Who are Sufis? and do they exist today? – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

صوفی کون ہیں؟ اور کیا یہ موجودہ دور میں پائے جاتے ہیں؟

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: شرح معنى الطاغوت: سوال و جواب۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال: صوفی کون  ہیں؟ اور کیا یہ موجودہ دور میں پائے جاتے ہیں؟

جواب: صوفیت کی اصل تو وہ عبادت گزار  درویش لوگ تھے جنہوں نے عبادت و زہد (دنیا سے کنارہ کشی) میں محنت کی۔ تو ان کی اصلیت تو وہ زاہد لوگ ہیں جنہوں نے عبادت، زہد اور دنیا کو ترک کرنے میں محنت کی۔ یہ ان کا شروع شروع کا معاملہ تھا، اور پہلے پہل تو یہ کچھ استقامت پر تھے، البتہ ان کا یہ عمل شدید طریقے سے دنیا سے بالکل ہی لاتعلق ہوجانا قابل تعریف نہ تھا، یعنی شروع میں بھی یہ ہر زاویے سے قابل تعریف نہیں تھی۔ لیکن یہ تھا کہ ان میں شرک نہیں تھا، نہ ہی غلو تھا۔ لیکن پھر یہ تصوف ترقی کرتا رہا یہاں تک کہ اس میں شرک داخل ہوگیا، کفر داخل ہوگیا۔ اور یہ لوگ یہ عقیدہ رکھنے لگے کہ جو عارف باللہ ہوتا ہے کہ جو اللہ کی معرفت حاصل کرچکا ہوتا ہے وہ اللہ تعالی تک پہنچ چکا ہوتا ہے، اب اسے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع کی ضرورت نہیں رہی، اور وہ اب اللہ تعالی سے براہ راست حاصل کرتا ہے، اور اب یہ لوگوں کو حکم دیتا ہے اور منع کرتا ہے اور وہ اس کی اطاعت کرتے ہيں۔

کہتے ہیں: ایک مرید اپنے شیخ (پیر) کے ساتھ ایسے ہوتا ہے جیسے میت غسل دینے والے کے ساتھ ہوتی ہے کہ وہ اس کی کسی حرکت پر اعتراض نہیں کرسکتا، وہ اسے جس چیز کا بھی حکم دے اسے ماننا ہی پڑے گا۔ تو تصوف اس حد تک پہنچ چکا ہے۔ اور یہ بلاشبہ کفر ہے العیاذ باللہ۔ بلکہ ترقی کرتے ہوئے وحدۃ الوجود کے قول تک پہنچ چکا ہے جس کا مطلب ہے  کہ ساری کائنات خود اللہ ہے، اور اس میں کوئی تقسیم نہیں اور جو کہتے ہیں کہ: کائنات میں خالق اور مخلوق ہے تو وہ مشرک ہے۔ اور توحید کا معنی ہے کہ آپ یہ عقیدہ رکھیں کہ ساری کی ساری کائنات خود اللہ ہی ہے، اور جو کوئی بھی جس بھی چیز کی عبادت کرتا ہے تو اس نے اللہ ہی کی عبادت کی۔ جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں، اور جو درختوں و  پتھروں کی عبادت کرتے ہیں وہ سب اللہ ہی کی عبادت کررہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ کائنات ہی کی کسی چیز کی عبادت کررہے ہوتے ہیں۔ تو یہاں تک تصوف کا مذہب جاپہنچا ہے العیاذ باللہ! ابن عربی ہو یا الحلاج، التلمسانی، ابن سبعین وغیرہ ان کے سرغناؤں میں سے، انہیں یہ تصوف اس غلیظ کفر تک پہنچا چکا ہے۔

اور آج جو صوفی ہیں ا ن کی غالب عبادات بدعات پر مبنی ہيں جن میں سے کوئی چیز مشروع نہیں، وہ بدعات پر بھی چلتے ہيں، اور جو کچھ ان کے پیر و مرشد انہيں حکم دیتے ہیں تو وہ ضرور اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں، وہ یہ نہيں کہتے کہ: ہم پر واجب ہے کہ ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع کریں، بلکہ کہتے ہیں: رسول تو عوام کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ ہم تو خواص کی پیروی کرتے ہیں۔

اور ان میں سے کچھ یہ بھی کہتے ہيں: جب وہ معرفت کی ایک حد کو پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کے بعد اس پر شرعی تکالیف باقی نہیں رہتیں، نہ اس پر نماز ہے، نہ روزہ، نہ حج، کیونکہ اسے وصال حاصل ہوگیا ہے (پہنچا ہوا بن چکا ہے)، اور نہ ہی اس پر کوئی چیز حرام باقی رہتی ہے۔ پس کیا اس کفر سے بڑھ کر بھی کوئی کفر ہوسکتا ہے، العیاذ باللہ؟! یہ تو کفر کی انتہاء ہے۔ اور یہ عقیدہ کہ ان کے مشائخ کائنات میں تصرف کرتے ہيں، صوفی طرق کے جو مشائخ ہوتے ہیں وہ کائنات میں تصرف کرتے ہيں، زندہ کرتے موت دیتے ہیں، عطاء کرتے اور محروم کرتے ہيں۔ تو یہ ہے تصوف اور یہ ہے اس کا موجودہ حال۔

یہی حال ہر گمراہی کا ہوتا ہے کہ شروع میں وہ اس شکل میں ہوتی ہے اور اچھی نیت کے ساتھ، پھر بڑھتے بڑھتے یہ  قبیح  صورت اختیار کرلیتی ہے۔ پس ان کا زہد اختیار کرنا جب طریقۂ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مخالف تھا([1]) تو وہ آخرکار اس حد تک پہنچا۔جبکہ جو اپنی عبادات میں اس چیز سے تمسک اختیار کرتے ہيں کہ جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   لے کر آئے ہیں تو الحمدللہ ان کا حال اس طرح متغیر نہیں ہوتا، نہ ہی اس سے مخالفت سرزد ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ صحیح راستے پر چل رہے ہوتے ہیں، جبکہ جو بدعات و محدثات کے راستے پر چل رہا ہوتا ہے تو اس کا یہی انجام ہوتا ہے، العیاذ باللہ([2](۔


[1] جیسا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اسلام میں رہبانیت اپنانے کی مذمت فرمائی ہے، ساتھ ہی ان تین صحابہ والی حدیث بھی مشہور و معروف ہے کہ جنہوں نے قسم کھالی کہ ہمیشہ روزہ رکھیں گے، رات عبادت کریں گے سوئيں گے نہيں اور کبھی شادی نہیں کریں گے تو نبئ رحمت  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے اس کی مذمت فرمائی تھی۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری شائع کردہ کتاب ”تصوف کی حقیقت اور اصولِ عبادت ودین کے متعلق ان کا مؤقف“ از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

sufi_kon_hain_mojoda_daur_sufis