Maintain ibadah & obedience to Allah even after Ramadan – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

رمضان کے بعد بھی اللہ کی عبادت و اطاعت جاری و ساری رہے

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: حق الله لا ينتهي بانتهاء رمضان۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اگر رمضان کا مہینہ ختم ہوتا ہے تو بلاشبہ اللہ کا حق تو ختم نہیں ہوتا سوائے یہ کہ انسان کو موت آجائے:

﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ﴾ (الحجر:  99)

(اور اپنے رب کی عبادت کرو، یہاں تک کہ تمہارے پاس یقین (موت) آجائے)

اللہ ہی رمضان کا رب ہے، وہی شوال کا رب ہے اور سال کے تمام مہینوں کا رب ہے۔ پس تمام مہینوں میں اللہ تعالی سے ڈریں ، اپنے دین کی حفاظت کریں، اپنی پوری زندگی میں  اپنے اس دین کی حفاظت کرتے رہیں کیونکہ یہی آپ کا  اللہ تعالی کے پاس اصل سرمایہ ہے۔یہی آپ کے لیے جہنم کی آگ سے نجات ہے، پس اپنے دین کی حفاظت کریں۔اور اس سے تمام مہینوں اور تمام اوقات میں تمسک اختیار کیے رکھیں۔

بے شک ماہ رمضان سے متصل شکر کیا جاتا ہے، استغفار کیا جاتا ہے، اللہ کے فضل و کرم پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے ہمیں اس کے روزوں اور قیام کی توفیق دی۔ اور ہم اس نعمت پر خوش ہوتے ہيں ناکہ اس ماہ کے ختم ہوجانے پر خوش ہوتےہیں۔ ہم تو صرف اسی لیے خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے اللہ کی عبادت کو اس میں مکمل کیا ہے، اسی لیے خوش ہوتے ہیں:

﴿قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوْا  ۭ ھُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ﴾ (یونس: 58)

(کہہ دو (یہ) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ہی سے ہے، سو اسی پر  چاہیے کہ وہ خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جوکچھ  وہ جمع کرتے ہیں)

کثرت لہو و لعب  سے بچیں، اور  غفلت  کی کثرت اور اطاعت الہی سے روگردانی سےبھی  بچیں۔ کیونکہ شیطان اس بات کی حرص کرتا ہے کہ آپ کے اعمال کو اکارت کردے، اور جو کچھ خیر آپ نے کی ان سب کو مٹا دے۔ پس وہ بعض لوگوں کے لیے اس بات کو مزین کردیتا ہے کہ  جب رمضان ختم ہوجاتا ہے تو انسان بالکل آزاد اور شتر بے مہار بن جاتا ہے گویا کہ وہ کسی جیل سے چھوٹ کر نکلا ہو۔ پس وہ لہو و لعب وغفلت اور نمازوں کو ضائع کرنے  اور اس کے علاوہ دیگر منکرات میں لگ جاتے ہیں۔ آپ اپنا سوت نہ توڑ ڈالو اور اس عورت کی طرح ہوجاؤ کہ:

﴿وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا﴾  (النحل: 92)

(اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوط کرنے کے بعدخود ہی ٹکڑے ٹکڑے کرکے توڑ ڈالا)

اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو۔ اعمال صالحہ میں  سے جو کچھ آپ نے انجام دیا اس کی حفاظت کریں، اور اپنی تقصیر و کوتاہی  و غلطی کی اللہ سے توبہ کریں، کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔

ramadan_bad_bhi_ibadat_itaat_Allah_jari