Is it Valid to Combine Making Up Missed Ramadan Fasts with Fasting Six Days of Shawwaal with One Intention? – Various ‘Ulamaa

کیا رمضان کے قضاء روزے اور شوال کے 6 روزے ایک نیت کے ساتھ رکھ سکتے ہیں؟

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


سوال: کیا عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے اور جو رمضان کے قضاء اس کے ذمے ہے کو جمع کردے  (شوال کے) ان چھ دنوں میں جس میں قضاء کی بھی نیت ہو اور (شوال کے روزوں کے)  اجر کی بھی؟ یا پھر ضروری ہے کہ پہلے قضاء رکھے پھر شوال کے چھ روزے الگ سے رکھے؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ:

جی ہاں، وہ پہلے قضاء سے شروع کرے پھر اگر چاہے تو چھ روزے رکھ لے۔ یہ چھ روزے نفلی ہیں۔ لہذا جو کچھ اس پر واجب تھے اگر شوال میں ا س کی قضاء پوری کرلی پھر شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ  عظیم خیر ہے۔ لیکن رہا سوال کہ ان چھ روزوں کو (رمضان کے) قضاء اور (شوال کے)  چھ  روزوں کی نیت سے رکھے تو ہم پر یہ ظاہر نہیں ہوسکا ہے کہ اسے چھ (نفلی) روزوں والا اجر ملے گا۔ چنانچہ ان چھ روزوں کی الگ سے خاص نیت خاص دنوں میں ضروری ہے([1])۔

سوال: کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں شوال کے چھ روزے رکھوں یا عاشوراء کے ساتھ ہی رمضان کے کچھ روزوں کی قضاء کی بھی نیت ہو؟

جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ:

جہاں تک شوال کے چھ روزوں کو تعلق ہے تو اسے رمضان کے قضاء روزوں کی نیت سے رکھنا صحیح نہيں۔ کیونکہ یقیناً یہ چھ روزے رمضان کے تابع ہیں ان کی حیثیت فرض نماز کے ساتھ پڑھی جانے والی سنتوں کی طرح ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ من صام رمضان ثم أتبعه ستة من شوال كان كصيام الدهر ‘‘([2])

(جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے(یا اس کے بعد چھ روزے شوال کے اس سے ملائے) تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے زمانے بھر کے روزے رکھے)۔

دیکھیں اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہيں ماہ رمضان کے تابع قرار دیا ہے او ریہ اس کے ماتحت (منسلک) ہیں۔ اور جو کسی چیز کے تابع ہوتا ہے تو بے شک وہ چیز اس سے بے نیاز نہيں ہوسکتا۔

پھر یہ سوال بھی کثرت سے ہوتا ہے کہ ان چھ روزوں کو رمضان کی قضاء جس کے ذمے ہو اس پر مقدم کرنا؟ اس کا جواب ہے کہ:  یہ کوئی فائدہ نہيں دے سکتا یعنی ان چھ روزوں کو رمضان کے قضاء روزوں سے پہلے رکھنے سے وہ اجر نہيں ملتا جو نبی e نے ذکر فرمایا ہے کہ رمضان کے بعد چھ روزے رکھنے پر مرتب ہوتا ہے۔

کیونکہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

(جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے(یا اس کے بعد چھ روزے شوال کے اس سے ملائے) تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے زمانے بھر کے روزے رکھے)۔

لہذا جس کے ذمے قضاء  ہوں تو اس پر ان الفاظ کا اطلاق نہيں ہوسکتا کہ اس نے رمضان کے روزے رکھے بلکہ لازم ہے کہ وہ پورے ماہ رمضان کے روزے رکھے اداء یا قضاء، پھر اس کے بعد ان چھ دنوں کے روزے رکھے۔

البتہ اگر وہ یوم عاشوراء (10 محرم)  کا روزہ رکھتا ہے اور ساتھ قضاء کی نیت بھی کرلیتا ہے تو اس کےبارے میں ہم امید رکھتے ہيں کہ اسے قضاء اور اس دن کا ثواب دونوں مل جائيں گے، کیونکہ ظاہر میں مقصود اس دن کا روزہ رکھنا ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر عرفہ کا روزہ رکھتا ہے اور ساتھ رمضان کے قضاء کی بھی نیت کرتا ہے تو اس کے بار ےمیں بھی امید ہے کہ اسے دونوں چیزیں مل جائیں گی۔

یہی حال ہر ماہ کے تین روزے 13، 14 اور 15 ایام بیض کے روزوں میں رمضان کے قضاء کی نیت سے ہمیں امید ہے کہ دونوں اجر وثواب مل جائیں گے۔

اور یہی بات پیراور جمعرات کے روزے کے تعلق سے ہے کہ اگر رمضان کے قضاء کی نیت سے رکھتا ہے تو ہمیں امید ہےکہ دونوں اجر و ثواب قضاء کا اور ان دو دنوں کا حاصل ہوجائے گا۔

کیونکہ بلاشبہ مقصود ان دنوں کا ایک انسان کے لیے روزے کا ہوناہے۔ (جبکہ شوال کے چھ روزوں کا معاملہ الگ ہے اور وہ رمضان کے روزے مکمل ہوجانے سے مربوط ہے، جو اوپر بیان ہوا)([3])۔

شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

اور اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ جس نے رمضان کے روزے ابھی پورے نہيں رکھے تو اس کے لیے شوال کے چھ روزے شروع کرنا مشروع نہيں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے۔ لہذا جس کسی نے پورے رمضان کے روزے کسی عذر کی وجہ سے چھوڑے ہوں تو وہ شوال کے چھ روزے نہ رکھے۔ بلکہ اسے جلد از جلد رمضان کے قضاء روزے رکھنے چاہیے۔ اور جس نے رمضان کے کچھ روزے شرعی عذر کی وجہ سے چھوڑے ہوں تو وہ پہلے انہیں پورا کرے پھر اگر شوال کا مہینہ باقی ہو تو اس کے روزے رکھ لے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر رمضان کے بعد جو چھ روزے شوال کے رکھے۔ یعنی شوال کے چھ روزوں کو اس کے قبل رمضان کے روزے مکمل کرنے کے ساتھ ملا کر بیان کیا۔ پس اگر اس کے ذمے اگر پورے رمضان یا کچھ ایام کے قضاء روزے باقی ہوں تو اسے پہلے فرض سے شروع کرنا چاہیے، کیونکہ فرض نفل سے اولیٰ ہے([4])۔


[1] نور على الدرب – هل يجوز صيام ست من شوال بنية القضاء والتنفل؟

[2] صحیح مسلم 1165 کے الفاط ہیں: ’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوّالٍ كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ‘‘ ۔

[3] فتاوى نور علي الدرب (2/11) اور یہی بات آپ نے فتاوی الصیام 438 میں بھی فرمائی۔

[4] شرح كتاب الصيام من كتاب بلوغ المرام۔

ramadan_qaza_rozay_shawwal_aik_niyat