Are the refutations against the opponents considered a waste of time and turning one away from the knowledge and Dawah? – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

کیا مخالفین پر رد کرنا وقت کا ضیاع اور علم و دعوت سے پھیر دینے والا ہے؟

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: جهود العلامة ربيع المدخلي في نقض شبهات الحزبيين (الشبهة التاسعة)۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس شبہہ میں چھپے عیب کو جرح و تعدیل کے برحق علمبردار علامہ ربیع بن ہادی المدخلی  حفظہ اللہ  نے آشکارا فرمایا، اور یہ وضاحت فرمائی کہ دین کی نصرت کے لیے مخالفین پر ردود کرنا  علم و دعوت کے جوانب میں سے ہی ایک جانب ہے، تو پھر یہ کیسے اس  سے  پھیرنے کا سبب بن سکتا  ہے؟!!

آپ  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

ردود پر مبنی کتب  علم کے جوانب میں سے ہی ایک جانب ہے۔

الغرض آپ پڑھیں نماز کے ابواب، زکوٰۃ کے ابواب، حج کےابواب، عقیدے کےابواب، معاملات کے ابواب اور اہل بدعت پر رد کے ابواب بھی پڑھیں۔۔۔

اور جو کچھ اہل اہواء اہل سنت کے بارے میں کہتے ہیں کہ:

”ان کا ردود میں مشغول  ہونا صحیح نہيں ہے“۔

ایسا نہيں، بلکہ وہ علم نافع میں مشغول رہتے ہيں پھر ضرورت کے وقت وہ اہل اہواء و بدعت  پر رد بھی کرتے ہيں۔ یہ تو ان کا شرف ہے، کیونکہ یہ اللہ تعالی، اس کی کتاب ،مسلمانوں کے آئمہ اور عوام کی نصیحت چاہنے او رخیرخواہی کے باب میں سے ہے، اور یہ ان کی طرف سے اس دین کی حمایت و حفاظت کے لیے سلف کے طریقے پر چلنا ہے۔

لازم ہے کہ مسلمان اپنی شروع زندگی ہی سے ہدایت کے راستے کو گمراہی سے الگ کرکے جانے، اور راستے کے شروع ہی سے جان لے کہ کس طرح چلنا ہے۔ لیکن اگر بس وہ یونہی پڑھتا جائے گا نہ شبہہ کو اور نہ اس کے رد کو جانے گا تو ضائع ہوجائے گا۔

ہوسکتا ہے لوگوں کی ایک تعداد علماء میں سے کسی عالم کے پاس بیٹھیں اور انہیں بدعات، ان پر تنقید اور بیان کا شعور ہی نہ ہو پس وہ بھول بھلیوں میں مبتلا ہوجائيں، علماء سلف کے منہج سے  دور بھول بھلیوں میں، میرا مطلب ہے ایسا شخص جو لوگوں کو بس خیر کی تعلیم دیتا ہے، ان کے سامنے شر، بدعات و گمراہیاں بیان نہيں کرتا، تو وہ گویا کہ  ایسی کھیتی اگا رہا ہے جسے حیوانات اور حشرات الارض کھاجاتے ہیں۔

کیونکہ ا س کی تو حفاظت نہيں کی گئی ،اور یہی اس حفاظت کا سامان ہے، بالکل جیسا کہ دیگر چیزوں کے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر استعمال کی جاتی ہيں۔ جیسا کہ امراض کے خلاف ویکسین  دی جاتی ہيں، اور بدنی امراض کے خلاف صحت سے متعلق حفاظتی  اقدامات کیے جاتے ہيں۔ اسی طرح دلی اور نفسیاتی امراض  تو اس سے بڑھ کر حفاظت اور بچاؤ کے محتاج ہيں۔

پس ہم اس کلام کے ذریعے طلاب العلم اور علماء  سے مخاطب ہیں کہ:

وہ اللہ سے ڈریں! اور اپنے علم پر عمل کریں ،اور نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، ہر کوئی اپنی طاقت بھر، لازم ہے کہ منکر کا انکار کرے([1])۔

اور شیخ  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

لوگ منحرف افکار پر مشتمل کتابیں بہت پڑھا کرتے تھے، اور مکتبات گمراہی اور بدعات پر مبنی کتب سے اٹے پڑے تھے، لیکن یہ لوگ (یعنی جو کہتے ہیں ردود میں نہ پڑو اس سے علم و دعوت سے انسان ہٹ جاتا ہے) اس وقت تو ایسا کلام نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب لوگ کتاب و سنت پر منہج سلف صالحین کے مطابق لوٹنے لگے اور کتابوں میں ایسا کچھ پایا جو انہيں بدعات و گمراہی سے خبردار کرتا ہے، تو یہ کہنے لگے: ان چیزوں میں نہ پڑو، اپنے آپ کو ان چیزو ں میں نہ کھپاؤ، علم کو نہ چھوڑو۔۔۔

حالانکہ یہ ردود تو خود علم میں سے ہے، گمراہی سے الگ کرکے ہدایت کی معرفت حاصل کرنا  خیر و شر میں تمیز کی معرفت حاصل کرنا، اللہ کی قسم! یہ تو بچاؤ حاصل کرنے والے علم میں سے ہے۔جیسا کہ حذیفہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:

’’ كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي‘‘([2])

(لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے خیر کے متعلق پوچھا کرتے تھے جبکہ میں آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں مبتلا نہ ہوجاؤ)۔

ضروری ہے کہ اہل بدعت و گمراہی کی کتب کی معرفت ہو یعنی ان کتابوں کے ذریعے جو ان پر تنقید کرتی ہيں، ورنہ تو بہت سے نوجوانوں کے ضائع ہونے کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ جب انہوں نے ایسے کتابوں کو کھو دیا کہ جو ان کی حفاظت کرتی ہیں، ان کتابوں میں نوجوانوں کا بچاؤ اور حفاظت ہے([3])۔

اور علامہ ربیع المدخلی (اللہ آپ کی حفاظت ، اور آپ پر عنایت فرمائے اور جنت کو آ  پ کا گھر اور ٹھکانہ بنائے) سے پوچھا گیا:

یا شیخ! آجکل عجیب و غریب سی حزبی بات منظر عام پر ہے  وہ یہ کہ بعض نوجوان جب حزبی جماعتوں سے تحذیر (خبردار) کرتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے: ان موضوعات پر بات نہ کرو، اور ان پر بات کرنا محض وقت کا ضیاع ہے۔۔۔اور آخر تک جو وہ باتیں کرتے ہیں۔ آپ کی ایسوں کے لیے کیا نصیحت ہے؟

شیخ  حفظہ اللہ  نے جواب دیا:

میری ان کو وہی نصیحت ہے جو میں نے اس سے پہلے کہا۔۔۔

ان جماعتوں کے پاس اگر بدعات ہیں  تو اس پر اجماعی حکم ہے کہ ان سے خبردار کرنا واجب ہے۔ اور یہ جہاد میں سے ہے۔ جماعتیں جن میں صوفیوں، رافضیوں، خارجیوں، ارجاء کی بدعات پائی جاتی ہيں ، ان میں ان بدعات میں سے چیزیں پائی جاتی ہيں جن کے خلاف سلف نے جنگ کی تھی اور ان سے خبردار کیا تھا تو واجب ہے کہ  اس بارے میں خیرخواہی چاہتے ہوئے  ان سے خبردار کریں۔ یہ ہے منہج سلف، جو چاہتا ہے تو ہم اس بارے میں اس سےاتفاق کرتے ہيں۔

اور اس کی دلیل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہیں اور اسی پر وہ سلف صالحین چلتے رہے ہيں جن کی جانب وہ منسوب ہوتا ہے۔

پس اگر جماعت اس قسم کی ہو تو اس سے خبردار کرنا واجب ہے، جائز نہيں کہ ہم خاموش رہیں، کیونکہ اگر ہم باطل پر خاموش رہيں گے تو وہ افشاء ہوجائے گا پھیل جائے گا([4])۔

اور شیخ ربیع  حفظہ اللہ  سے پوچھا گیا:

بہت سے لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اہل بدعت و اہواء پر رد کرنا اس علمی مسلک کا خاتمہ کردیتا ہے جسے ایک طالبعلم اللہ تعالی کی جانب سفر میں اختیار کرتا ہے، پس کیا یہ مفہوم صحیح ہے؟

شیخ  حفظہ اللہ  نے جواب دیا:

یہ باطل مفہوم ہے، اور یہ اہل باطل و اہل بدعت کے اسالیب میں سے ہے تاکہ وہ اہل سنت کی زبانوں کو گنگ کردیں۔

پس اہل بدعت پر انکار کرنا امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے عظیم ترین ابواب میں سے ہے۔ اس امت کو تو دیگر تمام امتوں پر امتیاز ہی اس کے سوا کسی چیز سے نہيں دیا گیا، فرمایا:

﴿كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ﴾

(آل عمران: 110)

(تم وہ سب سے بہتر امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو، اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو)

اگر کوئی دیکھتا ہے کہ بلاشبہ بدعات پھیل رہی ہیں، اور اس کے داعیان اور حاملین ہیں اور اس کا دفاع کرنے والے موجود ہیں، اور اس کے لیے اہل سنت کے خلا ف لڑنے والے پائے جاتے ہيں تو پھر وہ کیسے خاموش رہ سکتا ہے؟ اور ان لوگوں کا یہ کہنا کہ: یہ علم کا خاتمہ کردیتا ہے! تو یہ جھوٹ ہے، یہ تو خود علم میں سے ہے اور اس علم کی عملی تطبیق ہے۔

بہرحال، ضروری ہے کہ ایک طالبعلم اپنے اوقات میں سے تحصیل علم کے لیے مخصوص کرے، ضروری ہے کہ وہ طلب علم میں سنجیدہ ہو، کیونکہ خود منکرات کا سامنا بھی وہ نہیں کرسکتا مگر اسی علم کے ذریعے۔ تو وہ ہر حال میں علم حاصل کرے  ساتھ ہی اس کی تطبیق بھی کرے۔ اللہ تبارک و تعالی اس علم حاصل کرنے والے کے علم میں برکت دے گا جو اپنے علم پر عمل کرتا ہے۔ (اس کے برعکس) برکت اٹھا لی جاتی ہے جب وہ اپنے سامنے منکرات کو دیکھتا ہے اور کہتا ہے: نہیں، نہیں! ابھی تو علم ہی حاصل نہيں کیا پورا! گمراہیاں اور اہل باطل کو دیکھ رہا ہے کہ وہ اپنے باطل نعرے بلند کررہے ہیں، اور لوگوں کو اس کی طرف دعوت دے رہے ہيں اور لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں اور یہ کہتا ہے: نہيں، نہیں! میں ان چیزوں میں نہيں پڑوں گا، میں بس علم میں لگا رہوں گا یعنی اس کی تو مداہنت پر تربیت کی جارہی ہے، بارک اللہ فیک([5])۔


[1] دیکھیں: مجموعۃ کتب و رسائل الشیخ 14/266-267۔

[2] البخاری (3411)، مسلم (1847)۔

[3] سابقہ مرجع: 14/282۔

[4] سابقہ مرجع: 14/392-393۔

[5] دیکھیں رسالہ: أسئلة أبي رواحة المنهجية (گیارہواں سوال)۔

mukhalifeen_pr_rad_waqt_ziya_ilm_dawat_nuqsan