It is not sufficient for the potential spouse to only be a practicing Muslim

شادی کے لیے رشتے میں صرف نیک صالح ہونا کافی نہيں

ترجمہ وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


الترمذی 1084 ([1])میں  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِذَا خَطَبَ إِلَيْكُم مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِيضٌ ‘‘

(جب تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ بھیجے  کہ جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے شادی کروادو ، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت فتنہ اور وسیع و عریض فساد برپا ہوجائے گا)۔

یہاں پر دین کے ساتھ اس کے اخلاق و مزاج کے موافق و مرضی کے مطابق ہونے کو بھی ذکر فرمایا گیا ہے۔

اسی طرح عورت کے حسن کا پسند آنے کا بھی ذکر مختلف نصوص میں ملتا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:

﴿فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ﴾ (النساء: 3)

 (اور ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں پسند ہوں)

بعض اہل علم نے یہی مراد لی ہے کہ جو انسان کو پسند آئے اس سے نکاح کرے، کیونکہ نکاح سے مقصود اپنے آپ کو فتنہ وحرام شہوات سے محفوظ رکھنا ہے اگر ناپسند عورت سے شادی کرلی تو اسے یہ مقصد حاصل نہ ہوگا اور دین داری کا نقصان ہوسکتا ہے۔

دیگر آیات و احادیث و اہل علم کے اقوال کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔


[1] اسے الالبانی نے حسن قرار دیا ہے۔

rishta_nayk_saleh_hona_kafi_nahi