Death in a state of Ihram

احرام کی حالت میں موت کا آنا

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: احادیث مبارکہ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میدان عرفات میں ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ٹھہرا ہوا تھا کہ اپنی اونٹنی سے گر پڑا اور اس اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

’’اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ ثَوْبَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُحَنِّطُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي‘‘ ([1])

(پانی اور بیری کے پتوں سے اسے غسل دو اور اسے دو کپڑوں میں یا فرمایا: احرام ہی کے دو کپڑوں کا کفن دو،  لیکن خوشبو نہ لگانا، نہ اس کا سر چھپانا کیونکہ اللہ تعالیٰ بروز قیامت اسے لبیک کہتے ہوئے ہی اٹھائے گا)۔

ابو ہریرہ   رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’مَنْ خَرَجَ حَاجًّا فَمَاتَ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْحَاجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَمَاتَ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْمُعْتَمِرِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَاتَ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ الْغَازِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ‘‘ ([2])

(جو حج کے لیے حاجی نکلا اور فوت ہوگیا تو اللہ تعالی اس کے لیے تاقیات حاجیوں کا اجر لکھ دیتا ہے، اور جو عمرے کے لیے معتمر نکلا اور فوت ہوگیا، تو اللہ تعالی اس کے لیے تاقیامت معتمرین والا اجر لکھ دیتا ہے، اور جو فی سبیل اللہ (جہاد) پر غازی(مجاہد)  نکلا اور فوت ہوگیا، تو اللہ تعالی اس کے لیے تاقیامت غازیوں والا اجر لکھ دیتا ہے)۔

[1] صحیح بخاری 1849، صحیح مسلم 1206۔

[2] مسند ابو یعلیٰ 6357،  السلسلۃ الصحیحۃ 2553۔

ihraam_halat_moat_ana