What should be our attitude towards the books and cassettes of those who went astray from the correct Manhaj? – Shaykh Muqbil bin Hadee Al-Wada’ee

صحیح منہج سے بعد میں منحرف ہوجانے والوں کی کتب و کیسٹوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا جائے؟

فضیلۃ الشیخ مقبل بن ہادی الوادعی  رحمہ اللہ  المتوفی سن 1422ھ

(محدث دیارِ یمن)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: تحفة المجيب على أسئلة الحاضر والغريب س 161۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: ایسے لوگ جو صحیح منہج پر شمار ہوتے تھے پھر بعد میں اس سے منحرف ہوگئے، کیا ہمارے لیے ان کی کیسٹیں سننا یا ان کی ایسی کتابیں پڑھنا جائز ہے جو انہو ں نے پہلے لکھی ہوں ، اسی طرح سے ان کے دروس؟

جواب: میں نہ ان کی کتابیں پڑھنے اور نہ ہی ان کی کیسٹیں سننے کی نصیحت کروں گا۔ اور مجھے شیخ الاسلام ابن تیمیہ ” کا ایک عظیم قول بہت پسند ہے کہ فرمایا:

” اگر اللہ تعالی بخاری و مسلم کو پیدا نہ بھی کرتا تو بھی اس کا دین ضائع نہ ہوتا“۔

کیونکہ خود اللہ تعالی نے اس دین کی حفاظت فرمائی ہے۔ فرمان باری تعالی ہے:

﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ (الحجر: 9)

(بے شک ہم نے ہی اس ذکر  کو نازل فرمایا ہے اور بلاشبہ ہم ہی اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں)

لہذا میں ان کی کتابوں اور کیسٹوں سے اسی طرح ان کے دروس سے دوری اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ ایسے لوگ تو خود دعوت دیے جانے کے محتاج ہيں اور اس بات کے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کریں، اور یہ کہ وہ اللہ تعالی کے حضور توبہ کریں اس بات سے کہ جو کچھ ان سے مسئلہ خلیج وغیرہ کے تعلق سے صادر ہوا۔

saheeh_manhaj_munharif_books_cassettes_rawayyah