Don’t confront with Fitnah Mongers – Imaam ‘Ubaidullaah bin Muhammad bin Battah Al-`Ukbaree

فتنہ بازوں کو جواب نہ دینا!

امام عبید اللہ بن محمد بن بطہ الْعُكْبَرِيُّ رحمہ اللہ م 387ھ

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية ومجانبة الفرق المذمومة (2/540-541) رقم:679 تحقيق رضا نعسان

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام عبید اللہ بن محمد بن بطہ العکبری  رحمہ اللہ آپ اپنی کتاب ’’الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية ومجانبة الفرق المذمومة (2/540-541) رقم:679تحقيق رضا نعسان‘‘ میں فرماتے ہیں :

تیسرا وہ منحوس شخص جس کا دل ٹیڑھا ہوچکا ہے، اور اس کے قدم ہدایت کی راہ سے پھسل چکے ہیں، اور بصارت اندھی ہوچکی ہے، بدعت کی نصرت کرنے میں بالکل ڈٹا ہوا ہے، اس کی کوشش  یقین میں شک پیدا کرنے کی ہے اور آپ پر صحیح دین کو فاسد کردینے کی ہے۔ پس جو کچھ ہم نے اس باب میں روایت وحکایت آپ کے لیے بیان کی وہ سب اسی کی وجہ اور سبب سے تھی۔ کیونکہ بلاشبہ آپ کبھی بھی اس کی باتوں کو روکنے اور اس کے مکر کو پھیرنے کے لیے اس سے بہترین طریقہ نہيں پاسکتے کہ اس کے جواب دینےسے رک جائيں، اور اسے مخاطب کرنے سے ہی اعراض کریں، کیونکہ اس کی آپ سے مناظرہ کرنے کی غرض یہی تو ہے کہ وہ آپ کو فتنے میں مبتلا کرے اور آپ اس کی پیروی کرنے لگ جائیں۔ تو وہ آپ کو قابو کرلے، چناچہ آپ سے جو وہ مایوس ہوا ہے اس کا غصہ نکالنے کے لیے وہ چاہتا ہے کہ آپ اپنے دین کے تعلق سے جس بات کو ناپسند کرتے ہیں وہ سنوائے، تو آپ کو چاہیے کہ اس سے اپنے کو روک کر اسے نامراد کردیں، اور اس سے تعلق توڑ کر اسے ذلیل کردیں، کیا میں نے آپ کو الحسن  رحمہ اللہ  کا قول نہیں سنایا تھا کہ جب ان سے کسی کہنے والے نے کہا کہ: اے ابو سعید! آئیں ہم دین کے متعلق بحث مباحثہ کریں۔ تو الحسن  رحمہ اللہ  نے جواب دیا:

’’جہاں تک میرا معاملہ ہے تو میں اپنے دین کے بارے میں مکمل بصیرت پر ہوں، آپ اگر اپنے دین سے گمراہ ہوچکے ہیں تو خود اسے ڈھونڈھتے پھریں‘‘۔

او رآپ کو امام مالک  رحمہ اللہ  کا قول بھی سنایا تھاکہ جب کچھ اہل اہوا ان کے پاس آئے او رمجادلہ کرنے کو کہا تو آپ نے فرمایا کہ:

’’جہاں تک میری بات ہے تو میں اپنے رب کی طرف سے واضح دین پر ہوں۔ اور آپ شک کا شکار ہیں، تو پھر اپنے جیسے کسی شک کرنے والے کے پاس جاکر بحث مباحثہ کیجئے‘‘۔

تو کیا مخالف کے جو جواب یا حجتیں ہوسکتی ہیں ان میں سے اس سے بڑھ کر سیخ پہ کرکے تپانے والی اور اس کے دل میں غیض وغصہ بھرنے میں اس حجت وجواب سے بڑھ کر کوئی ہوسکتی ہے‘‘۔

fitna_bazo_ko_jawab_na_dayna