Allaah defends the people of the truth through His angels for their patience on foul speech level against them

اللہ تعالی اہل حق کے خلاف  بدکلامی پر صبر کرنے کے سبب ان کا فرشتوں کے ذریعے دفاع فرماتا ہے

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: حدیث مبارک

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :

”أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يَتَعَجَّبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ؟! قَالَ: «كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ».ثُمَّ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حقٌّ: مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا قِلَّةً “([1])

ایک شخص نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھےتعجب کررہے تھے اور مسکرا رہے تھے، جب اس شخص نے بار بار ایسا کیا تو بعض باتوں کا انہوں نے بھی اسے جواب دینا شروع کردیا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  غصہ فرماکر اٹھ کھڑے ہوئے، ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے لپکے اور عرض کی یا رسول اللہ! وہ تو مجھے گالیاں دیے جارہا تھا  اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماتھے، لیکن جب میں نے اس کی بعض باتوں کا جواب دینا شروع کردیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصہ فرماکر کھڑے ہوگئے؟! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: دراصل وہاں تمہارے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کردیا گیا تھا جو تمہاری طرف سے اسے جواب دے رہا تھا، لیکن جب تم نے خود سے اس کی بعض باتوں کے جوا ب دینے شروع کیے  تو شیطان آدھمکا۔ اور میں کبھی بھی شیطان کے ساتھ تو نہيں بیٹھ سکتا۔ پھر فرمایا: اے ابو بکر! تین باتيں ہيں جو سب کی سب حق ہیں:

1- کوئی بھی بندہ جس پر ظلم زیادتی کی جائے  پھر وہ اللہ کے لیے اس سے درگزر کرے تو اللہ ضرور اپنے مدد ونصرت اس کے لیے بڑھا دے گا۔

2-  اور کوئی بھی بندہ جب رشتے ناطے جوڑنے کی غرض سے دیتے رہنے کا دروازہ کھول دےتو اللہ تعالی ضروربہت کثرت سے اسے دیتا رہے گا۔

3-  اور کوئی بھی بندہ جب مانگتے رہنے کا دروازہ کھول دیتا ہے تاکہ میں کثرت سے سمیٹتا جاؤں تو اللہ تعالی ضرور اس کے لیے مزید قلت میں ہی اضافہ فرماتا ہے۔


[1] مسند احمد 9340-9341،  شیخ البانی نے السلسلۃ الصحیحۃ 5/271 میں فرمایا: اسنادہ جید۔

ahlehaq_badkalami_sabr_farishtay_madad