Those who fit the narrations regarding Khawarij upon disputes among Sahaba are deviants and opposing the consensus of AhlusSunnah – Shaykh-ul-Islam Imam Ibn Taymiyyah

مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم پر خوارج والی احادیث چسپاں کرنے والے

اہل سنت کے اجماع کے مخالفین گمراہ ہیں

شیخ الاسلام احمد بن عبدالحلیم بن تیمیہ رحمہ اللہ المتوفی سن 728ھ

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: مجموع الفتاویٰ ج 35 ص 53-57۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  سے باغیوں اور خوارج سے متعلق سوال ہوا:

کیا یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں اور ان کا معنی ایک ہی ہے؟ یا پھر ان دونو  ں میں فرق ہے؟ اور کیا ان پر جاری ہونے والے احکامات میں شریعت نے فرق کیا ہے یا نہیں؟ اگر دعویٰ کرنے والا دعویٰ کرے کہ امت کا اجماع ہے اس بات پر کہ ان میں کوئی فرق نہیں سوائے نام کی حد تک، اور اس کی مخالفت کرنے والا مخالفت کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کرے کہ بلاشبہ امیر المؤمنین علی  رضی اللہ عنہ  نے اہل شام اور اہل نہروان میں فرق کیا تھا:

پس کیا حق اس دعویٰ کرنے والے کے ساتھ ہے یا پھر اس کے مخالف کے ساتھ؟

آپ نے جواب ارشاد فرمایا:

الحمدللہ، جہاں تک کہنے والے کا یہ قول ہے کہ: امت کا اس بارے میں اجماع ہوچکا ہے کہ ان دونوں میں سوائے ناموں کے اور کوئی فرق نہيں تو یہ باطل دعویٰ ہے، اور اس کا دعویدار ناعاقبت اندیش قسم کا انسان ہے، کیونکہ فرق کی نفی کرنے کا قول توبس  اہل علم کے ایک گروہ کا ہے جو ابو حنیفہ، الشافعی و احمد رحمہم اللہ  وغیرہ کے اصحاب میں سے ہیں جیسا کہ بہت سے مصنفین جنہوں نے باغیوں کے خلاف قتال پر لکھا تو انہوں نے ابو بکر  رضی اللہ عنہ   کے مانعین زکوٰۃ کے خلاف قتال اور خوارج کے خلاف قتال، اسی طرح سے اہل جمل و صفین وغیرہ کے قتال کو باغیوں کے خلاف قتال میں لے کر اسلام کی جانب منسوب ہونے والوں سے قتال میں شمار کیا۔

لیکن اس کے باوجود ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ طلحہ و زبیر وغیرہ جیسے صحابہ رضی اللہ عنہم  اہل عدالت میں سے ہیں، جائز نہیں کہ ان پر کفر یا فسق کا حکم لگایا جائے، بلکہ وہ تو مجتہد تھے، یا صواب کو پایا یا غلطی کرگئے، اور ان کی لغزش معاف ہے۔اور وہ اس قول کا اطلاق کرتے ہيں کہ باغی لوگ  (لازماً) فاسق نہيں۔

پس اگر  اِن کو اور اُن کو برابر کر دیا جائے گا تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ  خوارج اور (ان کے علاوہ) جو اہل اجتہاد اور عدالت پر باقی رہنے والوں کے خلاف قتال ہوا برابر ہیں! اسی لیے ایک گروہ نے باغیوں کے فاسق ہونے کا کہا ہے، لیکن اہل سنت کا صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کی عدالت پر اتفاق ہے ۔

البتہ جمہور اہل علم المارقین( نکل کھڑے ہونے والے خوارج) اور اہل جمل و صفین  میں فرق کرتےہیں، اور اہل جمل و صفین کے علاوہ بھی جو تاویل کے پیش نظر باغی گنے جاتے ہیں میں فرق کرتے ہيں۔یہی بات صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کے تعلق سے معروف ہے، اور اسی پر عام اہل الحدیث ، فقہاء اور متکلمین ہیں، اور اسی پر اکثر آئمہ اور ان کے متبعین کے نصوص ہيں مالک، احمد اور الشافعی  رحمہم اللہ  وغیرہ کے اصحاب میں سے۔

یہ اس لیے کیونکہ الصحیح میں نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ثابت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

”تمرق مارقة على حين فرقة من المسلمين تقتلهم أولى الطائفتين بالحق“([1])

(ایک فرقہ جدا ہو جائے گا جب مسلمانوں میں پھوٹ ہو گی اور اس (جدا ہونے والے فرقے )کو قتل کرے گا وہ گروہ جو دونوں گروہوں میں حق کے قریب تر ہوگا)۔

یہ حدیث تین گروہوں کے ذکر پر مشتمل ہے، او راس میں وضاحت ہے کہ جو المارقین(نکل کھڑے ہونے والا خارجی )گروہ ہوگا وہ تیسری قسم ہے جو ان باقیوں کی جنس میں سے نہیں۔ کیونکہ علی  رضی اللہ عنہ  کا گروہ معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے گروہ کے بنسبت حق کے زیادہ قریب تھا۔ جبکہ خوارج المارقین کے بارے میں فرمایا (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے):

”يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ مَعَ صَلَاتِهِمْ وَصِيَامَهُ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَقِرَاءتُهُ مَعَ قِرَاءتِهِم، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسلاَمِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “([2])

(تم میں سے ایک اپنی نماز کو ان کی نماز کے سامنے، روزوں کو ان کے روزوں کے سامنے، قرأت قرآن کو ان کی قرأت کے سامنے ہیچ تصور کرے گا، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا، اسلام سے ایسے نکل جائيں گے جیسے تیر شکار کے آر پار ہوجاتا ہے، تم جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ تو انہیں قتل کردو، کیونکہ بلاشبہ ان کے قتل کرنے میں اللہ تعالی کے پاس بروز قیامت بڑا اجر ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے)۔

اور ایک روایت کے الفاظ ہیں:

” لَوْ يَعْلَمُ الَّذِينَ يقاتلونهم مَا لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ “([3])

(اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی زبانی کس اجر کا ذکر کیا گیا ہے، تو وہ دیگر اعمال کرنا چھوڑ دیں گے (اور بس اسی کو نجات کے لیے کافی سمجھنے لگیں گے))۔

مسلم نے ان کی احادیث اپنی صحیح میں دس طرح  سے روایت کی ہے اور البخاری نے بھی ایک سےزائد طرح سے بیان کی ہے، اسی طرح اہل سنن و مسانید نے بھی۔ یہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے بہت ہی مشہور و معروف ہیں اور انہیں تلقی بالقبول حاصل ہے، اس پر امت کا اجماع ہے صحابہ اور ان کے پیروکاروں کا، او رصحابہ  رضی اللہ عنہم  کا ان خوارج کے خلاف قتال پر بھی اجماع ہے۔

جبکہ جہاں تک اہل جمل و صفین   کا معاملہ ہے تو ان (علی رضی اللہ عنہ  ) کی  طرف سے ان میں سے بس ایک گروہ نے  قتال کیا حالانکہ اکابرین صحابہ  رضی اللہ عنہم  کی اکثریت  نے قتال میں حصہ نہ لیا نہ اِن کی جانب سے نہ دوسری جانب سے۔ اور قتال کو ترک کرنے والوں نے نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ثابت شدہ بہت سے نصوص سے استدلال کیا کہ فتنے میں قتال کو ترک کردینا چاہیے، اور واضح کردیا کہ یہ قتالِ فتنہ ہے۔

اسی طرح سے علی  رضی اللہ عنہ  خوارج کے خلاف قتال میں خوش تھے، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے حدیث روایت کرتے ان کے خلاف قتال کرنے کی، جبکہ صفین والوں سے قتال کے بارے میں ذکر کیاجاتا ہے کہ ان کے پاس کوئی نص نہیں تھی (ان کے خلاف لڑنے کی) بلکہ بس وہ ایک ان کی اپنی ذاتی رائے تھی، اور بسا اوقات تو آپ رضی اللہ عنہ  اس قتال کے جو قائل نہیں تھے ان کی تعریف کیا کرتے تھے۔

اور الصحیح میں نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے ثابت ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے حسن  رضی اللہ عنہ  کے بارے میں فرمایا:

’’إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَسَيُصْلِحَ الله ُبِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ‘‘([4])

(میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور عنقریب اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروادے گا)۔

پس آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے حسن  رضی اللہ عنہ  کی تعریف و مدح فرمائی کہ اللہ تعالی ان کے ذریعے دو گروہوں میں صلاح کروا دے گا: علی  رضی اللہ عنہ  والوں میں اور معاویہ  رضی اللہ عنہ  والو ں میں۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ قتال کو ترک کرنا ہی احسن  و بہتر تھا، اور یہ کہ وہ قتال نہ واجب تھا نہ ہی مستحب۔

جبکہ خوارج کے خلاف قتال  کے بارے میں تو ثابت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے خود اس کاحکم دیا، اور اس پر ابھارا۔ تو پھر کیسے وہ کام جس کا حکم دیا اور اس پر ابھارا اس کے برابر ہوسکتا ہے جس کے ترک کرنے والے کی تعریف اور مدح فرمائی؟!! جو کوئی  صحابہ کا باہمی قتال (مشاجرات) کو جو جمل و صفین کے موقع پر ہوئے، اور ذوالخویصرہ التمیمی اور اس جیسے خوارج المارقین ، سرکش حروری لوگوں کے خلاف قتال کو برابر قرار دیتا ہے، تو اس کا یہ قول جاہلوں اور کھلے ظلم کرنے والے لوگوں کے اقوال کی جنس میں سے ہی ہے۔ اور اس قول کے قائل پر لازم آتا ہے کہ رافضہ و معتزلہ کی جنس میں سے ہوجائے کہ جو جمل و صفین میں قتال کرنے والوں کی تکفیر کرتے یا فاسق قرار دیتے ہيں۔ جیسا کہ اس طرح خوارج المارقین کے بارے میں کہا جاتا ہے۔ سلف اور آئمہ کا خوارج کی تکفیر کے تعلق سے اختلاف پایا جاتا ہے جن کے دو مشہور قول ہیں، البتہ ان سب کا اتفاق ہے ان صحابہ کی تعریف کرنے پر جو جمل و صفین کے قتال میں شریک تھے، اور ان کے مشاجرات کے بارے میں خاموشی و سکوت اختیار کرنے پر۔ تو پھر اِس کی نسبت اُس کے ساتھ کیسے کی جاسکتی ہے؟!!

اور یہ بھی ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے خوارج کے خلاف قتال کرنے کا حکم دیا ان کے قتال شروع کرنے سے قبل ہی، جبکہ باغیوں کے تعلق سے اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَي الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْۗءَ اِلٰٓى اَمْرِ اللّٰهِ ۚ فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ﴾  (الحجرات:9)

(اور اگر مومنوں میں سے کوئی دو فریق آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرادو، پھر اگر ان دونوں میں سے ایک فریق دوسرے فریق پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس فریق سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالی کے حکم کی طرف لوٹ آئے، اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرادو اور عدل کرو، بے شک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے)

یہاں زیادتی کرنے والے باغیوں سے قتال ازخود شروع کرنے کا حکم نہیں دیا۔ پس قتال کی ابتداء کرنے کا حکم نہيں۔ لیکن جب اگر لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلاح کروا دینے کا حکم ہے، پھر اگر ان میں سے ایک زیادتی کرے تو اس سے قتال ہوگا۔ اسی لیے فقہاء میں سے کہنے والوں نے کہا: بے شک باغیوں سے قتال کی شروعات نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ وہ خود نہ لڑنا شروع کردیں۔ جبکہ خوارج کے بارے میں نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے تو فرمادیا تھا کہ:

”أَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا لِمَنْ قَتَلَهُمْ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “[5]

(تم جہاں کہیں بھی ان کو پاؤ تو انہیں قتل کردو، کیونکہ بلاشبہ ان کے قتل کرنے میں اللہ تعالی کے پاس بروز قیامت بڑا اجر ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے)۔

اور فرمایا:

”لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ‘‘([6])

(اگر میں نے انہیں پالیا تو ضرور انہيں قتل کردوں گا جسے قوم عاد کو قتل کردیا گیا تھا)۔

اسی طرح سے جو مانعین زکوٰۃ تھے پس ابوبکر صدیق اور صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے ان سے قتال کی ازخود ابتداء فرمائی۔ ابو بکر صدیق  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا:

’’ وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيه ِ‘‘([7])

(اللہ کی قسم ! اگر وہ  چھ ماہ کا بکری کا بچہ بھی جو وہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو (زکوٰۃ میں) دیا کرتے تھے مجھ سے روکیں گے تو میں اس پر بھی ان سے قتال کروں گا)۔

ان سے قتال کیاجائے گا اگر وہ واجبات کی ادائیگی سے رکیں گے اگرچہ وہ اس کے وجوب کے اقراری ہوں۔ پھر فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ جو اس کے وجوب کے اقراری ہوں لیکن اسے روک رکھنے پر امام ان کے خلاف قتال کرے ان  کے کافر ہونے پر؟ ان کے دو اقوال ہيں، اور یہ دو روایات احمد  رحمہ اللہ  سے ہيں، جیسا کہ ان کی دو روایات خوارج کی تکفیر کے متعلق بھی ہيں۔ البتہ جو محض باغی ہوں تو ان کی تکفیر نہیں کی جائےگی اس بارے میں آئمہ دین کا اتفاق ہے۔ کیونکہ خود قرآن مجید ان کے قتال و بغاوت کے باوجود ایمان اوراخوت (مسلمان بھائی ) ہونے پر نص بیان کرتا ہے ۔ واللہ اعلم


[1] صحیح مسلم 2458 کے الفاظ ہیں: ”تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ“۔

[2] صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں یہ احادیث مختلف الفاظ کے ساتھ باکثرت موجود ہیں۔

[3] سنن ابی داود 4768 کے الفاظ ہیں: ” لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ“  اسے شیخ البانی نے صحیح ابی داود میں صحیح قرار دیا ہے۔

[4] صحیح بخاری 2704 کے الفاظ ہیں: ” إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ “۔

[5] حدیث پہلے گزر چکی ہے۔

[6] أخرجه البخاري في باب: قتل الخوارج والملحدين بعد إقامة الحجة عليهم رقم: 3166 أخرجه مسلم في الزكاة، باب: ذكر الخوارج وصفاتهم، رقم: 1064.

[7] صحیح بخاری 1400۔

mushajaraat_sahaba_pr_khawarij_ahadees_fit_gumrah