Taking a Hadeeth as an Evidence to Justifying the Protests & Demonstrations & the Methodology of Salaf From the Speech of Various ‘Ulamaa

مظاہرات کے جواز کے لیے پیش کی جانے والی ایک حدیث سے باطل استدلال

جمع و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


فرقے اخوان المسلمین و جماعت اسلامی  وغیرہ کافروں سے سیکھے گئے منہج مظاہرات و احتجاجات کے لیے توڑ مروڑ کر یہ دلیل پیش کرتے  ہیں، جیسا کہ حال ہی میں نائب امیر جماعت اسلامی ہند امین الحسن صاحب اپنی تقریر بتاریخ 30 دسمبر 2019ع میں کہتے ہیں:

”پروٹیسٹ کرنا ہمارا حق ہے، سمجھ لیجئے پروٹیسٹ کرنا ہمارا حق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں پروٹیسٹ کرنا سکھایا ہے، احتجاج کرنا سکھایا ہے، ایک صحابی  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ آئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اور آکر انہوں نے شکایت کی کہ  میرا پڑوسی مجھے تنگ کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا صبر کرو۔ یہ بخاری کی روایت ہے، بخاری جاکر دیکھ لیں۔۔۔یہ بخاری کی روایت  بتادی ہے کہ پروٹیسٹ کرنا  آپ کا حق ہے، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھایا ہے کہ سڑکوں پر جمع ہوجاؤ اور شکایت کرو ظالموں کے خلاف، ظالموں کے خلاف آواز اٹھاؤ، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم ہے۔ ہم کو اس حدیث میں یہ روایت ملتی ہے  کہ احتجاج کرنا آپ کا حق ہے، اور احتجاج سڑک پر آپ کریں گے۔۔۔“

سبحان اللہ! اتنا بڑا قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمے لگانا کہ انہو  ں نے ہمیں یہ سکھلایا ہے حالانکہ ایک متواتر حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ‘‘

(جس نے مجھ پر قصداً جھوٹ بولا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں پکڑ لے)۔

دوسری روایت میں ارشاد فرمایا:

’’مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ‘‘([1])

(جس نے میری طرف ایسی بات منسوب کی جو میں نے نہیں کہی تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں پکڑلے)۔


[1]  دونوں روایتیں بخاری کی ہیں: 1/84، ابوداؤد: 3/1036.

تفصیلی جواب جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

muzahiraat_jawaz_hadees_batil_istidlal