The distinguish between the friends of Allaah and the friends of Shaytan – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

اولیاء  الرحمٰن اور اولیاء الشیطان میں فرق

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: شرح الأصول الستة۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

پانچواں اصول

اولیاء  الرحمٰن اور اولیاء الشیطان میں فرق

پانچواں اصول

حقیقی اولیاء اللہ کا بیان

(اللہ تعالی کا اپنے اولیاء کے بارے میں بیان کرنا، اور اللہ تعالی کا ان (اولیاء)اور جو منافقین وفاسق وفاجر اللہ تعالی کے دشمن ان جیسا محض روپ دھار لیتے ہیں کہ درمیان تفریق کرنا۔ اس بارے میں سورۂ آل عمران کی ایک آیت ہی کافی ہے، اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔۔۔﴾ (آل عمران:31)  (کہہ دو کہ اگر تم واقعی اللہ تعالی سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو، اللہ تعالی خود تم سے محبت فرمائے گا۔۔۔)، اور ایک آیت جو سورۂ مائدہ میں ہے اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: ﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ  ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ، يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ۔۔۔﴾ (المائدة: من الآية54)  (اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالی بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ تعالی کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ تعالی سے محبت رکھتی ہوگی، ، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔۔۔)اور سورۂ یونس کی آیت میں اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ، الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ﴾ (يونس:62-63)  (یاد رکھو کہ بے شک اولیاء اللہ (اللہ تعالی کے دوستوں) پر نہ کوئی خوف واندیشہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں)۔ پھر اکثر ان لوگوں کے یہاں جو علم کے دعویدار ہیں، لوگوں کے رہبر ورہنما ہیں، اور شریعت کے محافظ سمجھے جاتے ہیں یہ معاملہ بھی ایسا  ہوگیا کہ اولیاء اللہ ہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع وپیروی سےروگردانی کرتے ہوں، اور جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں ہوسکتے! اور یہ بھی لازم ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کردیں جو جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں! اور انہیں ایمان وتقویٰ کو بھی چھوڑنا لازم ہے! جو ایمان وتقویٰ کے پابند ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں! اے ہمارے رب ہم تجھ ہی سے عفوودرگزر اور عافیت کے خواستگوار ہیں، بے شک تو دعائوں کا سننے والا ہے۔

شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

بالکل یہ ایک عظیم اصو ل ہے۔ یعنی اولیاء اللہ اور اولیاء الشیطان میں فرق کرنا، کیونکہ اہل باطل  نے اب اولیاء الشیطان کو اس قدر اولیاء اللہ باور کروانا شروع کردیا ہے کہ لوگوں پر یہ معاملہ خلط ملط ہوگیا ہے، اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ  رحمہ اللہ  نے اس بارے میں ایک مفید و نافع کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے:  الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ﴾ (یونس: 62)

(یاد رکھو کہ بے شک اولیاء اللہ (اللہ تعالی کے دوستوں) پر نہ کوئی خوف واندیشہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے)

پھر اس کی وضاحت فرمادی کہ:

﴿ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ﴾ (یونس: 63)

(یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں)

یہ اولیاء اللہ ہیں کہ جنہوں نے ایمان و تقویٰ اور علم نافع و عمل صالح کو اپنے اندر جمع کردیا ہے، یہ ہیں اللہ کے ولی۔ اللہ کے ولی وہ نہیں ہیں جو اس کی شریعت سے باہر نکل جاتے ہيں اور اسے تبدیل کردیتے ہيں، اور لوگوں کو قبروں مزاروں کی عبادت کی طرف بلاتے ہيں،  یہ تو شیطان کے ولی ہيں۔ اور نہ ہی وہ ولی ہے جو جادوگر، کاہن اور خرافات زدہ ہو کہ جو لوگوں کو خارق عادت جادو ٹونے (کرتب و شعبدہ بازی) دکھا کر کہتا ہو یہ کرامات ہیں!! حالانکہ درحقیقت یہ شیطانی خارق عادت حرکتیں (شعبدہ بازیاں) ہوتی ہیں۔

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  نے فرمایا:

اس بارے میں سورۂ آل عمران کی ایک آیت ہی کافی ہے، اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔۔۔﴾ (آل عمران:31)  (کہہ دو کہ اگر تم واقعی اللہ تعالی سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو، اللہ تعالی خود تم سے محبت فرمائے گا۔۔۔)۔

شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

اللہ تعالی کی محبت عبادت کی عظیم ترین انواع میں سے ہے۔ اور اللہ سے محبت کی علامت اتباع رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہے۔ جو کوئی رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع نہیں کرتا تو وہ اللہ کا ولی نہیں ہے، نہ ہی وہ اللہ تعالی سے محبت کرتا ہے۔ یہ خرافات زدہ لوگ کہتے ہیں: اللہ کا ولی تو اس وقت تک ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اطاعت سے باہر نہ نکل جائے! ان کے نزدیک ولایت دراصل سنت رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے خارج ہونے اور خرافات و بدعات پر اعتماد کرنے میں ہے، یہ ہے ان کے نزدیک ولایت!!

وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کی عبادت اس لیے کرتے ہيں کیونکہ ہم اس سے محض محبت کرتے ہيں، اس کی جہنم کے خوف یا اس  کی جنت کی طمع میں نہیں، ہم اس کی بس اسی لیے عبادت کرتے ہیں کہ ہم اس سے محبت کرتے ہيں۔

ان سے کہا جائے گا: اس سے محبت کرتے ہو مگر کس کے طریقے کے مطابق؟ کیا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے طریقے کے مطابق اس سے محبت کرتے ہو، یا ان کے علاوہ کسی اور کے طریقے کے مطابق؟ بلاشبہ اللہ سے محبت کرنے والا کوئی ہو ہی نہیں سکتا سوائے اس کے جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع کرتا ہو، یہ ہے اصل فرق اولیاء الرحمٰن اور اولیاء الشیطان کے درمیان۔

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

اور ایک آیت جو سورۂ مائدہ میں ہے اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: ﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَسَوْفَ يَاْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهٗٓ  ۙ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ،  يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ۔۔۔﴾ (المائدة: من الآية54)  (اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالی بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ تعالی کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ تعالی سے محبت رکھتی ہوگی، ، مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت، اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔۔۔)

شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

یہ ہیں اولیاء اللہ کی صفات  کہ یقیناً وہ اللہ تعالی سے محبت کرتے ہيں اور اللہ تعالی ان سے محبت کرتا ہے۔ اور وہ ہوتے ہیں﴿اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ﴾ یعنی  مومنوں سے محبت کرتے ہوں گے ان میں مومنوں کے لیے ولاء و دوستی ہے اور  مشرکین سے برأت و نفرت ہے، آگے فرمایا:

﴿يُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَاۗىِٕمٍ ۭ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ  ۭوَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ﴾

(اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ اسے دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اور اللہ بہت وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے)

یہ چار صفات ہيں جو کہ اولیاء اللہ کی صفات ہیں۔ البتہ جو انہيں غیراللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہے کہ وہ قبروں میں مدفون فوت شدگان اور مزاروں کو پکارے، اور شیطانی شعبدے بازیوں کو اللہ کی طرف سے کرامات بتلاتا ہے، تو یہ اللہ کے دشمنوں کی صفات ہیں۔

شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  فرماتے ہيں:

اور سورۂ یونس کی آیت میں اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ،  الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ﴾ (يونس:62-63)  (یاد رکھو کہ بے شک اولیاء اللہ (اللہ تعالی کے دوستوں) پر نہ کوئی خوف واندیشہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں)۔

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

تو آپ نے ان تین آیات سے اولیاء اللہ کی صفات کو جان لیا۔ پہلی سورۃ آل عمران کی، دوسری سورۃ المائدۃ کی اور تیسری سورۃ یونس کی، ان میں اللہ کے اولیاء کی صفات بیان ہوئی ہیں، جو ان سے متصف ہوگا تو وہ اللہ کا ولی ہوگا، اور جو ان کی متضاد صفات سے متصف ہوگا تو وہ شیطان کا ولی ہوگا۔

آخر میں شیخ الاسلام  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

پھر اکثر ان لوگوں کے یہاں جو علم کے دعویدار ہیں، لوگوں کے رہبر ورہنما ہیں، اور شریعت کے محافظ سمجھے جاتے ہیں یہ معاملہ بھی ایسا  ہوگیا کہ اولیاء اللہ ہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی اتباع وپیروی سےروگردانی کرتے ہوں، اور جو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں ہوسکتے!([1])

شیخ صالح الفوزان  حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

اگر وہ شریعت سے نکل جاتا ہے تو ان کے نزدیک اسے عارف (معرفت الہی رکھنے والا عارف باللہ) کہا جاتا ہے کہ ا س کا اللہ تعالی سے وصال ہوگیا (اللہ تعالی تک پہنچ گیا) اب اسے اتباع رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حاجت نہیں، اب وہ براہ راست اللہ تعالی سے لے سکتا ہے۔

کہتے ہیں: تم لوگ اپنا دین میت سے میت حاصل کرتے ہو یعنی اسانید سے ،جبکہ ہم اپنا دین الحی سے حاصل کرتے ہیں جسے کبھی موت نہیں آنی۔ ان کا گمان ہے کہ وہ اللہ تعالی سے براہ راست حاصل کرتے ہیں۔

جو کوئی رسولوں سے حاصل کرتا ہے تو وہ ان کے نزدیک اولیاء میں سے نہيں۔ ان کے نزدیک اس وقت تک ولی نہیں ہوگا جب تک وہ اطاعت رسول  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے باہر نہ نکلے۔

متاخرین میں سے بہت سوں کے نزدیک اب ولی کوئی بن ہی نہیں سکتا جب تک اس کی قبر پر قبہ یا مسجد نہ ہو(درگاہ و مزار)۔ جبکہ وہ مدفون جو سنت کے مطابق دفن ہوا ہے  کہ اس کے قبر پر کوئی چیز نہيں رکھی گئی، تو وہ ان کے نزدیک ولی نہيں اگرچہ وہ تمام انسانوں سے بڑھ کر افضل ہی کیوں نہ ہو۔

پھر یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک ولی کا ایک خاص حلیہ ہوتا ہے، کہ اس نے عمامہ باندھا ہو اور خاص قسم کا لباس (پیروں فقیروں  جیسا جبہ قبہ و دستار) پہنا ہوا ہو۔

امام ابن القیم  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

اللہ کے اولیاء کی کوئی خاص علامت نہيں ہوتی کہ جس سے وہ نمایاں نظر آئيں بلکہ وہ تو دیگر لوگوں کی طرح ہی ہوتے ہیں کہ پہچانے نہیں جاتے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا:

” رُبَّ أَشْعَثَ [أَغْبَرَ ]مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ “ ([2])

 (لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو پراگندہ بال وغبار آلود ہوں، جو دروازوں پر سے دھکیلے جاتے ہیں، لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کردے)۔

تو یہ ہیں اولیاء اللہ کی صفات کہ وہ اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے، بلکہ چھپنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالی کے لیے اخلاص ہو(دکھلاوا نہ ہو)۔

پس اولیاء اللہ کی صفات میں سے ہیں: تواضع اختیار کرنا، (اپنی نیکی پرہیزگاری کو) چھپانا اور  دکھلاوا و مشہوری نہ چاہنا۔


[1] اصل متن میں ان الفاظ کا بھی اضافہ ہے: اور یہ بھی لازم ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کردیں جو جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں! اور انہیں ایمان وتقویٰ کو بھی چھوڑنا لازم ہے! جو ایمان وتقویٰ کے پابند ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں! اے ہمارے رب ہم تجھ ہی سے عفوودرگزر اور عافیت کے خواستگوار ہیں، بے شک تو دعائوں کا سننے والا ہے۔

[2] أَغْبَرَ کے لفظ کے بغیر یہ حدیث صحیح مسلم 7190 میں ہے۔ جبکہ الترمذی 3854  کے الفاظ ہیں: ” كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ۔ مِنْهُمْ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ“ (کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور بوسیدہ کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچی کر دے ، انہی میں سے براء بن مالک رضی اللہ عنہ  بھی ہیں)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

awliyah_rahman_awliyah_shaytan_farq