Adopt Zuhd (asceticism), not Sufism! – Shaykh ʾAbd al-Muḥsin al-ʾAbbād

زہد اپنائیں، تصوف نہیں!

فضیلۃ الشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر حفظہ اللہ

(محدثِ مدینہ و سابق رئیس، جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: يُجمع بين الفقه والزهد والورع ويُبتعد عن التصوف لفظاً ومعنى۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله، وصلى الله وسلم وبارك على رسول الله نبينا محمد بن عبد الله وعلى آله وصحبه ومن والاه.

أما بعد؛

میں مشایخ([1]) میں سے ایک کے کلام بعنوان: ”فكيف المخدوم“ پر مطلع ہوا جو کہ صحیفہ الشرق الاوسط بتاریخ 30/11/1433ھ کو نشر ہوا، جس کے آخر میں یہ کہا گیا:

”ایک قوم کے یہاں اپنے خطابات میں جذبات کی روح، تصوفِ محمود کے اشارے بہت کم ہوتے ہیں، جبکہ دوسروں کے یہاں تصوف کا دروازہ بالکل ہی کھلا رکھ دیا جاتا ہے خواہ محمود ہو یا مذموم بنا کسی عقل و خرد یا سرچشمۂ علم کے۔ اور یہ دونوں ہی گروہ صحیح راہ سےہٹے ہوئے ہیں۔ اور دوسرے والے پہلے والوں سے بدتر ہیں۔ اور ایک قولِ ماثور جو کہ حسن درجے کا ہے ،اس میں ہے کہ:

”جو کوئی بغیر فقہ کے تصوف اختیار کرتا ہے تو زندیق بن جاتا ہے، اور جو کوئی بغیر تصوف کے فقہ اختیار کرتا ہے فاسق بن جاتا ہے، البتہ جو فقہ و تصوف کو جمع کرلیتا ہے تو یہ حق کو پالیتا ہے“۔

اور قطعی طور پر یہاں تصوف سے مراد جذبات کی روح، دل کی رقت اپنانا اور سنگدلی کو چھوڑنا ہے، ساتھ ہی قرآنی اشارات اور نبوی دلالات پر عظیم غور و فکر و فقہ  ہے۔ اور اللہ تعالی کے اپنی جنت کے اہل لوگوں کے تعلق سے اس فرمان پر غور کریں:

﴿وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ﴾  (الطور: 24)

(اور ان پر چکر لگاتے رہیں گے ان کے لڑکے، جیسے وہ چھپائے ہوئے موتی ہوں)

﴿غِلْمَانٌ﴾ سے مراد وہ خادم ہيں جو اہل جنت کے لیے مخصوص ہيں۔ اور ﴿لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ﴾ یعنی (وہ موتی) جو صدف (سیپی) میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ خالص ترین، تازہ ترین اور نفیس ترین ہوتے ہیں۔ پس اے مبار ک آپ فقہ وتصوف دونوں کو جمع رکھیں اور کہیں: یہ ہے خادم تو پھر مخدوم کیسا ہوگا؟ کیا اللہ تعالی کے یہاں  جو کچھ ہے اس کی ترغیب میں اس بیان سے بڑھ کر دیکھا ہے آپ نے، ہرگز نہیں، اللہ تعالی نے فرمادیا کہ:

﴿فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ﴾ (المرسلات: 50)

(پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟)“۔

اس کلام پر شیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی تنبیہات جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔


[1] یہ مقالہ الدكتور صالح المغامسي نے لکھا تھا، جريدة “الشرق الأوسط” يوم الثلاثـاء 30 ذو القعـدة 1433 هـ 16 اكتوبر 2012 العدد 12376، تحت عنوان: ((فكيف المخدوم؟))۔

zuhd_apnae_tasawwuf_nahi