The Sufis Salat al-Fatih (Durood) – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah bin Baaz

صوفیوں کا صلاۃ (درود) الفاتح

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(سابق مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: مجموع فتاوى ومقالات الشيخ ابن باز (6/ 419).

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


سوال: ہمارے ہاں بہت سے لوگ  تیجانی (صوفی) طریقے (طریقت) سے جڑے ہوئےہيں اور میں نے آپ کے پروگرام نور علی الدرب میں سنا کہ یقیناً یہ بدعتی طریقہ ہے اس کی پیروی کرنا جائز نہيں، لیکن میرے اہل خانہ کے پاس شیخ احمد تیجانی کی طرف سے ملا ہوا   ورد  ہے جو کہ صلاۃ الفاتح (درود ِفاتح) ہے، اور وہ کہتے ہیں: بے شک صلاۃ ا لفاتح  نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود ہے، تو کیا واقعی یہ صلاۃ الفاتح نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پردرود ہے یا نہیں؟ وہ یہ تک کہتےہیں کہ: جو صلاۃ الفاتح پڑھتا تھا  پھر اسے چھوڑ دیا تو وہ کافر  تصور ہوگا، اور کہتے ہیں: اگر تم نے اسے (شیخ سے) لیا نہیں  اور پھر چھوڑ دیا تو تم پر کوئی پکڑ نہيں، لیکن اگر تم نے اسے لیا ہو پھر چھوڑا ہے تو تم کافر شمار ہوگے، اور میں نے اپنے والدین  سے کہا: بلاشبہ یہ جائز نہيں ہے، تو انہو ں نے مجھ سے کہا: تم وہابی ہو اور مجھے گالیاں دینے لگے! پس میں اس بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں؟

جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ تیجانی طریقہ ایک بدعتی طریقہ ہے۔ اہل اسلام کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان بدعتی طرق کی پیروی کریں چاہے تیجانی ہو یا اس کے علاوہ کوئی (جیسے قادری، سہروری، چشتی ، نقشبندی، شازلی وغیرہ) بلکہ ان پرواجب ہے اس چیز کی اتباع کرنا اور اس سے تمسک اختیار کرنا جو رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  لےکر آئے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾  (آل عمران: 31)

( کہہ دو اگر تم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع (پیروی ) کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا)

یعنی کہو اے محمد لوگوں سے:

﴿ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾  (آل عمران: 31)

( اگر تم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع (پیروی ) کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا)

اور اللہ عزوجل نے فرمایا:

﴿اِتَّبِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ  ۭ قَلِيْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴾   (الاعراف: 3)

(اس کے اتباع کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور اولیاء کی اتباع نہ کرو۔  تم بہت کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو)

اور فرمایا:

﴿وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ    ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا﴾  (الحشر: 7)

(اور جو رسول تمہیں دیں اسے لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ)

اور اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا:

﴿وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْمًا فَاتَّبِعُوْهُ  ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهٖ﴾ (الانعام: 153)

(اور یہ کہ بے شک یہی میرا سیدھا راستہ ہے پس اسی پر چلو، اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے جدا کردیں گے)

اور ”السُّبُلَ“ کا مطلب ہے نئے نکالے گئے الطرق (راستے) بدعات، اہواء پرستی، شبہات اور حرام شہوات کے۔ اللہ تعالی نے ہم پر واجب قرار دیا ہے کہ ہم اس کی صراط مستقیم کی پیروی کریں اور وہ وہی ہے جس پر قرآن کریم اور  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی صحیح ثابت شدہ سنت دلالت کرتی ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کی اتباع کرنا واجب ہے۔

جبکہ جو تیجانی طریقہ ہے یا شاذلی یا قادری وغیرہ جیسے طرق  جو لوگوں نے نکال رکھے ہیں ان کی اتباع کرنا جائز نہيں سوائے وہ بات جو ان میں یا کہيں بھی شریعت الہی کے موافق ہو تو اس پر عمل کیا جاتا ہے۔اس لیے کیونکہ وہ شریعت مطہرہ کے موافق ہے ناکہ اس لیے کہ یہ فلاں طریقے وغیرہ کا ہے ان سابقہ بیان کردہ آیات کے مطابق  اور اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں کہ فرمایا:

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًا﴾

 (الاحزاب: 21)

(بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ میں ہر طور پر بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت  کی امید رکھتا ہو، اور اللہ کا بہت ذکر کرتا ہو)

اور فرمایا:

﴿وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا  ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ﴾  (التوبۃ: 100)

(اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ، اور وہ لوگ جنہوں نے اچھے طور پر ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے، اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ ہمیش رہنے والے ہیں ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے)

اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اس فرمان کی روشنی میں:

”مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ “([1])

(جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہ تھی تو وہ مردود (ناقابل قبول) ہے)۔

یہ متفق علیہ حدیث ہے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے۔ اور فرمایا آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے:

” مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدّ “([2])

(جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا امر (دین) نہیں تو وہ مردود(ناقابل قبول) ہے)۔

اسے مسلم اپنی صحیح میں لائے ہيں  ۔ اور آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا خطبۂ جمعہ کے تحت یہ فرمانا:

”أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ“([3])

(اما بعد: بے شک سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے، اور سب سے بہترین ہدایت محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی ہدایت ہے، اور سب سے بدترین امور (دین میں) نئے نکالے ہوئے کام ہيں، اور ہر بدعت گمراہی ہے)۔

اسے مسلم اپنی  صحیح میں روایت کرتے ہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے۔ اور اس معنی کی بہت سی احادیث ہیں۔

اور جو صلاۃ الفاتح ہے وہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود ہے جیسا کہ وہ ذکر کرتے ہیں لیکن اس کے صیغے کے جو الفاظ ہيں وہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے مروی نہيں ہیں کہ اس میں کہتے ہیں:

”اللهم صل وسلم على سيدنا ونبينا محمد الفاتح لما أغلق، والخاتم لما سبق، والناصر الحق بالحق“

(اے اللہ! درود و سلام بھیج ہمارے سید، نبی محمد پر ہر بند کو کھولنے والے ہيں، اور گزرے ہوؤں کو ختم کرنے والے (خاتم النبیین) ہيں، اور حق کے ساتھ حق کی نصرت کرنے والے ہیں)

یہ لفظ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ان احادیث صحیحہ میں وارد نہيں جن میں نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے خود صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے  پوچھنے پر درود بھیجنے کا طریقہ سکھلایا ہے۔ پس امت اسلامیہ کے لیے یہی مشروع ہے کہ  وہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر درود وسلام پڑھے اس صیغے کے مطابق جو ان کے لیے شریعت میں مقرر کیا گیا ہے اور انہيں سکھلایا گیا ہے بنا اس میں نئی چیزیں ایحاد کیے۔

اس میں سے وہ ہے جو صحیحین میں کعب بن عجرہ  رضی اللہ عنہ   سے روایت ہے کہ صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے عرض کی:

یا رسول اللہ! ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ آپ پر درود بھیجیں تو ہم آپ پر کس طرح سے درود بھیجیں؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا کہ کہو:

”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى  إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى  آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى  إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“

(اے اللہ! محمد پر درود بھیج،  اور آل محمد پر جیسا کہ تونے درود بھیجا ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر، بے شک تو قابل تعریف اور بڑی شان وبزرگی والا ہے، اے اللہ! اور برکت  نازل فرما محمدپر، اور آل محمد پر جیسا کہ تو  نے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور  آل ابراہیم پر، بے شک تو قابل تعریف اور بڑی شان وبزرگی والا ہے)۔

ان میں سے وہ بھی جو صحیح البخاری و مسلم ہی میں ابو حمید الساعدی  رضی اللہ عنہ  نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے روایت کرتے ہيں کہ آپ نے فرمایا کہو:

’’اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبرَاهِيمَ، وَبارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى  إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ‘‘

(اے اللہ! درود بھیج تو محمد پر اوران کی ازواج و ذریت پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا آل ابراہیم پر، اور بارک نازل فرما محمد پر اور ان کی ازواج و ذریت پر جیسا کہ تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم اور آل ابراہیم  پر، بے شک تو قابل تعریف اور بڑی شان وبزرگی والا ہے)۔

اور تیسری حدیث جو کہ مسلم اپنی صحیح میں ابو مسعود الانصاری  رضی اللہ عنہ  سے روایت کرتے ہيں وہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے کہ آپ نے فرمایا کہو:

”اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ  إِبْرَاهِيمَ وَ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى  آلِ  إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ“

 (اے اللہ! درود بھیج محمد پر اور آل محمد پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا آل ابراہیم پر اور برکت نازل فرما محمد اور آل محمد پر جیسا  کہ تو نے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر تمام جہانوں میں، بے شک تو قابل تعریف اور بڑی شان وبزرگی والا ہے)

پس یہ احادیث اور جو اس معنی میں دیگر احادیث آئی ہيں وہ اس درود پڑھنے کے طریقے کی وضاحت کرتی ہيں  جس سے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اپنے امت کے لیے راضی ہيں اور اس کا انہيں حکم دیا ہے۔

جہاں تک صلاۃ الفاتح (یا درود تنجینا، لکھی، ماہی وغیرہ) کا تعلق ہے اگر بالجملہ ان کا معنی صحیح  بھی ہو تب بھی اسے لینا اور اسے چھوڑ دینا جو نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ثابت شدہ درود ہے درست نہيں، کیونکہ ثابت شدہ درود کا ہی حکم ہے۔ جبکہ دیکھا جائے تو یہ جو کلمہ ہے ”الفاتح لما أغلق “ (ہر بند کو کھولنے والے) میں اجمال پایا جاتا ہے جس کی بعض اہل اہواء غیر صحیح معنی کے ساتھ  تفسیر کرتے ہیں (یعنی نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو مشکل کشا وحاجت روا ماننا جو کہ شرک ہے)۔

والله ولي التوفيق۔


[1] صحیح بخاری 2697، صحیح مسلم 1720۔

[2] صحیح مسلم 1721۔

[3] صحیح مسلم 870۔

sufis_durood_alfateh