The Adviser is a great blessing of Allah – Shaykh Muhammad bin Ghaalib Al-Umaree

نصیحت کرنے والا ایک بڑی نعمت ِ الہی ہے

فضیلۃ الشیخ محمد بن غالب العمری حفظہ اللہ

(تلمیذ المشایخ مقبل بن ہادی، ربیع المدخلی، عبدالمحسن العباد، عبداللہ البخاری)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: تفسير قصار المفصل سے ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اور اسی طرح ایک انسان خوش ہوتا ہے اگر اس کے پاس کوئی نصیحت کرنے والا آئے ، اس کے ذریعے سے اسے شرح صدر حاصل ہوتا ہے، اسے وہ اپنی خوش بختی تصور کرتا ہے، اور نصیحت کرنے والے کے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے۔ اور اس نصیحت سے خوش ہوتا ہے، اور اپنے ٹیڑھ پن کو صحیح کرتا، اور اپنی غلطی کی تصحیح کرتا ہے۔  اور ایک انسان کو ہمیشہ چاہیے کہ وہ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار رہے۔

کیونکہ بعض لوگ ایسے ہوتے ہيں کہ اگر ان کے پاس کوئی نصیحت کرنے والا نصیحت کرنے آئے  وہ اس کے منہ پر وہ نصیحت رد کردیتے ہیں، اور کہتے ہیں: اپنی نصیحت اپنے پاس رکھو! اپنے کام سے کام رکھو! یا: تم تو میری لغزشوں کی ٹوہ میں ہی رہتے ہو!

میرے بھائی! اگر وہ نصیحت کرنے والا  آپ کو اپنی نصیحت کرنے میں سچا ہے ، اور آپ خود اپنے بارے میں اس غلطی کو جانتے بھی ہيں تو اللہ کا شکر  ادا کرو کہ اس نے آپ کے لیے ایسا بندہ مہیاء کردیا کہ جو آپ کی اس بات کی طرف رہنمائی کررہا ہے، تو چاہیے کہ آپ اپنے ٹیڑھ پن کو صحیح کریں، اور خود سیدھے ہوجائیں۔اس نصیحت کرنے والے کے اغراص و مقاصد پر نظر نہ کریں ، کیونکہ اگر ان کا مقصد برا بھی ہوگا تو اللہ تعالی کے سپرد ہے، اور اگر اس کا مقصد اچھا ہوگا تواسے اللہ کی طرف سے اجر ملے گا، اور یہ ایک عمل صالح ہوگا۔ لہذا اس کے مقاصد کی طرف نہ دیکھو، آخر وہ  چاہتا کیا ہے؟ وہ صرف میری ہی کیوں نصیحت چاہتا ہے؟ کیونکہ آجکل بعض لوگ ایسے ہيں کہ اگر آپ انہيں نصیحت کریں گے تو  وہ آپ سے دشمنی  شروع کردیتے ہیں! اور آپ کو باقاعدہ ایک دشمن تصور کرلیتے ہیں! کیونکہ وہ کسی نصیحت کرنے والے کو چاہتے ہی نہيں!  وہ تو بس ہاں میں ہاں ملانے والے اور چاپلوسی کرنےوالے چاہتےہیں۔ حالانکہ یہ اہل ایمان کے اخلاق میں سے نہيں۔ کیونکہ بلاشبہ آپ کو نصیحت کرنے والا ”ناصح“ اللہ تعالی کی آپ پر نعمتوں میں سے ہے۔

لہذا اگر آپ کے پاس کوئی ناصح آئے  تو جان لیں کہ اللہ تعالی نے آپ پر اپنی بہت سے نعمتوں میں سے ایک نعمت نچھاور کردی۔ چناچہ اس نعمت کی شکرگزاری کرنے کی حرص کریں اور جھوٹے گمانوں کے ساتھ اسے رد نہ کریں، بلکہ اس نعمت پر بس اللہ تعالی کا  شکر ادا کریں۔ اور اپنے نفس کو ٹٹولیں  اگر واقعی آپ کے اندر وہ بات ہے جو اس نے بتائی  تو اسے صحیح کریں!  اور اگر اس میں وہ بات نہيں تو  کہیں: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہے کہ جس نے ہمیں اس سے عافیت میں رکھا ۔

naseehat_krne_wala_nemat_e_ilahi_hai