Ruling regarding saying Ali (radiAllaaho anhu) was born inside the Ka’bah and using “Karramullaaho wajhu” specially for him? – Various ‘Ulamaa

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ  کو مولودِ کعبہ اور کرم اللہ وجہہ کہنا

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

صحیح مسلم میں امام مسلم  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

” وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً “([1])

 (حکیم بن حزام  رضی اللہ عنہ  کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور ایک سو بیس برس تک زندہ رہے)۔

شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ان کا ایک سو بیس سال جینا کوئی انوکھی بات نہیں، البتہ ان کا کعبۃ اللہ میں پیدا ہونا انوکھی بات لگتی ہے۔ (طلبہ سے پوچھتے ہیں) کیا آپ لوگوں کے پاس شرح میں اس پر کوئی تعلیق لکھی ہوئی ہے؟

(ایک طالبعلم کہتا ہے) میرے پاس اس کے حاشیے میں لکھا ہے:

وہ اور ان کی والدہ اور ان کے ساتھ قریش کی کچھ عورتیں کعبۃ اللہ میں داخل ہوئی تھیں تو اچانک انہيں درد زہ ہونے لگا جبکہ وہ کعبۃ اللہ کے اندر تھیں، پھر انہوں نے حکیم  رضی اللہ عنہ  کو جنم دیا۔

شیخ فرماتے ہیں: اس بات سے اس کے انوکھے ہونے میں کچھ تخفیف ہوتی ہے([2])۔

البتہ امام حاکم نے اپنی المستدرک (مع التلخیص ج 3 ص 483) کتاب معرفۃ الصحابۃ میں مصعب الزبیری    رحمہ اللہ کی اس بات پر کہ حکیم بن حزام  رضی اللہ عنہ  کے علاوہ کوئی کعبہ میں پیدا نہيں ہوا فرمایا کہ ایسا نہيں بلکہ:

اس بارے میں متواتر اخبار ہیں کہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا نے امیر المؤمنین  علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کو کعبہ کے اندر جنم دیا۔اھ

حالانکہ امام النووی  رحمہ اللہ صحیح مسلم کی شرح ج 2 ص 142 حکم عمل الکافر اذا اسلم کے تحت فرماتے ہیں:

حکیم بن حزام  رضی اللہ عنہ  صحابی ہيں اور آپ کے مناقب میں سے ہے کہ آپ کعبہ میں پیدا ہوئے، اور بعض علماء فرماتے ہيں اس میں کوئی بھی ان کا شریک نہيں جانا جاتا۔اھ

یہی بات آپ اپنی کتاب تهذيب الأسماء واللغات – أولاً – الأسماء – ج 1 ص 166 میں بھی فرماتے ہوئے مزید کہا کہ:

البتہ جو روایت کیا جاتا ہے کہ علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ  بھی اس میں پیدا ہوئے تھے تو یہ ضعیف ہے علماء کرام کے نزدیک۔اھ

ابن الملقن  امام الحاکم رحمہما اللہ پر تعقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

یہ حکیم  رضی اللہ عنہ  کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ، ان کے علاوہ کسی کا اس میں پیدا ہونا نہيں جانا جاتا، البتہ جو علی  رضی اللہ عنہ  کے متعلق روایت کیا جاتا ہے کہ وہ بھی اس میں پیدا ہوئے تو وہ ضعیف ہے۔ لیکن الحاکم نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی المستدرک میں علی  رضی اللہ عنہ  کے ترجمے کے تحت کہا ہے کہ  اس بارے میں متواتر اخبار ہيں([3])۔

اور یہ بھی ہے کہ امام الحاکم  رحمہ اللہ جب متواتر کہتے ہيں تو اس کا وہ اصطلاحی معنی نہیں کہ جس کے اتنے راوی ہوں ہر طبقے میں جن کا جھوٹ پر اکھٹا ہونا محال ہو، بلکہ جو عام معنی ہے کہ فلاں بات مشہور ہے، اگرچہ اس کی سند کمزور یا بے سند ہی کیوں نہ ہو، اس بات پر تنبیہ علماء کرام نے اپنی کتب میں فرمائی ہیں دیکھیں  مقدمة ابن الصلاح ومحاسن الاصطلاح  ص 453۔

امام حاکم  رحمہ اللہ  کی وفات 405ھ میں ہوئی، جبکہ مصعب الزبیری   رحمہ اللہ کی وفات 236ھ میں ہوئی ساتھ میں آپ قریش کے نسب نامے و اخبارات کے تعلق سے   بہت زیادہ علم رکھتے تھے۔

ساتھ ہی امام الحاکم  رحمہ اللہ کے تراجم میں یہ بیان ہے کہ ان میں تھوڑا سا تشیع پایا جاتا تھا۔ دیکھیں سير أعلام النبلاء،الطبقة الثانية والعشرون، الحاكم  ص 166۔

اور ویسے بھی اسلام سے قبل کا واقعہ ہے جبکہ اسلامی احکامات میں سے یہ ہے کہ حیض و نفاس والی عورت مسجد میں نہ بیٹھے۔

کیا علی  رضی اللہ عنہ  کے لیے خصوصی طور پر دیگر صحابہ سے الگ کرم اللہ وجہہ استعمال کرنا چاہیے؟

یہ بھی شیعوں کی وجہ سے تاریخ میں زبان زد عام ہوگیا تھا۔

اما م ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں:

یہ بات بہت سے کتاب لکھنے والوں کی عبارت میں  غالب ہے کہ وہ علی  رضی اللہ عنہ  کو منفرد کرتے ہوئے دیگر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم   کے علاوہ علیہ السلام یا کرم اللہ وجہہ  کہتے ہيں، اس کا اگرچہ معنی تو صحیح ہے لیکن ہمیں چاہیے کہ پھر صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم   میں اس بارے میں برابری کریں ، کیونکہ اگر یہ تعظیم و تکریم کی وجہ سے کیا جاتا ہے تو اس کے آپ  رضی اللہ عنہ  سے زیادہ حقدار تو شیخین (ابو بکر و عمر) اور امیر المؤمنین عثمان  رضی اللہ عنہم   ہيں۔

تفسیر ابن کثیر 3/517-518۔

اسی طرح سے سعودی فتویٰ کمیٹی سے سوال ہوا۔

سوال اول فقرہ (د) فتویٰ رقم 3627 میں سے،

سوال: علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ  کو کرم اللہ وجہہ کا لقب کیوں دیا جاتا ہے؟

الحمدللہ وحدہ والصلاۃ والسلام علی رسولہ وآلہ وصحبہ۔۔۔وبعد:

علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ  کو کرم اللہ وجہہ کا لقب دینا اور اسے ان کے ساتھ مخصوص کرنا  شیعہ کے غلو میں سے ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اس لیے   کیونکہ آپ نے کبھی بھی کسی کی شرمگاہ نہیں دیکھی یا  آپ نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہيں کیا۔ حالانکہ یہ آپ  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ خاص نہيں بلکہ اس میں دوسرے وہ صحابہ  رضی اللہ عنہم   بھی ان کے ساتھ شریک ہیں جو اسلام میں ہی پیدا ہوئے۔

وباللہ التوفیق وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء

رکن                   رکن                              نائب صدر                                   صدر

عبداللہ بن قعود      عبداللہ بن غدیان               عبدالرزاق عفیفی                عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

سوال: کیا ہمارے جائز ہے کہ ہم کہیں علی کرم اللہ وجہہ کہیں؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ:

 رضی اللہ عنہ  کہیں۔ یہ شیعوں کی بدعت میں سے ایک بدعت ہے۔ انہيں علی  رضی اللہ عنہ  کہا جائے جیسا کہ (ابو بکر) الصدیق رضی اللہ عنہ ، عمر  رضی اللہ عنہ  اور عثمان  رضی اللہ عنہ  کہا جاتا ہے([4])۔

کیا علی  رضی اللہ عنہ  کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے؟!

اسی طرح کی ایک  جھوٹی اور من گھڑت حدیث ہے کہ:

”النَّظرُ  إلى وجهِ عليٍّ عبادةٌ “

(علی  رضی اللہ عنہ  کے چہرے کو دیکھنا ایک عبادت ہے)۔

امام ابن الجوزی  رحمہ اللہ اپنی کتاب ”الموضوعات“ میں فرماتے ہیں:

یہ اپنے تمام تر طرق کے ساتھ صحیح ثابت نہيں ہے([5])۔اھ

امام الذہبی  رحمہ اللہ بھی کئی ایک مقامات پر اس کے من گھڑت اور باطل ہونے کا حکم لگاتے ہيں جیسے ”ميزان الاعتدال“  3/236۔

امام الشوکانی  رحمہ اللہ نے بھی ”الفوائد المجموعة في الأحاديث الموضوعة“ص 359  میں اسے ذکر کیا ہے۔

شیخ البانی  رحمہ اللہ اس حدیث کی لمبی تخریج کرنے کے بعد اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث اپنے ان بہت سے طرق  کے باوجود ایسی نہيں کہ جس پر دل مطمئن ہو، کیونکہ ان میں سے اکثر روایات تو کذابین(جھوٹوں) اور وضاعین (من گھڑت حدیثیں بنانے والوں) کی ہيں، اور ساری روایات ان متروکین و مجہولین  کی ہيں کہ جن سے بعید نہيں کہ وہ احادیث چوری کیا کرتے تھے اور ان کی  خود سے صحیح اسانید بناکر پیش کرنے لگتے تھے۔ اسی لیے ابن الجوزی  رحمہ اللہ کا یہ قول صواب سے بعید نہيں جب انہو ں نے ان کے من گھڑت ہونے کا حکم لگایا([6])۔اھ

بہرحال الحمدللہ خلیفۂ راشد امیر المؤمنین علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ   کے اتنے فضائل و مناقب صحیح احادیث سے ثابت ہيں کہ انہیں ان جھوٹے، خرافا ت و غلو پر مبنی مناقب کی حاجت نہيں۔


[1] صحیح مسلم حدیث 3859 کے تحت۔

[2] شرح صحيح مسلم، كتاب البيوع-کیسٹ رقم 02a۔

[3] البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير – ج 6 کتاب البیوع ص 489۔

[4] فتویٰ : حكم قول علي كرم الله وجهه۔

[5] الموضوعات 2/126۔

[6] السلسلة الضعيفة4702۔

ali_ko_molood_e_kaba_karramullaah_wajhu_kehna