Is it allowed for us to say: Tribulations have appeared in Salafiyyah nowadays? – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

کیا ہمارے لیے یوں کہنا جائز ہے کہ: فی زمانہ سلفیت میں فتنہ برپا ہوچکا ہے؟

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابریحفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: احسن اللہ الیکم: کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم کہیں فی زمانہ سلفیت میں فتنہ برپا ہوچکا ہے؟

جواب: جہاں تک سوال ہے سلفیت کے راستے کا تو اس میں نہیں ہوا، کیونکہ وہ سلفی جو اپنےمنہج میں واقعی خالص سنت پر چلتے ہیں ان کے مابین تو کوئی چیز نہیں، اصولِ دین میں ان کے مابین کوئی اختلاف نہيں الحمدللہ۔ البتہ بعض مسائل میں یہ کبھی اختلاف کربیٹھتے ہیں جو ان میں سے بعض میں سرائیت کر گئے ہیں مثلاً بعض سلفی جو سلفیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں ردود کے قائل ہی نہیں۔ جبکہ یہ غلطی ہے اور ان کی طرف سے ایک بدعت ہے۔ ابھی میں نے آپ کے سامنے اس کے دلائل بیان کیے۔ لیکن اگر اس کا حال یہاں تک جا پہنچے کہ اپنے اس مؤقف (یعنی ردود سے پرہیز کرنا چاہیے) پر ہی وہ الولاء والبراء (دوستی ودشمنی) کی بنیاد ڈال دے تو وہ بدعت میں واقع ہوگیا۔ سنت سے منحرف ہوکر وہ بدعت میں جاپڑا۔ جیسا کہ کوئی ایسے شخص کے دفاع میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا کر جان کھپا رہا ہوجس کی غلطیاں بالکل واضح ہوں اور اس پر ایسا علمی رد کردیا گیا ہو جس کے انکار  کی مجال ہی نہیں۔ لیکن یہ اس کا دفاع کرتا ہے، اس کے لیے لڑتا جھگڑتا اور جدال کرتا ہے! یہ شخص بدعت میں واقع ہوچکا ہے۔

اور اس اختلاف میں سے اہل سنت کا بعض فروعی امور پر اختلاف کرنا ہے جو کبھی فقہی ہوتے ہیں اور کبھی عقیدے سے متعلق۔ ان فروعات میں اگر کسی کا حال یہ ہوجائے کہ وہ دوسرے کے بالکل مخالف ہوجائے یعنی برا بھلا کہے، انتہائی سخت رویے اور ڈانٹ ڈپٹ سے کام لے یا عداوت کرنے لگے تو ہم اس سے کہے گے کہ وہ بدعت میں داخل ہوگیا۔ ہم سے منحرف الگ ہوکر بدعت میں واقع ہوگیا۔

حالانکہ ہم یہ پاتے ہیں کہ سلف صالحین نے بھی عقیدے کے متعلق فروعی مسائل میں اختلاف کیا تھا جیسا کہ اہل علم یعنی اہل سنت علماء کا  اس بارے میں اختلاف ہے کہ عرش او رقلم میں سے کون پہلے ہے؟ پس ان کا ایک گروہ عرش کے پہلے ہونے کا قائل ہے تو دوسرا قلم کے پہلے ہونے کا۔ اور فریقین کے پاس اپنی دلیل موجود ہیں۔ کبھی بھی ان میں سے ایک کی طرفداری کرتے ہوئے دوسرے کو ملامت نہیں کیا جائے گا۔  البتہ اہل سنت کا اس اصل پر اجماع ہے کہ قلم اور عرش اول مخلوقات میں سے ہیں۔

عقیدے ہی کے تعلق سے دوسری مثال سلف  رضی اللہ عنہم  اور رحمہم اللہ کا اختلاف کہ کیا محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے معراج کی رات اپنے رب کا دیدار فرمایا یا نہیں؟ ان کا اسراء ومعراج پر اتفاق تو ہے لیکن اس بارے میں اختلاف ہے۔کہ آیا آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے رب کا دیدار فرمایا؟ اس پر بھی متفق ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے کلام فرمایا اور وحی فرمائی جو وحی فرمانی تھی لیکن اس میں اختلاف ہے کہ کیا انہو ں اپنے رب کو دیکھا یا نہيں۔ چناچہ عائشہ  رضی اللہ عنہا اور جو جو ان کے قول کو لیتے ہیں  رضی اللہ عنہم  یہ فرماتے ہيں کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے رب کو نہیں دیکھا بلکہ عائشہ  رضی اللہ عنہا سختی کے ساتھ رد کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ:

’’مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ‘‘([1])

(جس نے تم سے یہ کہا کہ محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے رب کا دیدار فرمایا یقینا ًاس نے جھوٹ بولا)۔

اور دوسرے الفاظ ہیں کہ فرمایا:

’’فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَى اللَّهِ الْفِرْيَةَ‘‘([2])

(یقینا ًاس نے اللہ تعالی پر بہت عظیم جھوٹ بہتان باندھا)۔

پھر انہوں نے مختلف دلائل سے استدلال فرمایا جن کا ہم اختصار کرتے ہیں اور آپ کے قول کی موافقت ابو سعید خدری  وغیرہ  رضی اللہ عنہم  نے فرمائی کہ جب رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے پوچھا گیا کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے رب کو دیکھا؟ تو فرمایا:

’’رَأَيْتُ نُورًا لَوْ ظَهَرَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ لَأَحْرَقَ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ‘‘([3])

(میں نے تو بس نور دیکھا، اگر وہ ظاہر ہوجائے تو اس کے چہرے کے جلال وجلوے  وتجلی سے تک حد نگاہ (یعنی تمام مخلوقات) جل کر خاک ہوجائیں)۔

سچ فرمایا پیارے پیغمبر  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے کہ جو اپنی خواہش نفس سے ہرگز نہیں بولتے۔

جبکہ ابن عباس  رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں:

’’إِنَّهُ رَأَى رَبَّهُ بِفُؤَادِهِ‘‘

(انہوں نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا)۔

او رکبھی یوں فرماتے:

’’مَرَّتَيْنِ‘‘([4])

(دو بار دیکھا)۔

پس اہل علم نے ان کے مابین جمع فرمایا ہے اس طرح کہ حدیث  عائشہ  رضی اللہ عنہا اور جو ان کی موافقت کرتے ہيں کو آنکھوں سے دیکھے جانے والی رؤیت کے انکار ونفی پر محمول فرمایا اور  ابن عباس  رضی اللہ عنہما  کے اثبات پر مبنی قول کو رؤیتِ قلبی  پر محمول فرمایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اپنے رب کو دل سے دیکھا آنکھوں سے نہیں۔ تو ہم دونوں فریق میں سے کسی کو نہیں دیکھتے کہ وہ دوسرے کی ایسی طرفداری کرتا ہوں کہ جو یہاں تک پہنچ جائے کہ  بس اپنے مذہب کی موافقت کی بنیاد پر دوستی ودشمنی کرنے لگے۔ اور اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔

فقہی اعتبار سے اختلاف کی مثال: کیا رکوع کے بعد کھڑے ہونے کی حالت سے سجدے میں جاتے وقت گھٹنوں کے بل جانا چاہیے کہ ہتھیلیوں کے بل؟ ایک گروہ اس طرف گیا ہے کہ گھٹنوں کے بل جانا چاہیے دوسرا اس طرف گیا ہے کہ ہتھیلیوں کے بل جانا چاہیے۔ اور ہر کوئی ان میں سے ایک دوسرے کا احترام کرتا ہے۔

اسی طرح سے میں نے آپ کو بیان کیاتھا کہ سستی سے نماز چھوڑنے والے کا حکم۔ اس بارے میں اہل علم کے دو اقوال ہیں: یا تو وہ فاسق ہے یا کافر ہے۔ اور دونوں رائے رکھنے والے ایک دوسرے پر چڑھائی نہیں کردیتے۔ یعنی کافر قرار دینے والے فاسق قرار دینے والوں کو مرجئہ کی تہمت نہیں لگاتے اور نہ فاسق قرار دینے والے کافر قرار دینے والوں کو خوارج ہونے کی تہمت لگاتے ہیں۔ بلکہ اس قسم کی باتیں تو حدادیہ فرقے کی پیداوار ہیں۔


[1] صحیح بخاری 4855۔

[2] صحیح مسلم 178۔

[3] صحیح مسلم 181 وغیرہ۔

[4] صحیح مسلم:  بَاب مَعْنَى قَوْلِ اللَّهِG ﴿وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى﴾ وَهَلْ رَأَى النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   رَبَّهُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ؟۔

salafiyyat_fitna_barpa_fee_zamana