Attitude of a Muslim towards inflation – Shaykh Ali bin Yahya Al-Haddadi

مہنگائی ہوجانے پر ایک مسلمان کا طرز عمل

فضیلۃ الشیخ علی بن یحیی الحدادیحفظہ اللہ

(صدر کلیۃ اصول الدین فیکلٹی سنت اور اس کے علوم، جامعہ محمد بن سعود الاسلامیہ، ریاض)

ترجمہ، تلخیص و فوائد: طارق علی بروہی

مصدر: إن الله هو المسعر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بعض نادان لوگ عام حالات میں یا رمضان وغیرہ میں اشیاء خردونوش وپھل فروٹ وغیرہ کے بھاؤ چڑھ جانے پر خوب ہنگامہ، احتجاج وبائیکاٹ وغیرہ کرتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی سنت سے عدم واقفیت اور اللہ تعالی کی جانب رجوع نہ کرنے کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ چناچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے زمانے میں اشیاء کے بھاؤ بہت چڑھ گئے، تو لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ! مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہمارے لیے بھاؤ مقرر فرمادیں، تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى رَبِّي وَلَيْسَ أَحَدٌ يَطْلُبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ‘‘([1])

(بے شک اللہ تعالی ہی قیمتیں یا بھاؤ مقرر کرنے والا ہے، وہی تنگی کرنے والا اور فراخی کرنے والا ، اور رزق عطاء فرمانے والا ہے،  میں یہ امید کرتا ہوں کہ جب میں اپنے رب سے ملاقات کروں گا تو کوئی شخص مجھ سے جان ومال کے بارے میں کسی ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو)۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! بھاؤ مقرر فرمادیں تو  آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا: بلکہ تم اللہ تعالی سے دعاء کرو، پھر ایک اور شخص آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! بھاؤ مقرر فرمادیں، آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’ بَلِ اللَّهُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ ‘‘([2])

(بلکہ اللہ تعالی ہی بھاؤ گھٹاتا اور چڑھاتا ہے، اور بے شک میں یہ امید کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالی سے ملاقات کروں اس حال میں کہ کسی پر ظلم زیادتی میرے ذمے نہ ہو)۔

شیخ علی بن یحییٰ الحدادی حفظہ اللہ  ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ:

1- جب یہ امور اللہ تعالی کے ہاتھوں میں ہیں تو بندوں کو چاہیے اسی سے لو لگائیں اور ا س کی جانب رجوع کریں، خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے بھی اللہ تعالی سے دعاء کرنے کی جانب رہنمائی فرمائی۔

2- بندوں کو چاہیے کہ اپنے رب سے راضی رہيں، اس کی اطاعت کریں نافرمانی سے بچیں اور شکر گزاری کریں تو آسمان وزمین کی خیر وبرکات اللہ تعالی ان کے لیے کھول دے گا۔

3- جب افضل اور پاک ترین زمانہ یعنی نبوی دور اورصحابہ کرام کا زمانہ بھی مہنگائی سے محفوظ نہیں تھا  تو یہ مومنوں کے لیے تسلی ہے کہ ایسے دنیاوی مصائب آتے رہتے ہیں اگر سزا نہ بھی ہوں تو درجات کی بلندی اور گناہوں کی بخشش کا سبب بنتے ہیں۔

4- اللہ تعالی ہی رزق عطاء کرنے والے ہے خواہ مہنگائی کی حالت ہو یا سستائی کی۔ اللہ تعالی نے رزق کا وعدہ فرمایا ہے جو بندے کی پیدائش تک سے قبل لکھ دیا گیا ہے۔

5- اللہ تعالی کے ہاتھ میں بھاؤ کا اتار چڑھاؤ ہونے کے ساتھ اس کے دنیاوی مارکیٹ سے متعلق اسباب بھی شامل حال ہوتے ہیں جیسے طلب ورسد کا تناسب اور کمی زیادتی وغیرہ۔

6- بعض گمراہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے مسلمان حکومتوں کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکاتے ہيں اور عدم سمع وطاعت پر ابھارتے ہیں، حالانکہ ایک مومن بندہ اللہ تعالی اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اطاعت میں ان حکام کی فرمانبرداری کرتا ہے خواہ اسے اس کا دنیاوی مفاد ملے یا نہ ملے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ میرے بعد تم عنقریب زیادتی دیکھو گے اور تمہارا حق کسی اور کو دے دیا جائے گا، تو پھر بھی صبر کرنا اور معروف میں سمع وطاعت کرتے رہنا۔ اور اللہ تعالی سے اپنا حق طلب کرنا۔ اہل ایمان کے برخلاف مفاد پرست گمراہ لوگوں کی یہ روش ہوتی ہے اور ان کے لیے وعید ہے:

’’ ثَلَاثٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔۔۔وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا، لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى ،وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ‘‘ ([3])

(تین ایسے لوگ ہيں جن سے اللہ تعالی بروز قیامت نہ کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا (ان میں سے ایک وہ ہوگا ) جس نے امام (حکمران) کی بیعت کی، لیکن صرف اپنی دنیا کی خاطر بیعت کی، اگر اسے دنیا میں سے کچھ مفاد اس کی طرف سے پہنچتا ہے تو وہ اس بیعت کی وفاء کرتا ہے، لیکن اگر وہ اسے اس میں سے کچھ نہيں دیتا  تو وہ وفاء بھی نہیں کرتا)۔


[1] یہ سنن ابن ماجہ 2200 کی روایت ہے اور اسے شیخ البانی نے صحیح ابن ماجہ 1801 میں صحیح قرار دیا ہے۔

[2] یہ سنن ابی داود 3450 کی روایت ہے اور شیخ البانی نے صحیح ابی داود صحیح قرار دیا ہے۔

[3] صحیح مسلم 110۔

mehangae_baray_saheeh_islamee_raddamal