The Correct Concept of the Hadith: “The most superior form of Jihād is to say a word of truth in the face of an oppressive ruler” – Various ‘Ulamaa

حدیث: ظالم حاکم  کے پاس کلمۂ حق کہناافضل جہاد ہے کا صحیح مفہوم

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: حکمران کی سمع و طاعت کی جو احادیث ہیں ان میں اور اس حدیث میں کہ افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنا ہے  میں ہم کس طرح جمع کریں گے؟

جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ:

ان کے مابین کوئی اختلاف نہيں، کیونکہ جب کوئی انسان ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہتا ہے  تو یہ افضل ترین جہاد میں سے ہے۔

سائل: یہ تو اس پر تنقید کرنا ہوا۔۔۔

الشیخ: ۔۔۔نہیں نہیں  نہیں! یہاں تنقید کرنے کی بات نہيں ہورہی کلمۂ حق کا مطلب ہے مثلاً کہيں یہ معصیت (گناہ) حرام ہے، کسی شخص کے لیے اسے کرنا جائز نہيں، اور اس جیسی بات۔ یہ نہيں کہ معین کرکےکہيں تم زانی ہو، تم چور ہو اور تم ایسے ایسے ہو۔ نہیں ایسے  نہیں کہیں گے۔

یا جیسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے ساتھ جو کچھ ہوا کہ وہ اعلان کرتے تھے ظالم حکمران کے پاس کہ قرآن نازل کردہ (اللہ کا کلام) ہے مخلوق نہيں ہے ، لیکن اس باریک بینی سے مذمت نہيں کرتے تھے  کہ مخاطب معین کرکے کہيں تم کہتے ہو قرآ ن مخلوق ہے۔۔۔ ایسا کبھی نہيں کیا جائے، کیونکہ یہ فائدے سے زیادہ نقصان دیتا ہے۔

[صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر والامارۃ پر تعلیق کیسٹ رقم 10]

سوال: کیا جو حدیث ہے کہ: ’’أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ‘‘([1]) (افضل جہاد ظالم حکمران کے پاس کلمۂ حق کہنا ہے)  اس شخص پر صادق آتی ہے جو میڈیا کے ذریعے حکام پر نکیر کرتا ہے؟

جواب از شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ:

نہيں، کیونکہ حدیث تو کہتی ہے ’’عِنْدَ‘‘ ظالم حکمران، اور ’’عند‘‘  کا مطلب ہے بالمشافہ اس کے پاس۔ حدیث یہ نہيں کہتی کہ اس پر منابر پر چڑھ کر انکار کیا جائے یا پھر راستوں میں کھڑے ہوکر۔ اللہ تعالی نے تو  موسیٰ وہارون علیہما الصلاۃ والسلام تک کو فرمایا:

﴿فَاْتِيٰهُ﴾ (طہ: 47)

(تو اس کے پاس جاؤ)

یعنی فرعون (جیسے سرکش اور رب ہونے کے دعویدار حکمران کے بارے میں)، اور فرمایا:

﴿فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا﴾ (طہ: 44)

(پس تم دونوں اس سے ذرا نرمی سے بات کرنا)۔

[الإعلام بكيفية تنصيب الإمام في الإسلام]


[1] یہ دو مختلف احادیث ہیں صحیح الترغیب 2308 کے الفاظ ہیں: ’’سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَرَجُلٌ قَالَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ، فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ‘‘ صحیح ترمذی 2174 کے الفاظ ہیں: ’’إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)۔

hadees_zalim_hakim_samne_kalimah_haq_buland_krna_murad