Example of accepting Tawheed Rubobiyyah while rejecting Tawheed Uloohiyyah by Mushrikeen – Shaykh Rabee bin Hadee Al-Madkhalee

مشرکین کے توحید ربوبیت ماننے اور توحیدالوہیت نہ ماننے کی مثال

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: مرحباً يا طالب العلم ص 170-172۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

شیخ حفظہ اللہ ان داعیان کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جوطلب علم اور اپنی دعوت کو توحید سیکھنے اور شرک کے رد سے شروع نہیں کرتے اورجب کلمۂ توحید کا معنی کرتے بھی ہيں تو باطل اور غلط معنی کرکےلوگوں کا عقیدہ و منہج بگاڑتے ہیں:

ایسے داعیان اللہ کی قسم ظالم ہیں۔ اگر اللہ تعالی کا ارادہ ان کے ساتھ خیر کا ہوتا تو انہیں دین کی فقہ و فہم عطاء فرمادیتا، اور اگر انہیں وہ فقہ عطاء کی جاتی تو یہ ضرور دعوت الی اللہ میں منہج الانبیاء پر چلتے۔پس وہ توحید سے شروع کرتے اور لا الہ الا اللہ کے معنی کی تصحیح سے شروع کرتے کہ جس کے معنی کو اہل اہواء نے لوگوں کی عقلوں میں بگاڑ کررکھ دیا ہے اور اپنی مؤلفات، مدارس اور جامعات میں بھی۔

چناچہ آپ کسی شخص کو ڈاکٹریٹ پائيں گے کہ وہ جامعہ سے فارغ ہوا ہے لیکن لا الہ الا اللہ کا معنی نہيں جانتا۔ ان کے نزدیک لا الہ الا اللہ کا مطلب ہے: لا حاکم الا اللہ (اللہ تعالی کے سوا کوئی حاکم اعلیٰ نہیں)، لا خالق الا اللہ  (اللہ تعالی کے سوا کوئی خالق نہیں)، لا رازق الا اللہ (اللہ تعالی کے سوا کوئی رازق نہیں)، لا مسیطر۔۔۔لا مھیمن الا اللہ (اللہ تعالی کے سوا کوئی غالب و نگہبان نہیں) وہ لا الہ الا اللہ کی تفسیر  ربوبیت کے معنی میں کرتے ہیں کہ جس سے تکبر و انکار تو  ابو جہل و ابو لہب اور  ان کے علاوہ دوسرے کفر و شرک کے اماموں نے بھی نہیں   کیا تھا!

﴿وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ﴾  (لقمان: 25)

(اور بلا شبہ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے)

﴿اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ  ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ﴾ (یونس: 31)

(یا جو تمہاری قوت سماعت وبصارت کا مالک ہے، اور جو مردے سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کو نکالتا ہے، اور جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا  ہے، تو وہ عنقریب کہیں گے کہ (یہ سب کام تو)اللہ تعالی کرتا ہے)

وہ کبھی بھی ربوبیت کے معنی  سے تکبر وانکار نہيں کرتے تھے، بلکہ وہ تو اسے تسلیم کرتے تھے، اس میں سے کسی چیز میں تنازع نہیں کرتے تھے۔ لیکن جو لا الہ الا اللہ کے حقیقی و اساسی معنی یعنی دین اور عبادت کو اللہ تعالی کے لیے خالص کرنا، اس کی وجہ سے وہ رسولوں کو اذیت دیتے، ان سے لڑتے، ان میں سے بعض کو قتل تک کرڈالتے اور  سب و شتم کرتے جیسا کہ آج اہل بدعت و گمراہی اہل توحید و سنت کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔

(ان مشرکوں سے جب کہا جاتا)

﴿اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ﴾

(بے شک  وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا : لا الہ الا اللہ ( اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں))

تو وہ کیا جواب دیتے؟ او رکیا کرتے؟

﴿يَسْتَكْبِرُوْنَ﴾ (الصافات: 35)

(تو وہ تکبر کرتے تھے)

(جبکہ اس کے برعکس جب پوچھا جاتا)

﴿وَلَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ﴾

(اور بلا شبہ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا)

تو کیا جواب ہوتا؟

﴿لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) (لقمان: 25)

 (تو ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے)

﴿اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ  ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ﴾ (یونس: 31)

(یا جو تمہاری قوت سماعت وبصارت کا مالک ہے، اور جو مردے سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردے کو نکالتا ہے، اور جو تمام کاموں کی تدبیر کرتا  ہے، تو وہ عنقریب کہیں گے کہ (یہ سب کام تو)اللہ تعالی کرتا ہے)

آیات تو بہت ہيں اس معنی کی۔ چناچہ وہ اس سے تکبر و انکار نہ کرتے، نہ اس معنی کے تعلق سے لڑتے کہ جس پر آج قبرپرست ایمان رکھتے ہيں ساتھ میں گمان کرتے ہيں کہ بلاشبہ ہم تو توحید پرست ہیں! گمان کرتے ہیں کہ یہی تو توحید ہے۔

اگر یہی وہ توحید ہوتی  کہ جس کو دے کر تمام رسول علیہم الصلاۃ والسلام مبعوث کیے گئے تو پھر ابوجہل و ابو لہب توحید پرستوں کے سردار ہوتے۔ لیکن (حقیقت یہ ہے کہ) اگر وہ اس توحید ربوبیت پر ایمان لے بھی آتے  تب بھی کفار و مشرکین ہی رہتے کیونکہ وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس توحید عبادت کے تعلق سے لڑرہے ہوتے کہ جسے دے کر تمام رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام کو مبعوث کیا گیا تھا:

﴿اِنَّهُمْ كَانُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ۙ يَسْتَكْبِرُوْنَ﴾   (الصافات: 35)

(بے شک  وہ ایسے لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا : لا الہ الا اللہ ، تو وہ تکبر کرتے تھے)

﴿اَجَعَلَ الْاٰلِـهَةَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا   ښ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾  (ص: 5)

(کیا اس نے تمام معبودوں کا ایک ہی معبود کر ڈالا ؟ بلاشبہ یہ یقیناً بہت عجیب بات ہے)

آج اللہ کی قسم! کتابوں کی کتابیں، جلدو ں کی جلدیں اشاعرہ، صوفیہ، معتزلہ، خوارج، روافض اور تمام آئمہ سوء وبدعت کے یہاں پائی جاتی ہیں(جن میں محض توحید ربوبیت ہوتی ہے یا کلمۂ توحید کے معنی کو بگاڑاگیا ہوتا ہے)، وہ کتابیں و جلدیں پڑھائے جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ توحید ہے!

وہ اس توحید پر بات ہی نہیں کرتے کہ جس کے ساتھ تمام رسولوں علیہم الصلاۃ والسلام کو مبعوث کیا گیا تھا۔ بلکہ وہ تو تمام لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے ہيں۔ اور اگر کبھی کلمۂ توحید کی تفسیر کرنے بھی لگیں تو اس کا معنی ہی بگاڑ دیتے ہيں۔ اور لوگوں کو خواہ عوام ہوں یا پڑھے لکھے وغیرہ سب کو توحید عبادت میں کیے جانے والے شرک کی دلدل میں دھنسا دیتے ہیں۔

mushrikeen_tawheed_rubobiyyat_mante_ulohiyyat_inkar_krte_misal