Few Etiquette of differing – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اختلاف کے کچھ آداب

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: من أدب الخلاف.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ، سائل کہتا ہے: بہت سے بھائی مخالفین کے ساتھ علماء کرام کا منہج اپناتے ہيں جیسے تحمل مزاجی، بے چینی نہ پھیلانا اور کوشش کرنا کہ مخالف  کی تشہیر نہ ہو اور غلطیوں سے خبردار بھی کردیا جائے، الا یہ کہ بعض لوگ یہ رائے نہیں رکھتے، اور ایسا کرنے والے والوں کو  اہل بدعت کے ساتھ ناجائز نرمی کرنے والا کہتے ہیں، آپ فضیلۃ الشیخ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

جواب:واجب ہے کہ ہم صحیح راستے ، منہج سلیم کے بیان، علم نافع کو نشر کرنے او رحق بات کی وصیت کرنے سے تمسک اختیار کریں۔ پس جو قبول کرلے تو الحمدللہ، اور جو اسے ترک کردے تو وہ اپنے سوا کسی کا نقصان نہيں کرتا۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ مخالف کے ساتھ حکمت استعمال کرنی چاہیے، ہوسکتا ہے وہ قبول کرلے، حکمت کا استعمال بہرحال اچھا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ﴾ (النحل: 125)

(اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت کے ساتھ دعوت دو)

اور موسی و ہارون علیہما الصلاۃ والسلام سے فرمایا:

﴿فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى﴾  (طہ: 44)

(پس اس (‌فرعون) سے بات  کرنا تو نرمی سے کرنا، اس امید پر کہ وہ نصیحت قبول کرلے  یا ڈر جائے)۔

ikhtilaaf_k_baz_adaab