Are the governments of Muawiyyah (radiAllaho anhu) and Umar bin Abdul Azeez (rahimaullaah) counted among rightly guided Caliphs? – Various ‘Ulamaa

کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  کی خلافت خلافت راشدہ میں داخل ہیں؟

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: جو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  کو پانچواں خلیفۂ راشد  کہتا ہے، حالانکہ بلاشبہ ۔۔۔معاویہرضی اللہ عنہ ؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ :

بعض انہيں کہتے ہیں، اور وہ ان شاء اللہ خلیفہ راشد ہیں ۔ لیکن خلفاء راشدین(باقاعدہ جو نصوص سے مراد ہیں) چار ہيں، مگر وہ ایک خلیفہ راشد ہیں(صفاتی اعتبار سے)، بلکہ ہر عادل امام کو خلیفہ راشد کہا جاتا ہے، ہر نیک صالح امام خلیفہ راشد ہی کہلاتا ہے۔

سوال: علماء کرام کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ بے شک معاویہ رضی اللہ عنہ  ان سے بہتر ہیں؟

شیخ ابن باز : معاویہ رضی اللہ عنہ  تو صحابی ہیں، بلاشبہ معاویہ رضی اللہ عنہ  ان سے افضل ہیں، صحابہ میں سے ہیں([1])۔

سوال: فضیلۃ الشیخ کیا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  خلفائے راشدین میں شمار ہوں گے، اور کیا ان کی سنت کو لیا جائے گا؟

جواب از شیخ محمد بن صالح العثیمینرحمہ اللہ :

بعض علماء کی رائے ہے کہ وہ خلفائے راشدین میں سے ہيں، لیکن خلیفہ راشد اپنے سیرت میں، البتہ  ان کے قول یا طرز عمل کو خلفائے کی طرح شمار نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ خلفائے اربعہ تو صحابہ میں سے ہیں۔ اور صحابی کا قول حجت ہوتا ہے خصوصاً ان چار جیسوں کا۔لیکن ان کا قول ایسے ہے جیسے اکابرین تابعین کا قول ہو۔ہاں اپنی سیرت اور طرز عمل میں بلاشبہ آپ بہت حریص تھے کہ خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کریں([2])۔

شیخ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ  بھی: ”خلافت تیس سال ہوگی پھر بعد میں ملوکیت ۔۔۔“والی روایات کی تخریج کرنے کے بعد بعض لوگوں کی طرف سے دو احادیث میں تعارض کا وہم بیان کرتے کہ:

ایک میں ہے کہ نبوت کی خلافت تیس سال ہوگی۔۔۔

دوسری میں ہے کہ  بارہ خلیفہ ہوں گے اور سب قریش میں سے ہوں گے، جو کہ صحیح مسلم کتاب الامارۃ میں ہے۔

فرماتے ہیں:

دوسرے خلفاء کا ان کے بعد آنا اس کے منافی نہيں ہے  کیونکہ وہ نبوت کے خلفاء نہيں ہیں، اور اس حدیث سے یہی مراد ہیں اور کوئی نہيں،  جیسا کہ واضح ہے۔ اور اس کی مزید وضاحت شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  کے کلام سے ہوجاتی ہے کہ فرمایا:

خلفائے راشدین کے بعد آنے والوں کو خلفاء کہنا جائز ہے اگرچہ وہ بادشاہ ہی ہوں، لیکن وہ انبیاء کے خلفاء نہ ہوں گے اس دلیل کی بنیاد پر جو کہ امام بخاری و مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهُ نَبِيٌّ، وَإِنَّهُ لاَ نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَتَكُونُ خُلَفَاءُ فَتَكْثُرُ، قَالُوا: وَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ وَأَعْطُوهُمْ حَقَّهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ‘‘([3])

(بنو اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کرامo کیا کرتے تھے، جب بھی کوئی نبی فوت ہوتا تھا تو دوسرا نبی اس کی جگہ آ جاتا،اور بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں، ہاں، خلفاء ہوں گے پس  بہت زیادہ ہوں گے،صحابہ کرام نے عرض کی کہ :آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا: اس حکمران کی بیعت سے وفا کرو جس کی سب سے پہلے بیعت کی ہےاور انہیں ان کا حق دو ،کیونکہ بے شک خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان سے عنقریب سوال کرنے والا ہے ان کی رعیت کے متعلق)۔

پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ فرمانا کہ:  ” فَتَكْثُرُ ‘‘ (پس  بہت زیادہ ہوں گے) دلیل ہے کہ وہ ان خلفائے راشدین کے علاوہ ہو ں گے، کیونکہ یہ تو بہت زیادہ نہیں تھے۔

اسی طرح سے یہ فرمانا کہ: ”فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ ‘‘  (اس حکمران کی بیعت سے وفا کرو جس کی سب سے پہلے بیعت کی ہے) دلیل ہےکہ ان میں اختلاف ہوگا، جبکہ خلفائے راشدین نے اختلاف نہيں کیا۔اھ([4])

سوال: کیا عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ  کو خلیفہ کا لقب دینا معاویہ رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر قدغن تصور ہوگا، حالانکہ  یہ بات معلوم ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ  تو عمر رحمہ اللہ  سے افضل ہیں؟

جواب از شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ :

انہیں خلیفہ کہنے کو  معاویہ رضی اللہ عنہ  کی خلافت پر قدغن نہیں کہا جائے گا۔کیونکہ خود معاویہ رضی اللہ عنہ  بھی تو خلیفہ ہی تھے۔ جیسا کہ میں نے حدیث بتائی  جو وارد ہوئی ہے کہ:

” لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمْ اثْنَا عَشَرَ خليفة “([5])

(لوگوں کا معاملہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ بارہ خلیفہ ان پر حکومت کریں گے)۔

اور یہ خلفاء جو راشدون   ہیں ، آٹھ تو ان میں سے بنی امیہ میں سے تھے، جن میں سے سب سے پہلے معاویہ رضی اللہ عنہ  تھے، جو ا ن میں سے سب سے بہترین اور افضل ترین تھے۔ جیسا کہ طحاویہ کے شارح نے فرمایا:

’’مسلمانوں کے سب سے پہلے بادشاہ معاویہ رضی اللہ عنہ   تھے اور وہ تمام مسلمان بادشاہوں سے بہتر تھے“۔

امام ذہبی نے اپنی کتاب ’’السیر “ میں فرمایا:

’’اسلام کے بادشاہ تھے“۔

یعنی اسلام میں پہلے بادشاہ تھے([6])۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   نے فرمایا:

’’ خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ “([7])

(خلافت علی منہاج النبوۃ (نبوت کی خلافت) تیس سال ہے، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا، دے گا)۔

پس اللہ تعالی نے اپنا ملک معاویہ  رضی اللہ عنہ  کو دے دیا۔اور آپ خلافت پر 20 سال متمکن رہے۔ سن 41ھ سے لے کر 60ھ تک([8])۔

شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ  حفظہ اللہ  حدیث ’’وسُنَّةِ الْخُلفَاء الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيين“  کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الْخُلفَاء وہ ہیں جو امور کی ولایت میں مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے انہی کے طریقے کے مطابق جانشین بنے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے بعد خلفائے راشدین  چار ہیں: ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان ، پھر علی رضی اللہ عنہم  اور انہیں راشدون کا وصف دیا گیا ہے، کیونکہ وہ رشد کے ساتھ قائم رہے۔ اور رشد کا معنی ہے  حق کا علم ہونا اور اس پر عمل کرنا۔ چناچہ انہيں راشدین کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حق کا علم رکھتے تھے اور اس پر عمل پیرا بھی ہوئے۔  اور یہ صفت ان چار کے علاوہ کسی میں نہیں ۔ جبکہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  کے بارے میں اختلاف ہے۔ کیا انہیں خلفائے راشدین میں شمار کیا جائے گا یا نہيں؟ جس بات پر بہت سے اہل علم نے نص بیان کی ہے جیسے امام احمد رحمہ اللہ  وغیرہ وہ یہی ہے کہ یہ خلفائے راشدین میں سے ہيں۔ کیونکہ آپ نے بھی حق کا علم رکھا اور اس پر عمل کیا۔ جبکہ عام طور پر حکمران ایسے نہيں تھے۔ بلکہ ان میں سے بعض ایسے تھے کہ جو اصلاً ہی حق کو جانتے ہی نہ تھے، اور بعض ایسے کہ حق کو جانتے تو تھے لیکن اپنے خواہشات و اہواء  اور دیگر میلانات کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔ پس جنہیں یہ وصف دیا جاتا ہے کہ وہ خلفائے راشدین ہیں تو وہ یہی چار اصحاب محمد بن عبداللہ علیہ الصلاۃ والسلام ہيں، اسی طرح عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ بھی ایک خلیفۂ راشد ہیں۔

یہاں ایک مقولے پر تنبیہ کرنا چاہوں گا جو بسا اوقات بعض قلمکاروں  کی زبان زد عام ہوتا ہے حالانکہ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے مقام و مرتبے کے لحاظ سے غیر مناسب ہے، اسی طرح جو کچھ ہم  اہل سنت والجماعت کے عقائد سے سمجھتے ہيں بالجملہ ان عقائد  کے ساتھ بھی  غیر متفق ہے، اور وہ ان کا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  کے تعلق سے یہ قول ہے کہ وہ پانچویں خلیفۂ راشد تھے۔ اور یہ ٹھیک بات نہیں ہے، کیونکہ بلاشبہ معاویہ رضی اللہ عنہ  عمر بن عبدالعزیز سے مقام و مرتبے میں بہت بلند ہیں۔ اگر واقعی کوئی پانچواں خلیفۂ راشد ہوتا تو وہ معاویہ رضی اللہ عنہ  ہوتے۔ کیونکہ وہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  سے زیادہ اس وصف کے مستحق تھے۔ لیکن ہاں عمر رحمہ اللہ  کو اہل علم کی ایک جماعت نے خلیفۂ راشد کا وصف دیا ہے۔ اسی طرح معاویہ رضی اللہ عنہ  بھی اس طور پر کہ سب ان پر جمع ہوگئے تھے خلیفۂ راشد ہيں۔ لیکن  جب انہوں نے امر کو ملوکیت کردیا اور اپنے بیٹے یزید کو ولئ عہد بنادیا تو اہل علم انہیں ملک (بادشاہ) راشد سے تعبیر کرتے ہیں، اور علی الاطلاق تمام مسلمان بادشاہوں سے بہترین، اور آپ خلیفہ بھی تھے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ  اپنے سے پہلے خلیفہ کے برحق جانشین بنے۔لیکن خلفاء اربعہ کا پانچواں کوئی نہيں۔ اگر کہا جاتا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ  خلیفہ راشد تھے تو یہ حق بات ہے لیکن یہ نہيں کہا جائے گا کہ وہ خلفائے راشدین میں سے پانچویں تھے۔ کیونکہ بلاشبہ معاویہ رضی اللہ عنہ  ان سے زیادہ اس وصف کا حق رکھتے ہيں، اگر یہ وصف دینا روا ہوتا۔

چناچہ خلفاء چار ہيں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’تیس سال نبوت والی خلافت رہے گی“۔

البتہ ان کے بعد جنہیں اس سے موصوف کیا جاتا ہے تو وہ امراء و حکمرانوں کی صفات کے پیش نظر محبوب قرار دیے جانے کے باب میں سے ہوتا ہے([9])۔

سوال: جو خلفائے اسلام میں سے ہیں جیسے معاویہ بن ابی سفیان (ان سے ان کے والد اور والدہ سے اللہ راضی ہو خواہ رافضیوں و ناصبیوں میں سے جسے غصہ ہونا ہے تو ہو)   یا جو ان کے بعد ہوئے تابعین میں سے  جیسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ، کیا انہيں خلفائے راشدین کہا جائے گا؟

جواب از شیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ :

ہم کہتے ہیں کہ یہ خلفائے راشدین ہیں لیکن  مزید نظر و تحقیق کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہيں خلفائے  راشدین کا لقب نہيں دیا جاتا مگر کسی قرینے کے ساتھ تاکہ چار خلفاء سے امتیاز ہوسکے، پس یوں کہا جاتا ہے کہ: فلاں خلیفۂ راشد ہے یعنی چار کو ذکر کرنے کے بعد، یہ بھی راشد ہے اور وہ راشدوں ہیں رضی اللہ عنہم  لیکن اس معنی میں نہيں  جس میں باقاعدہ چار کے متعلق حدیث میں نص بیان ہوئی ہے اور اس پر اجماع ہوا ہے۔

پس جو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور عمر بن عبدالعزیز بن مروان الاموی رحمہ اللہ  ہیں ان کے رشد پر ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن انہیں عادل، فاضل اور خیر پر ہونے والا اچھا خلیفہ  اور ان کی خلافت میں رشد پائی جاتی ہے اور اس طرح سے کہا جاتا ہے۔ لیکن انہیں باقاعدہ ان کے ضمن میں  شمار کیا جائے  کہ اس طرح کہ انہیں ملاکر پورے چھ کیے جائيں تو یہ درست نہيں ہے۔

یہ وہ آخری قول  ہے جس کا اب میں قائل ہوں۔ جسے میرا پہلا قول پہنچا ہو اور وہ ابھی مجھے نہیں سن رہا  تو اسے میرا یہ دوسرا قول پہنچا دیا جائے۔

معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ  کے تعلق سے امام الذہبی رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

’’ هو خير ملوك الدنيا “

(پوری دنیا کے بادشاہوں میں سے سب سے بہتر)۔

شاید اس لیے کیونکہ وہ سب سے پہلے خلیفہ تھے جنہیں خلیفہ صحابی مَلِک(یعنی بادشاہ)  کہا گیا، کیوں؟ کیونکہ  انہوں نے سب سے پہلے ایسی مملکت شروع کی جس میں ولئ عہدی تھی([10])۔


[1] هل عمر بن عبدالعزيز خامس الخلفاء الراشدين۔

[2] عمر بن عبد العزيز هل يعتبر من الخلفاء الراشدين، وهل يؤخذ بسنته؟ – لقاء الباب المفتوح 168۔

[3] رواه البخاري، كتاب أحاديث الأنبياء – باب ماذكر عن بني إسرائيل، حديث رقم (3455) ومسلم، كتاب الإمارة – باب وجوب الوفاء بيعة الخلفاء الأول فالأول، حديث رقم (1842)۔

[4] السلسلة الصحيحة 1 / 742۔

[5] یہ حدیث بخاری مسلم وغیرہ میں مختلف الفاظ کے ساتھ موجود ہے۔

[6] بلکہ جب ابن المبارک رحمہ اللہ  سے پوچھا گیا کہ: معاویہ رضی اللہ عنہ  افضل تھے یا عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ ؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے ساتھ ان کی ناک میں پڑنے والی دھول تک عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ  سے بہتر اور افضل ہے۔ خرّج الحافظ ابن عساكر في تاريخ دمشق (59/208)۔

[7] اسے امام ابو داود نے اپنی سنن 4647 میں روایت کیا ہے اور شیخ البانی اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

[8] شرح سنن ابی داود 328 کے شروع میں سوال و جواب۔

[9] شرح اربعین النوویہ۔

[10] ویب سائٹ میراث الانبیاء: هل خلافة معاوية رضي الله عنه وعمر بن عبد العزيز رحمه الله تدخل في الخلافة الراشدة؟۔

kiya_muawiyyah_umar_bin_abdulazeez_khilafat_rashidah