The deception of Jamat-e-Islami and Ikhwaan-ul-Muslimeen in the name of implementation of Shari’ah!

اخوان المسلمین اور جماعت اسلامی کا نفاذ شریعت کے نام پر دھوکہ دینا!

جمع وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یہ بات تو پر ہر ایک پر عیاں ہیں کہ یہ دینی سیاسی جماعتیں محض اسلام پسندی ونفاذ  شریعت کا نعرہ لگاتی ہيں لیکن اصل مقصد کرسی کا حصول ہوتا ہے، جب انہیں کہیں اقتدار ملتا بھی ہے یا اس کے علاوہ بھی شریعت مخالف عقائد، مناہج، مسائل، مواقف اور بیانات جاری کرتی رہتی ہیں([1])۔

اب اخوان المسلمین یا جماعت اسلامی  ہی کو لے لیں جن کے نزدیک  عقیدے کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ شرکیہ کفریہ عقائد تک رکھنے والوں کے ساتھ مل کر حکومت مخالفت کرتے رہتے ہیں اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر واضح طور پر غیرمسلموں جیسے یہود و نصاریٰ تک کو کہتے ہيں کہ ہمارے ان کے عقائد میں کوئی فرق ۔

اخوان المسلمین کے بانی حسن البنا کتاب: ’’الاخوان المسلمین احداث صنعت التاریخ‘‘ (اخوان المسلمین: تاریخ ساز واقعات) تالیف: محمود عبدالحلیم، جزء اول، صحیفہ: (409) میں کہتے ہیں:

’’ہمارا یہود سے کوئی دینی بنیاد پر جھگڑا نہیں، کیونکہ قرآن کریم نے تو ان سے میل ملاپ اور دوستی کی ترغیب دی ہے‘‘([2])۔

 خود مصر میں اخوان المسلمین کے لیڈر محمد مرسی جب برسراقتدار آئے تو اپنا نائب ہی کسی نصرانی کو بنا رکھا تھا۔بلکہ وہ اقرار کرتے ہیں ٹی وی انٹرویو میں کہ نصاریٰ اور مسلمانوں کے عقیدے میں کوئی اختلاف نہیں۔ اور ان لوگوں کا نصاریٰ کی کرسمس میں شرکت کرنا، کیک کاٹنا اور مبارکبادی دینا   تو جانی پہچانی بات ہے، حالانکہ نصاریٰ  کا عقیدہ یہ  ہے کہ اللہ تعالی کا بیٹا عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام پیدا ہوا نعوذ باللہ من ذلک([3])!

جہاں تک اسلامی حدود کا تعلق ہے جس کا صرف نام لے کر اپنےآپ کو دوسری جماعتوں سے ممتاز تصور کرتے ہیں خود اس کے متعلق یہ حال ہےکہ:

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ  دین اسلام معاشروں کے لیے رحمت ہونے کے تعلق سے انسانی بنیادی ضروریات کے تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے ان حدود کا ذکر فرماتے ہيں جو اس کی حفاظت کی ضامن ہیں جیسے دین، عقل، عزت، جان و مال کی حفاظت۔۔۔

(اسی میں سے یہ بھی ہے کہ) جو لوگوں کے مالوں میں زیادتی کرے گا چوری چکاری کے ذریعے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا تاکہ لوگ اپنے مالوں کے بارے میں امن سے رہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ﴾(المائدۃ: 38)

(اور جو چوری کرنے والا اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ، اس کی سزا  کے لیے جو ان دونوں نے کمایا، اللہ کی طرف سے بطور عبرت ، اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے)

اگر ایک بھی ہاتھ کٹ جائے تو لوگوں کے مالوں کی حفاظت ہوجاتی ہے۔ اسی لیے آپ پاتے ہیں کہ جن ممالک میں حدود کا نفاذ ہوتا ہے وہ اپنے دین، جان، مال و عزتوں کے تعلق سے امن و اطمینان سے رہتے ہیں۔ جبکہ جن ممالک میں حدود کا نفاذ نہیں ہوتا تو یہ بات معلوم ہے کہ انہیں  پھر افراتفری، بہیمانہ   حرکات، بے چینی و خوف   کی فضاء نے تاریک بنا رکھا ہوتا ہے۔اھ([4])

مگر  ان کے لیڈر محمد مرسی مصری کا حال دیکھیں کہ اپنی حکومت میں آنے سے پہلے ہی یہ کہتے تھے کہ چور کے ہاتھ کاٹنا اور زانی کو کوڑے لگانا شریعت میں سے نہیں۔ اپنے صدر بننے اور انتخابات میں منتخب ہونے سے پہلے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہاتھ کاٹنا یاکوڑے لگانا شریعت میں سے نہیں۔ یہ تو اجتہادی امور ہیں۔ یہ بات  بالکل عام ہے اور یوٹیوب وغیرہ پر ویڈیوز دیکھے جاسکتے ہيں۔

ہوبہو یہی بات اخوان المسلمین کے پاکستانی رخ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب نے اپنے 29 ستمبر 2015ع کے بیان میں کی کہ:

’’ہاتھ کاٹنا شریعت کا نام نہيں بلکہ اسلام رحمت، برکت اور نعمت ہے، بعض لوگ شریعت کی غلط تشریح کرکے اسلام کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں‘‘۔ (روزنامہ اساس ، المشرق (پشاور) وغیرہ)۔

لہذا اسلام پسند عوام ان کے جھوٹے اور پرفریب نعروں میں نہ آئیں، یہ بالکل بھی دین اور عوام کے خیرخواہ نہيں۔ اللہ تعالی سب کو ان کے شرسے محفوظ فرمائے۔ اور بھٹکے ہوؤں کو ہدایت عطاء فرمائے۔


[1] تفصیل کے لیے پڑھیں  ہماری ویب سائٹ پر  شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ کے مقالات’’ خوارج کا دنیا، مال و کرسی کی چاہت کو دین داری اور دینی غیرت کا رنگ دینا‘‘اور’’ توحید کے تعلق سے دینی سیاسی جماعتوں کی دھوکہ بازی‘‘۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] اس کے تفصیلی رد کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر مقالہ ’’ کیا ہمارا یہود سے کسی دینی بنیاد پر جھگڑا نہیں؟!    ‘‘– شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[3] تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر ’’ کرسمس میں شرکت یا کسی طور پر معاونت کرنے کا حکم؟ ‘‘ – مختلف علماء کرام ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[4] شرح نواقض الاسلام۔

jamat_islami_ikhwanees_shariat_nifaz_dhoka