An advice to overseas employees regarding their families – Shaykh Abdul Azeez bin Abdullaah Aal-Shaykh

بیرون ملک پردیس میں کام کرنے والوں کو اہل وعیال کے تعلق سے نصیحت

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ حفظہ اللہ

(مفتئ اعظم، سعودی عرب)

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف فتاویٰ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: سائل پوچھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کیا مدت ہے کہ مرد اپنی بیوی سے سفر کرجانے کی صورت میں دور رہ سکتا ہے، یہ بات معلوم ہو کہ وہ اپنی نوکری کی وجہ سے دور ہے؟

جواب: بے شک کبھی کبھار انسان واقعی مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ معاش کی طلب کے لیے سفر کرے، لیکن اس کے باوجود یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کو ان رسمی چھٹیوں پر جو ملازمین کو ملتی ہیں نہ بھولے۔ پس وہ اپنی استطاعت بھر ان کی زیارت کرے اور اسے ضائع نہ کرے کہ سال دو سال تک ان سے رکا رہے۔ بلکہ جب ایک سال بیت جائے تو معروف چھٹیاں لے کر اپنے اہل وعیال کے ساتھ انہیں گزارے، یہ اس پر واجب ہے([1])۔

سوال: ہم اپنے اہل وعیال سے سال یا دو سال دور رہتے ہیں، کیا ہم پر ایسا کرنے میں کوئی گناہ ہے؟ اور ہم اس دوران اپنے اہل وعیال کے پاس کیسے لوٹ کر جائيں؟

جواب: میرے بھائیو! جب نظام عمل ہمیں یہ موقع فراہم کررہا ہے کہ بے شک ہر نوکری پیشہ کو سال میں 45 چھٹیاں ملیں  گی، تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے غنیمت جان کر اپنے اہل وعیال کی طرف جائيں، ان سے انس ومحبت پیدا کریں، ان کے غموں کا مداوا کریں، ضروریات کو پورا کریں  اور ان کے امور کی نگہبانی کریں۔ ساتھ ہی روزانہ ان سے موبائل وغیرہ سے رابطے میں رہیں۔  لیکن ان کو پورے سال یا دو سال نظر انداز کیے رکھنا  ایسی غلطی ہے کہ جو نہیں ہونی چاہیے۔ ضروری ہے کہ کم از کم ہر سال رسمی چھٹیوں  پر اگر اس سے زیادہ میسر نہ ہوں تو جائيں۔  کیونکہ آپ کا جانا ان کے غم وحزن پر مرہم رکھنے کا سبب بنے گا اور ان کے لیے تسلی کا باعث ہوگا([2])۔


[1] المدة المسموح بها في غياب الزوج عن زوجته۔

[2] الغياب عن الاهل۔

mulk_say_bahar_kam_krne_walo_family_taluq_naseehat