Masajid and Madaris are not include in the categories on which Zakat may be spent – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

مساجد و مدارس مصارف زکوٰة میں سے نہیں

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: إتحاف أهل الإيمان بدروس شهر رمضان ص 61۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

۔۔۔اسی طرح سے زکوٰۃ کو خیراتی منصوبوں میں بھی خرچ کرنا جائز نہیں جیسے مساجد کی تعمیر اور مدارس وغیرہ۔ان منصوبوں کو بیت المال سے یا پھر دیگر نفلی صدقات سے پورا کرنا چاہیے۔ زکوٰۃ تو اللہ تعالی کا حق ہے جو اس نے صرف ان بیان کردہ معین مصارف کے لیے ہی مشروع فرمایا ہے۔ جائز نہیں کہ اسے کسی کی خوشامد ومیلان کی وجہ سے، یا اپنے کسی دنیاوی فائدے کو حاصل کرنے یا نقصان سے بچاؤ کی خاطر استعمال کیا جائے۔ اور نہ اپنے مال کو اس حیلے بہانے سے بچانے کی کوشش کرے کہ جس پر خرچ کرنا ویسے ہی اس پر واجب ہے اسے زکوٰۃ شمار کرنے لگے۔ نہ ہی اس کی مذمت کرتے ہوئے اپنی زکوٰۃ نکالے۔ اسی طرح سے رشتہ داروں میں سے اپنے اصول وفروع یا بیوی یا جن کا بھی نان نفقہ اس کے ذمے واجب ہے انہیں دے۔

اللہ کے بندو! اللہ تعالی سے ڈرو تمہارا زکوٰۃ نکالنا اور اسے خرچ کرنا اور دیگر تمام عبادات کتاب اللہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

اللہ کے بندو !یہ بات اچھی طرح سے جان لو کہ جو زکوٰۃ کو اللہ تعالی کے مقرر کردہ شرعی مصارف میں خرچ نہيں کرتا تو وہ اسے کفایت نہیں کرتی اور نہ ہی وہ برئ الذمہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے خود ہی ان مصارف کی حدود بیان فرمادی ہے، فرمایا:

﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَاۗءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۭفَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ  ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ﴾ (التوبۃ: 60)

(صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں ،اور مسکینوں کے لئے ،اور زکوٰۃ وصول کرنے والوں کے لئے، اور ان کے لئے جن کے دل اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہو، اورغلاموں کو آزاد کرنے میں ،اور قرضداروں کے قرض اتارنے کے لئے ،اور اللہ کی راہ (جہاد)میں ، اور مسافروں کے لئے فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے)

اور یہ تعبیر حصر کا فائدہ دیتی ہے یعنی جن کو بیان کیا گیا ہے حکم کو ان تک محدود کردینا اور ان کے علاوہ تمام کی نفی کردینا۔ اگر کوئی شخص ان آٹھ مصارف میں سے کسی ایک ہی مصرف پر اپنی ساری زکوٰۃ خرچ کردے تو بھی کافی ہے،اس سے ان تمام کی تکمیل کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب  معاذ رضی اللہ عنہ  کو یمن روانہ فرمایا تو فرمایا:

’’فأعلمهم أن الله افترض عليهم صدقة تؤخذ من أعنيائهم فتُرد إلى فقرائهم‘‘([1])

(انہیں خبر دینا کہ اللہ تعالی نے ان پر صدقہ (زکوٰۃ) فرض کیا ہے جو ان کے اغنیاء سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء میں تقسیم کردیا جائے گا)۔

اس حدیث میں صرف فقراء کے ذکر پر اقتصار فرمایا جو اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے کسی ایک مصرف پر خرچ کردینا جائز ہے اور کافی ہے([2])۔اھ

لمحۂ فکریہ

[مدارس وغیرہ میں بطور دعوت و تبلیغ کی مد میں دینا ثابت نہيں ہے البتہ وہاں عموماً فقراء ومساکین بھی ہوتے ہيں تو انہیں اس طور پر شمار کیا جاسکتا ہے۔ دراصل ہمارے معاشروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب دینی اداروں مساجد سے منسلک واعظین وخطباء لوگوں کو زکوٰۃ پر ابھارتے ہیں تو اس سےمراد اپنا ہی ادارہ و مسجد لی جاتی ہے اور لوگوں کا بھی یہی تصور ہے اللہ کی راہ تو بس یہی ہے گویا، حالانکہ زکوٰۃ  کے مصارف میں جن کا اولین ذکر آیا انہیں تو کوئی پوچھتا نہیں جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ مساکین فقراء ومقروض  وغیرہ لوگ دوسرے راستے اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کچھ بھکاری تو کچھ جرائم پیشہ بن جاتے ہیں، اللہ کی عظیم حکمت ہے کہ اپنے دین کے کاموں پر دیگر صدقات کی ترغیب دلائی ہے زکوٰۃ کے مصارف کو الگ مخصوص اور محدود طور پر ذکر فرمایا ہے جس سے معاشرے میں امن و بھائی چارہ اور دیگر مواسات و ہمدردی  جیسے عظیم مقاصد حاصل ہوتے ہیں جو معاشرے میں امن و ترقی لاتے اور ظلم و غربت کو ختم کرتے ہیں بلکہ دعوت وتبلیغ کے زاویے سے بھی جو مصارف زکوٰۃ میں ذکر ہیں وہ جہاد اور غیرمسلموں پر پیسہ خرچ کرنا تاکہ وہ اسلام کی طرف راغت ہوں اور اس پر استقامت اختیار کریں۔ اس مد پر مسلمانوں کے زکوٰۃ خرچ کرنے سے لاشعور ہونے  اور اغیار کو اس کی اہمیت کا ادراک ہونے سے نقصان یہ بھی ہورہا ہے کہ دیگر بے دین و ملحد قسم کی این جی اوز بلکہ عیسائی مشنریز تک اس مد میں خرچ کرکے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتی اور گمراہ کرتی ہیں۔ اور تو اور خود اسلامی فرقے، جماعتیں و تنظیمیں بھی جب زکوٰۃ کا دائرہ تنگ کرکے اس کا دھارا بس اپنی طرف بہنے پر مجبور کردیتے ہیں تو  پھر حقیقی مستحقین جیسے فقراء ومساکین اور ان کا حق یعنی  زکوٰۃ کے مابین حائل ہوجاتے ہیں اور پھر اسے اپنی مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں جیسے کسی غریب کو تب کچھ فنڈ پیسہ ملے گا جب وہ ان کی جماعت میں ہو ان کے لیے کام کرے ان کا جیالہ، رکن اور کارکن بن کر جیے۔ بہت سی جماعتوں تنظیموں جمعیات کا اپنے لوگوں کی تعداد بڑھانے اور ایسے ضرورت مند لوگوں کا جم غفیر جمع کرکے اپنے مقاصد پورا کرنے میں بہت بڑا کردار ہے۔

صد افسوس کہ اپنی قریبی رشتہ داروں دوستوں میں جو سفید پوش مسکین ہوں انہیں نہيں دیا جاتا نتیجۃً دل ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں قطع رحمی ہے وغیرہ، ورنہ مسکین میں تو وہ بیچارہ تنخواہ دار کام کرنے والا تک آتا ہے جو کماتا تو ہے لیکن اس کے ماہانہ اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ آخر ان مساجد سے جن میں نمازی نہيں اور توسیع پر توسیع یا ایک کے برابر میں دوسری مسجد تعمیر ہوتی جارہی ہے اس طور پر کہ بڑے ثواب کا کام ہے چاہے اس کی ضرورت ہو نہ ہو، نمازی ہوں نہ ہوں، جبکہ مسلمان بھائی پریشان حال اور غیر مسلموں اور دیگر اہل بدعت جماعتوں کے رحم کرم پر ان کے آلۂ کار بن کر اپنی ضرورت پوری کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

اور جو ہماری طرح صحیح اسلامی زکوٰۃ کے مصارف کی آگاہی دینا چاہے تاکہ براہ راست مستحقین مستفید ہوں اور معاشرے میں اس کے ثمرات ظاہر ہوں تو اسے الٹا ان مدرسہ مافیا قسم کی حزبی جماعتوں جمعیات کی طرف سے مدارس کا دشمن باور کرواکرمتنفر کیا جاتا ہے۔

لوگوں کو چاہیے کہ اس اہم دینی فریضے کی ادائیگی میں کتاب وسنت کی رہنمائی کے مطابق تھوڑی محنت کرکے صحیح مصارف پر خرچ کریں، جس سے انہيں دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب ہوں گی]۔


[1] أخرجه البخاري رقم 1458 ومسلم رقم 1، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: ’’أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] یہ مکمل کتاب ”زکوٰۃ اور اس کے احکام“  ہماری ویب سائٹ سے شائع ہوچکی ہے او ردستیاب ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

masajid_madaris_masarif_zakat_may_nahi