Repelling the doubt that Shaykh Muhammad bin Abdul Wahhab revolted against Ottoman Empire – Various ‘Ulamaa

کیا شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ نے خلافت عثمانیہ پر خروج کیا تھا؟

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ اس شبہہ کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ نے خلافت عثمانیہ کی ریاست کے خلاف  خروج نہیں کیا تھا جس کا مجھے علم و یقین ہے۔ دراصل اس وقت نجد میں ترکیوں کی کوئی ریاست و امارت تھی ہی نہیں بلکہ نجد چھوٹی چھوٹی امارتوں اور بکھری ہوئی بستیوں پر مشتمل تھا۔ اور ہر شہر یا بستی میں خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوتی اپنا ایک مستقل امیر ہوتا۔۔۔اور یہ جو امارتیں تھیں ان کے مابین جنگ و جدال اور قتل و غار ت  گری کا بازار گرم رہتا تھا۔ لہذا شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ کسی خلافت و ریاست کے خلاف نہیں نکلے، بلکہ وہ تو اس بگڑے ہوئے  ماحول کے خلاف اٹھے جو ان کے ملک میں تھا، پس انہوں نے  اللہ کی راہ میں کماحقہ جہاد کیا  اور صبر و استقامت سے کام لیا یہاں تک کہ اس دعوت کا نور دیگر علاقوں تک بھی پھیلتا گیا۔۔۔)[1](اھ

سوال: احسن اللہ الیکم فضیلۃ الشیخ سائل کہتا ہے: بعض وہ لوگ جو شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ کی دعوت کے مخالفین ہيں وہ یہ  کہتے ہيں کہ شیخ الاسلام اور امام محمد بن سعود رحمہما اللہ نے خلافت عثمانیہ کی ریاست کے حکمرانوں کے حکم سے خروج اختیار کیا تھا اور ا ن کی اطاعت سے نکل کر بغاوت کی تھی، جبکہ یہ بات تو عقیدۂ اہل سنت والجماعت کے خلاف ہے۔ آپ کی اس مقولے کے متعلق کیا رائے ہے، اثابکم اللہ؟

جواب از شیخ صالح بن فوزان الفوزان  حفظہ اللہ :

جو شخص یہ بات کررہا ہے کیا وہ خود حکمرانوں کی سمع و طاعت کی پابندی کرتا بھی ہے؟! کیونکہ غالبا ًجو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ تو خود موجودہ حکمرانوں پر  خروج کا عقیدہ رکھتے ہیں، نہ (ان کی ‎سمع و طاعت  کا) خود کو پابند سمجھتے ہیں، نہ ہی حکمرانوں کی ولایت وامارت کو مانتے ہیں (یعنی قرآن وحدیث میں جن حکام کی اطاعت کا ذکر ہے موجودہ حکام اس سے مراد نہیں عقیدہ رکھتے ہیں) ایک پہلو تو یہ ہے۔

دوسرا   پہلو یہ کہ بلاشبہ شیخ محمد بن عبدالوہاب اور امام محمد بن سعود رحمہما اللہ نے اپنے وقت کے حکام کے خلاف خروج نہیں کیا تھاکیونکہ مملکت عثمانیہ  کی نجد کے علاقوں پر  حکومت ہی نہیں تھی بلکہ یہ نجد کے علاقے اس کے اپنے اپنے امراء کے ماتحت ہوا کرتے تھے۔ بلاد نجد میں سے ہر شہر کا اپنا ہی ایک مستقل امیر ہوتا تھا جو اس پر حکومت کرتا تھا۔ اگر وہ مر جاتا تو اسی کا کوئی بیٹا یا قریبی اس کا قائم مقام بنتا۔ پس عثمانیوں کی نجد کے علاقوں میں  حکومت ہی نہيں تھی نا ہی مملکت عثمانیہ اسے کسی خاطر میں لاتی تھی، اس کا کوئی خاص اہتمام اور پرواہ وہ کرتی بھی نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہاں کوئی پیداوار ہی نہیں ہوا کرتی تھی لہذا اس میں کوئی دلچسپی نہيں تھی۔

مملکت سعودی کے خلاف جو انہوں نے لڑائی کی ہے تو وہ خود انہوں نے حملہ کیا تھا ان کے خلاف ان کے ڈر خوف کی وجہ سے۔ انہوں نے مملکت سعودی کے خلاف ان سے ڈر کر ان سے لڑائی شروع کردی تھی جب انہوں نے دیکھا کہ اس کی شان بڑھتی ہی جارہی ہے اور ان کا معاملہ غالب آتا جارہا ہے تو وہ ڈر گئے  اور لڑنا شروع کردیا کہ کہيں مملکت سعودی ان کے ممالک پر حملہ نہ کردے، یہ تھا ان کا مقصود۔ ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ ان کی نجد کے علاقوں میں کوئی حکومت تھی ہی نہیں، بلکہ نجد کے علاقے تو صرف اور صرف وہاں کے اپنے امراء و حکام کے ہاتھوں میں نسل در نسل تھے۔ یہاں تک کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ آئے اپنی دعوت کے ساتھ اور امام محمد بن سعود  رحمہ اللہ نے ان کی نصرت کی تو پھر ان کی حکومت پورےنجد کے علاقے میں، اور اس کے علاوہ بھی  جزیرۂ عرب کے دیگر علاقوں میں پھیل گئی۔ اللہ تعالی نے  انہیں زمین پر غلبہ دیا اور وہ اسی دعوت کو لے کر کھڑے ہوئے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت تھی اور اسلام کو نشر کیا۔ جس سے تمام امارتیں جو اس سے قبل نجد میں بکھری ہوئی تھیں  ایک حکومت کے سائے تلے آگئیں۔ جس پر مملکت عثمانیہ کو خدشہ لاحق ہوا کہ وہ ہمارے ممالک عراق و شام کے علاقوں تک بھی پہنچ جائيں گے تو وہ اپنے بارے میں ڈرے، ساتھ ہی ا ن کے پاس جو خرافات، مزار پرستی اور جس تصوف و بدعات میں وہ مبتلا تھے  اس تعلق سے بھی ڈرے کہ شیخ  رحمہ اللہ کی دعوت اسے بدل کر رکھ دے گی اسی لیے انہوں نے مملکت سعودی کے خلاف جنگ شروع کردی([2])۔

شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ  حفظہ اللہ  سے سوال ہوا:

آپ کی کیا رائے ہے اس قول کے بارے میں کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ نے عثمانیوں کے خلاف خروج کیا تھا، اور ہم کیسے ان کا رد کریں؟

جواب: اس کا جواب دو پہلوؤں سے ہوگا:

پہلا پہلو: شیخ  رحمہ اللہ کے دور میں نجد کا علاقہ عثمانیوں کی سلطنت کے ماتحت تھا ہی نہیں جیسا کہ میں نے آپ کے لیے ذکر کیا تھا۔ بلکہ نجد تو سن 260ھ سے ہی کسی بھی ولایت ریاست کے سامنے جھکا ہی نہیں، نا عباسیوں کی نہ ان کے علاوہ دیگر ولایتیں۔ بلکہ یہ مستقل خود مختار رہا۔ اس پر بعض خوارج کا راج تھا اس وقت اور بعض اہل یمن اور ان جیسے لوگوں کا۔ یعنی اس وقت  مستقل الگ تھے کسی کے ماتحت اطاعت میں نہیں تھے۔ اور تفرقے کا شکار تھے ا س کے باشندے متحد نہیں تھے اور کسی ایک کی بیعت کے ماتحت نہيں تھے بلکہ سب مستقل و خودمختار تھے۔ جب مملکت عثمانیہ  غالب ہوئی تو اس وقت نجد کے ہر علاقے کا اپنا ہی امیر ہوا کرتا تھا۔ وہ عثمانی خلافت جب شروع شروع میں آئی اس  کے آگے جھک کر ماتحت نہ ہوئے تھے حالانکہ شروع شروع میں خلافت عثمانیہ صحیح اسلام پر تھی بعد میں منحرف ہوتی گئی۔

تو یہ تھا حال اس وقت جب شیخ  رحمہ اللہ آئے تو لوگ اسی حال میں تھے کہ ہر علاقے کا اپنا امیر تھا، وہ بنی عثمان کی اطاعت کے اقراری ہی نہ تھے برخلاف احساء اور مشرقی علاقوں کے، کیونکہ وہ مملکت عثمانیہ کو مانتے تھے، اور احساء اور اس جیسے علاقوں پر جو والی  تھا وہ ان کے ولایت کے ماتحت تھا۔ اسی طرح سے الاشراف اور اس جیسے علاقے ا ن کے یہاں  ایک قسم کی خودمختاری تو تھی لیکن بہرحال وہ عام ولایت ریاست کے ماتحت تھے۔ البتہ نجد بالکل مستقل الگ تھا۔ ایک پہلو تو یہ ہوا۔

دوسرا پہلو: شیخ  رحمہ اللہ کے دور میں  عثمانی لوگ شرک اکبر کی طرف دعوت دیتے تھے اور صوفی طرق کی طرف دعوت دے کر اسے اچھا بناکر پیش کرتے، قبروں مزاروں پر اور ان کی عبادات پر مال خرچ کرتے۔ اس پہلو سے بھی اگر مان لیا جائے کہ نجد ان کے ماتحت تھا تب بھی ان کی اطاعت تو باقی نہیں رہتی کیونکہ یہ تو آخری دور میں کھلم کھلا شرک کی دعوت دیتے اور اس  کے تائیدی و اقراری تھے۔  البتہ ابتدائی دو صدیوں میں  (ابتدائی 250 سالوں میں) وہ کچھ منہج پر تھے یعنی مجموعی طور پر اچھے تھے، لیکن جب سن1100ھ تک تقریباً آن پہنچا تھا اور جو اس کے بعد کے ادوار ہیں  کہ جب مسلمانوں میں شرک بہت پھیل چکا تھا تو یہ لوگ خوب بڑھ چڑھ کر اس کی تائید کرتے اور اس پر مال کثیر خرچ کرتے تھے۔ عثمانی خلفاء (ان کا یہ نام جیسا کہ زبان زد عام ہے) کے ایسے اقوال ہیں  یعنی بنی عثمان کے حکمرانوں کے کہ ان میں آپ ایسے لوگ پائیں گے جو دعاء لکھتا ہے اور اس میں رسول e سے فریادیں کرتا ہے یا اولیاء سے فریادیں کرتا ہے اور اس جیسی باتیں۔

لہذا اس میں سے جو پہلا پہلو بیان کیا وہ اصل بات ہے جس پر اعتماد کیا گیا جیسا کہ میں نے بیان کیا، اور یہ دوسری بات اسی سے نکلی ہے اور اسی کے ذیل میں آتی ہے([3])۔

ایک اور مقام پر آپ سے سوال ہوا:

بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیخ محمد  بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ نے مملکت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا تھا، کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: یہ بات صحیح نہيں ہے۔ کیونکہ بلاشبہ نجد سن 256ھ سے لے کر ہی عباسی مملکت کے حکم سے باہر تھا۔ اس پر حکومت جو کرتے تھے انہیں ریاست الاخیضریہ کہا جاتا تھا جو شاید شیعہ تھے یا زیدی۔ تو وہ سلطنت سے نکل چکے تھے اور نہ ہی اصلاً عباسی مملکت کو اس میں کوئی خاص دلچسپی تھی، جب تفرقہ ، اختلاف اور ضعف ہوا تب بھی انہوں نے کسی کو یہاں نہ بھیجا، کیونکہ نجد میں اس وقت کوئی دلچسپی کی بات تھی بھی نہیں۔

پھر یکے بعد دیگر امارتيں اور مملکتیں گزرتی گئیں  اور کسی نے بھی اہل نجد سے مطالبہ نہیں کیا کہ ہماری حکومت کے تحت آؤ۔ ان کی اپنی امارتیں اور ریاستيں رہی سن 256ھ  سے لے کر جب تک مملکت الاخیضریہ ختم ہوئی تقریباً سن 500ھ میں۔ پھر اس کے بعد چھوٹی چھوٹی ریاستیں اور امارتیں  چلتی رہیں۔ جو کوئی بھی کوئی باغ کھیتی وغیرہ اگاتا  اور لوگ اس کے اردگرد جمع ہوجاتے  تو وہ اس علاقے اور بستی یا آخر تک جو تقسیم ہے اس کا امیر بن جاتا ۔

پس امام الدعوۃ شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ اس ماحول میں آئے  کہ نجد میں جو امارتیں تھیں ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا مملکت عثمانیہ سے، نہ ہی مملکت عثمانیہ انہیں کچھ خرچ وغیرہ دیتی تھی  ، اور نہ ہی وہاں کے امراء سے کوئی خراج یابیعت وغیرہ طلب کرتی تھی۔ بلکہ اسے عدم دلچسپی کی بنا پر یونہی چھوڑ دیا گیا تھا  نہ وہاں کوئی مال تھا نہ وہاں کے رہنے والوں میں دلچسپی کا سامان، بس یہ چھوٹے چھوٹے متفرق علاقے تھے۔

پس شیخ محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ اس ماحول میں آئے عیینہ  کا اپنا امیر  تھا تو حریملاء کا اپنا، جبیلہ کا اپنا تو  درعیہ، ریاض، خرج اور آخر تک جتنے علاقے ہیں سب کا اپنا اپنا امیر۔ ہر ایک میں اپنی مستقل امارت و اطاعت چلتی تھی۔ تو آپ  رحمہ اللہ نے اس امر کی طرف سب کو دعوت دی([4])۔

[1] آڈیو کیسٹ میں ریکارڈ شدہ ندوة تجديد الفكر الإسلامي، ألقيت في قاعة المحاضرات بجامعة الملك سعود، 1402هـ

[2] آڈیو کلپ ویب سائٹ الآجری پر دستیاب ہے۔

[3] شرح كتاب ثلاثة الأصول لشيخ الإسلام الإمام المجدد محمد بن عبد الوهاب المشرفي التميمي 1115هـ – 1206هـ -رحمه الله تعالى- ص 36-37للشيخ صالح آل الشيخ۔

[4] أسئلة كشف الشبهات – (1 / 4)۔

kiya_shaykh_muhammad_abdul_wahhab_uthmania_khilafah_khurooj_kiya_tha