٹھوڑی اس کے سینہ سے نہ لگ گئی ہو، پھر گھر کی ایک طرف سے کسی آواز دینے والے کی آواز آئی  جس کا انہيں پتہ نہیں کہ کون تھا، کہا کہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو ان کے کپڑوں ہی میں غسل دو۔ چنانچہ  لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے پاس اٹھ کر آئے اور آپ کو آپ کی قمیص کے اوپر سے ہی غسل دیا، وہ قمیص کے اوپر سے ہی پانی ڈالتے  رہے تھے اور قمیص سے ہی آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  (کے جسم مبارک ) کو ملتے تھے نہ کہ اپنے ہاتھوں سے۔ اور عائشہ  رضی اللہ عنہا  فرمایا کرتی تھیں:

 اگر مجھے پہلے یاد آ جاتی (وہی اوپر والی حدیث) جو بعد میں مجھے یاد آئی، تو کوئی آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو غسل نہ دیتا سوائے آپ کی بیویوں کے)۔


[1] مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز 13/ 109۔

[2] نور على الدرب – جواز تغسيل الرجل لزوجته إذا توفيت۔

[3] سنن ابی داود 1465، صحیح سنن ابی داود 1206 حسن۔

[4] سنن ابی داود 3141 اور شیخ البانی نے صحیح ابی داود میں اسے حسن قرار دیا ہے۔

shohar_bv_ghusl_mayyat