Supplication during a wind storm – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

تیز ہوائیں چلتے وقت کی دعائيں

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ المتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

جمع وترتیب: ابو الحسن محمد بن حسن الشیخ

مصدر: جامع صحيح الأذكار (الألباني)۔

ترجمہ: طارق علی بروہی

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

537- عائشہ  رضی اللہ عنہا   سے روایت ہے کہ جب آندھی چلتی تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرماتے:

’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ‘‘

(اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے اس کے خیر کا، اور جو کچھ اس میں ہے اس کے خیر کا، اور جس حکم کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کے خیر کا سوال کرتا ہوں، اورمیں تجھ سے اس کے شر سے، اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے، اور جس حکم کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہے اس کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں)۔

 اور جب آسمان پر گرج چمک والا بادل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ تبدیل ہو جاتا، کبھی باہر جاتے اور کبھی اندر آتے، آگے آتے اور کبھی پیچھے جاتے، جب بارش ہو جاتی تو اس گھبراہٹ سے چین مل جاتا، میں نے آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے چہرۂ انور پر یہ حالت دیکھی توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے دریافت کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے جواب دیا کہ: اے عائشہ! شاید یہ ویسا ہی نہ ہو جیسا کہ قوم عاد نے کہا تھا(جب عذاب کے بادل ان پر چھائے) کہ:

﴿فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا﴾  (الاحقاف: 24)

(جب انہوں نے اپنی بستیوں کی طرف سامنے بادل آتے دیکھے، تو(خوشی سے)  کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والے ہیں(حالانکہ ان میں عذاب تھا))([1])۔

538-  ابو ہریرہ   رضی اللہ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

’’الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، فَرَوْحُ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَلَا تَسُبُّوهَا، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا‘‘([2])

(ہوا اللہ کی رحمت میں سے ہے۔اللہ کی یہ روح کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی عذاب بھی لے آتی ہے۔ جب تم اسے دیکھو تو اسے گالی نہ دو برا مت کہو، بلکہ اللہ تعالی سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس  کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرو)۔

539- عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  آسمان کے کنارے پر کوئی بکھرا بادل دیکھتے تو سب کام چھوڑ دیتے خواہ دعاء ہی کیوں نہ کررہے ہوں پھر یہ کہتے:

’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا‘‘

(اے اللہ! بے شک میں اس کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں)۔

اور اگر بارش ہونے لگتی تو فرماتے:

’’اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا‘‘([3])

(اے اللہ! اسے خوب برسنے والی ، نفع آور اور بے ضرر بارش بنا)۔

540-  انس   رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ جب تندوتیز ہوائیں چلتیں تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  فرماتے:

’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ‘‘([4])

(اے اللہ ! بے شک میں اس خیر میں سے تجھ سے مانگتا ہوں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی، اور تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس شر  سے جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی)۔


[1] صحیح مسلم رقم: 901۔

[2] صحیح (صحیح ابی  داود  رقم 5097، صحیح موارد الظمآن رقم: 1989، المشکوٰۃ رقم: 1516، ھدایۃ الرواۃ رقم: 1461)۔

[3] صحیح (صحیح ابی داود 5099، صحیح الکلم الطیب رقم: 128، الصحیحۃتحت الحدیث رقم 2757 ج 2 ص 602)۔

[4] صحیح (صحیح الادب المفرد رقم : 717، الصحیحۃ رقم : 2757)۔

teez_hawae_chalte_waqt_duae