Summary of ‘Umada-tul-Ahkaam (Kitaab-ut-Taharah)

خلاصہ کتاب الطہارۃ (عمدۃ الاحکام)

تلخیص وترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام للشيخ محمد بن صالح العثيمين۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

1- دین اسلام انسان کی  ظاہری وباطنی صفائی ستھرائی، پاکیزگی اور طہارت کا بہت اہتمام کرتا ہے۔

2- تمام اعمال کی صحت اور ان پر جزاء کا دارومدار نیتوں پر ہے، طہارت  کے لیے نیت ضروری ہے جو عادت اور عبادت میں فرق کرتی ہے جیسے غسل جنابت اور غسل فرحت میں فرق۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بدعت ہے۔

3- وضوء کے بغیر نماز قبول نہیں۔

4- وضوء میں اعضاء کو اچھی طرح سے دھونا چاہیے، کوتاہی کرنے والے کے لیے سخت وعید ہے۔

5- ڈھیلوں سے استنجاء کرنے والے کو چاہیے کہ طاق عدد استعمال کرے۔

6- رات کو سو کر اٹھنے کے بعد کسی بھی برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تین بار دھونا چاہیے۔

7- ایک جگہ ٹھہرا ہوا پانی جو پیشاب یا غسل کرنے سے متاثر ہوجائے اس میں پیشاب اور غسل جنابت کرنا منع ہے۔

8- کتے کا لعاب اور جو کچھ اس کے بدن سے نکلے جیسے پیشاب وپسینہ وغیرہ نجس ہے، اگر کتا کسی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے آٹھ مرتبہ دھونا ہے جس میں سے پہلی بار مٹی سے اور باقی مرتبہ پانی سے دھویا جائے گا۔

9- مختلف احادیث کی روشنی میں وضوء کا عمومی طریقہ: [دیگر کتب حدیث میں وضوء سے پہلے بسم اللہ پڑھنا ثابت ہے]

سب سے پہلے دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھونا۔

 چلو بھر کر اسی ایک چلو سے منہ میں پانی ڈال کر کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑنا، ایسا تین مرتبہ کرنا۔

مکمل چہرہ پیشانی تا ٹھوڑی اور کانوں تک  تین مرتبہ دھونا اور داڑھی کا خلال کرنا۔

دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھونا۔

ہاتھوں کو بھیگو کرسر کا مسح کرنا پیشانی کے بال جہاں سے شروع ہوتے ہيں وہاں سے لے کر گدی تک، پھر وہاں سے واپس اس جگہ تک جہاں سے شروع کیا تھا، ایک مرتبہ۔ پھر انہی بھیگے ہاتھوں سے کان کے اندر ونی حصے میں انگی سے اور باہر انگوٹھے سے مسح کرنا، ایک مرتبہ۔

دونوں پیروں کو ٹخنے تک تین مرتبہ دھونا۔

اسی ترتیب کو برقرار رکھنا۔

 [وضوء کے بعد یہ دعاء بھی دیگر کتب حدیث میں ثابت ہے:

’’أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ‘‘

(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد e اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ ! مجھے بہت زیادہ توبہ کرنے والوں میں سے بنادے، اور مجھے بہت زیادہ پاک رہنے والوں میں سے بنادے)]۔

10- مسح کے علاوہ دیگر اعضاء کا ایک ایک یا دو دو یا تین تین بار دھونا ثابت ہے۔

11- وضوء سمیت ہر خیر وطہارت کے کام میں دائیں سے شروع کرنا سنت ہے۔

12- امت محمدیہ e کے وضوء کے اعضاء بروز قیامت چمک رہے ہوں گے۔

13- قضائے حاجت کے لیے جانے سے پہلے یہ مسنون دعاء پڑھنی چاہیے:

’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ‘‘

(اے اللہ! بے شک میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں)۔

14- قضائے حاجت کرتے وقت کعبۃ اللہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے اگر کھلی فضاء میں ہوں، اور اگر عمارت وچاردیواری میں ہوں تو پیٹھ کرنا جائز ہے البتہ منہ کرنا منع ہے۔

15- ڈھیلوں اورپانی  دونوں ہی سے استنجاء کرنا جائز ہے۔

16- قضائے حاجت کرتے وقت دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو ہاتھ نہيں لگانا چاہیے۔

17- پینے کے برتن میں سانس  یا پھونک نہیں مارنی چاہیے۔

18- پیشاب کے قطروں سے نہیں بچنے پر عذاب قبر ہوتا ہے۔

19- مسواک ہر وقت اور خصوصاً نماز کے لیے کرنے کی شدید تاکید۔

20- موزوں پر مسح کرنا سنت سے ثابت ہےبشرطیکہ کے وضوء کرکے پہنے گئے ہوں، قضائے حاجت کی صورت میں بھی انہیں اتارا نہيں جائے گا البتہ غسل جنابت کے لیے اتارنا ضروری ہے۔ مسح کی مدت مقیم کے لیے ایک دن رات پہلی بار مسح سے لے کر،  جبکہ مسافر کے لیے تین دن ورات۔

21- مذی جو شہوت کے وقت شفاف سائل مادہ شرمگاہ سے خارج ہوتا ہےآنے پر شرمگاہ کو دھونا اور وضوء کرنا ضروری ہے البتہ غسل واجب نہيں۔

22- دبر سے ہواخارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر نماز میں ہوا خارج ہونے کا خیال آئے تو اس شیطانی وسوسے پر دھیان نہ دیا جائے جب تک یقین نہ ہوجائے جیسے آواز یا بو محسوس کرنااور کوئی بھی یقینی ذریعہ۔

23- شیرخوار بچہ اگر کپڑے پر پیشاب کردے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارے جائيں گے، باقاعدہ دھونے کی ضرورت نہیں۔

24- زمین پر اگر پیشاب کردیا جائے تو اس پر پانی کا ڈول بہا دینے سے وہ جگہ پاک ہوجاتی ہے۔

25- پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کروانا، زیر ناف بال اکھاڑنا، مونچھیں پست کرنا، ناخن تراشنا اور بغل کے بال نوچنا۔

26- جنابت سے ایک مومن خود نجس  وپلید نہیں ہوجاتا ۔

27- غسل جنابت کا مسنون طریقہ مختلف احادیث کی روشنی میں:

اپنی شرمگاہ کو دھونا۔

ہتھیلیوں کودھونا۔

نماز کی طرح  کا پورا وضوء کرنا۔

پانی کے ساتھ سر کی بالوں کی جڑوں تک خلال کرنا۔

سر پر تین بار پانی بہانا۔

پھر پورے بدن پر پانی بہانا۔

اور کبھی شروع میں پورا وضوء کرتے ہوئے پیروں کو چھوڑ دینا اور مکمل نہا کر آخر میں الگ جگہ کھڑے ہوکر پیروں کو دھونا بھی ثابت ہے۔

28- جنابت کی حالت میں سونا جائز ہے البتہ وضوء کرکے سونا افضل ہے۔

29- عورت مرد جسے بھی احتلام ہو اور وہ تری دیکھے تو غسل واجب ہے، تری نہ دیکھے تو غسل واجب نہیں۔

30- تر منی اگر کپڑے پر لگی تو ہو اسے دھو لیا جائے، اور خشک ہو تو کھرچ لیا جائے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔

31- جماع کرنے سے غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔

32- غسل کرتے ہوئے بھی بقدر ضرورت کم سے کم پانی استعمال کیا جانا چاہیے۔

33- وہ انسان جسے پانی میسر نہ ہو یا اسے استعمال کرنے میں عذر لاحق ہو تو وہ تیمم کرسکتا ہے، وضوء کی جگہ بھی اور غسل کی جگہ بھی۔

34- تیمم کا طریقہ:

مٹی پر ایک بار ہاتھ مار کر  دونوں ہتھیلیوں کو آگے پیچھے سے آپس میں ملنا۔

چہرے پر مسح کرنا۔

35- ساری کی ساری زمین ہی پاک ہے اور تیمم کے لائق ہے۔

36- استحاضہ کی حالت میں عورت اپنے حیض کے ایام کا حساب کرے پھر طہارت حاصل کرکے اس سے اوپر جب تک خون جاری رہے نماز پڑھتی رہے گی، کیونکہ وہ حیض کا نہیں استحاضہ کا خون ہے، البتہ  اسے ہر نماز کے لیے تازہ وضوء کرنا ہے۔

37- حائضہ کے ساتھ نہایا جاسکتا ہے، حائضہ عورت کسی کو ہاتھ لگا سکتی ہے،  اسی طرح سے اسے چھوا جاسکتا ہے،  بلکہ مقام حیض کے علاوہ مباشرت کی جاسکتی ہے، اور اسے قرآن تک سنایا جاسکتا ہے۔

38- حائضہ نماز کی قضاء نہیں پڑھے گی البتہ روزے کی قضاء رکھے گی۔

[تفصیلی دلائل جاننے کے لیے ہماری ویب سائٹ پر عمدۃ الاحکام کتاب الطہارۃ کی شرح از شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ سماعت فرمائيں]

khulasa_kitab_ut_tahara_umdatul_ahkam