The Callers who make Everyone Happy – Shaykh Muhammad Amaan al-Jamee

سب کو راضی رکھنے والے داعی

فضیلۃ الشیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ عقیدہ، مدینہ یونیورسٹی ومدرس مسجد نبوی)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: شرح شروط لا إله إلا الله من ص102 إلى 103۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

وہ داعی جو یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ ہردلعزیز اور تمام لوگوں کو ان کے طبقات، میلانات، انتسابات اور جماعتوں کے اختلافات کے باوجود محبوب ہو اور سب اسے پسند کریں تو وہ ضرور مداہنت کرنے والا ہوتا ہے۔

یعنی وہ داعی جو کوشش کرتا ہے کہ تمام لوگوں کو راضی رکھے کوئی بھی اس سے ناراض نہ ہو اور ہر کوئی یہ کہے کہ: یہ تو بڑا عادل وانصاف پسند ہے اور فسادمچانے والا نہیں ہے۔ اور ہر فرقہ، ہر گروہ، ہر جماعت اور ہر قسم کے رجحانات رکھنے والے اس شخص سے راضی ہیں، (تو جان لیں کہ) ایسا شخص مداہنت کرنے والا منافق ہی ہوگا اس بارے میں کوئی شک نہيں، کیونکہ ایسا ہونا ممکن نہیں، جیساکہ امام الشافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

’’رضا الناس غاية لا تدرك‘‘

(تمام لوگوں کی رضامندی کا حصول ایک ایسی غایت ہے جو کبھی پائی نہيں جاسکتی)۔

لیکن ایک ایسی غایت بھی ہے کہ جو پائی بھی جاسکتی ہے اوروہ مطلوب بھی ہے، جبکہ لوگوں کی رضا ایک ایسی غایت ہے جو نہ پائی جاسکتی ہے اور نہ ہی مطلوب ہے، مگر ہاں اللہ تعالی کی رضا ایسی غایت ہے کہ جو پائی بھی جاسکتی ہے اور مطلوب بھی ہے۔

پس اللہ کی رضا ایک ایسی غایت ہے کہ جو وہ شخص پاسکتا ہے جسے اللہ تعالی توفیق دے اور وہ اس پر پیش ہو۔

اس کی رضا ایسی غایت ہے کہ جو پائی جاسکتی ہے اور مطلوب بھی ہے۔ تو پھر ایک داعی پر واجب ہے کہ اس کے پیش نظر یہ بات ہو جب وہ دعوت کے میدان میں اترے، اور جو کوئی یہ نہیں کرسکتا تو پھر اسے چاہیے کہ اپنے گھر پر بیٹھا رہے۔

sub_ko_razi_rakhne_wale_daee