The promise of divorce does not result in divorce – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

طلاق کا وعدہ طلاق شمار نہیں ہوگا

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: فتاوى نور على الدرب>الشريط رقم [88] الوعد بالطلاق ليس طلاقا۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: بارک اللہ فیکم دوسرا سوال ہے کہتے ہیں: اگر کوئی شوہر بیوی سے ایسا کچھ کہے جو طلاق کا سا معنی رکھتا ہو مثلاً وہ اس کی تاکید کرتے ہوئے یہ تک کہے کہ عنقریب وہ اسے اس کے کاغذات بھی بھجوا دے گا، جس کا مفہوم بیوی کے نزدیک یہی تھا کہ کاغذات سے مراد طلاق کے کاغذات، تو کیا یہ طلاق شمار ہوگایا نہیں؟

شیخ:اگر شوہر کہے جلد ہی میں تمہیں طلاق کے کاغذات (طلاق نامہ) بھیجوں گا یا جلد ہی تمہیں طلاق دے دوں گا؟

سائل: اجمالی طور پر صرف کاغذات کا ذکر ہے۔

شیخ:  یا کاغذات جس سے یہ مفہوم لیا جاتا ہو کہ طلاق کے کاغذات، تو پھر یہ طلاق کا وعدہ ہوا ناکہ طلاق واقع ہوئی۔ اس طرح سے اس پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ اگر وہ چاہے اپنی اس نیت سے رجوع کرنا  تو کوئی حرج نہيں۔ البتہ اگر وہ اپنی بیوی سے کہے: میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے پھر اس کے بعد آپ کے پاس طلاق کے کاغذات پہنچ جائيں، تو پھر طلاق واقع ہوجائے گی۔

اگروہ نکاح خواں یا اس کے علاوہ کسی کے پاس طلاق نامہ لکھتا ہے جس کی کتابت قابل اعتبار مانی جاتی ہے اور اس سے وہ کہتا ہے: لکھو کہ بے شک میں نے فلانہ بنت فلاں کو طلاق دے دی ہے۔ تو یہ جو طلاق  دینے کو لکھوا گیا ہے دوسری طلاق شمار نہیں ہوگا (یعنی ایک جو بول کر دی تھی پھر اسی بولے گئے کو لکھوایا تو نئے سرے سے یہ دوسری ہوگئی ؟!ایسا نہیں ہے)  کیونکہ وہ اسی طلاق کو لکھوانا چاہ رہا ہے جو اس سے پہلے صادر ہوچکی ہے اور گزر چکی ہے، تو یہ ایک معاملہ وقوع پذیر ہوجانے کی بس خبر ہے۔لہذا یہ وہی ایک طلاق شمار ہوگی۔ کیونکہ طلاق کی خبر دینے اور نئے سرے سے طلاق دینے میں فرق ہے۔

talaq_ka_wada_talaq_shumar_nahi_hoga