What is the meaning of Ḥawqala (lā ḥawla wa-lā quwwata ʾillā bi-llāhi) ?

حَوْقَلَة (لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) کا کیامطلب ہے؟

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس ذکر کے معنی کے تعلق سے بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ صرف کسی بری و ناگوار بات پر ہی کہا جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت ایسا نہیں، اس کا معنی اور جن مواقع پر بولا جاتا ہے اسے جاننے سے اس کا اصل مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔

اس ذکر کی فضیلت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

”أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ، قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ:  لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“([1])

(کیا میں تمہیں ایسا کلمہ نہ بتلاؤ جو کہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ میں نے کہا: کیوں نہيں، یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ)

شیخ خالد الظفیری حفظہ اللہ اسی موضوع پر اپنے خطبے میں فرماتے ہیں:

ایک مسلمان کو ان کلمات و اذکار کا معنی مفہوم معلوم ہونا چاہیے جو وہ پڑھتا ہے جس سے اس کی تاثیر وفائدے او ربندے کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کلمے کا معنی ہے کہ ایک حال سے دوسرے حال میں پلٹنے کی قوت و قدرت بندے کو نہيں مگر اللہ کی مدد سے۔ اس کی مثال ہے کہ جب مؤذن نماز و فلاح کی طرف بلاتا ہے تو جواب میں سنت سے یہی کلمہ کہنا ثابت ہےکہ : ہم نے سنا اور اطاعت کی لیکن  ہم اس عبادت کی ادائیگی کے لیے حاضر ہونے میں بھی اللہ کی مدد و توفیق کے محتاج ہیں۔ یا جیسا کہ  اس کا عام ترجمہ کیا جاتا ہے جو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے بھی مروی ہے کہ:

” نہیں ہے نیکی کرنے کی توفیق اور گناہ سے بچنے کی طاقت مگر اللہ کی مدد سے“۔

ایک اور غلطی اس کلمے کو بگاڑ کر یا ادھورا پڑھنا جیسے: لاحول۔۔۔(اس میں اللہ سمیت سب کی قوت کی نفی ہے) یا لاحول للہ (یہ بھی کفریہ کلمہ ہے کہ اللہ امور کو پلٹنے کی طاقت نہیں رکھتا!) ،تو شیطان کی چال سے بچیں کےکہیں وہ  جنت کے اس خزانے جیسے عظیم کلمے کو کلمۂ کفرنہ  بنادے آپ کے لیے([2])۔

اس کلمے کو کہنے کے بعض مواقع:

جب رات کو اچانک آنکھ کھلے ([3])۔

جب مؤذن حي على الصلاةاور حي على الفلاح کہے تو اس کے جواب میں([4])۔

نماز کے بعد([5])۔

گھر سے نکلتے وقت([6])۔


[1] صحیح بخاری 4204، صحیح مسلم 2705۔

[2] فضائل الحوقلة خطبے سے مختصر مفہوم۔

[3] صحیح بخاری 1154۔

[4] صحیح مسلم 388۔

[5] صحیح مسلم 596۔

[6] اسے امام الترمذی نے اپنی  جامع  3426 میں روایت فرمایا، اور شیخ البانی نے اسے صحیح الترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔

hawoqala_ka_mana