Prohibition of prejudice and discrimination in Islam

اسلام میں عصبیت کی مذمت

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے جب بعض مہاجرین وانصار کی طرف سے عصبیت کی پکار سنی تو اسے جاہلیت کی پکار قرار دے کر فرمایا:

’’دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ‘‘ ([1])

(اسے چھوڑ دو کہ یہ متعفن وبدبودار ہے)۔

اور فرمایا:

’’وَمَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ، فَهُوَ مِنْ جُثَا جَهَنَّمَ‘‘ ([2])

(اور جو کوئی بھی جاہلیت کی سی پکارلگائےتو وہ جہنم کا ایندھن ہوگا)۔

اور فرمایا:

’’لَيْسَ مِنَّامَنْ دَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ‘‘ ([3])

(وہ ہم میں سے نہیں جو جاہلیت کی کی سی پکارلگائے)۔

مزید فرمایا:

’’مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعْضُوهُ بِهِنَّ أَبِيهِ وَلا تُكَنُّوا‘‘ ([4])

(جوجاہلیت کی باتوں پر فخر کرےتو اسے کہوجاکر اپنے باپ کی شرمگاہ چبا، اور کوئی کنایہ نہ کرو(بلکہ صاف یہی الفاظ بول دو))۔

شیخ ابن عثیمین  رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 یہ حدیث صحیح ہے، اور’’تعزى بعزاء الجاهلية‘‘ سے مراد ہے حسب ونسب پر فخر کرنا، کیونکہ’’التعزية‘‘کا معنی  ’’التقوية‘‘ ہوتا ہے۔اور آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ فرمانا: (اپنے باپ کی ’’ھن‘‘ چبا اور کوئی کنایہ نہ کرو) یعنی اپنے باپ کا ذَکَر۔ یعنی اسے کہہ دو اپنے باپ کا ذکر چباؤ اور اگر چاہے تو اس کا جو نام عوام کے یہاں معروف ہے وہ لے لے۔ یہ فرمان ایسا ہی ہے جیسا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر دشمن کو کہا:

’’امْصُصْ بَظْرَ اللَّاتِ‘‘

(لات کی بظر چوسو)۔

 بظر (فرج کےاوپر والی کلغی) کو کہتے ہیں۔اور یہ کلمہ ہجاء وقباحت کے لیے استعمال ہوتا ہے([5])۔

اسی طرح ایک  سوال کے جواب میں برداری و نسل پرستی کا رد کرتے ہوئےشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

خود نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان ذا ت پات اور طبقاتی تقسیم کو نظرانداز فرما کر بہترین مثالیں پیش کیں جیسے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا جو کہ قریشی خاتون تھیں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما  جو کہ آزاد کردہ غلام تھےسے شادی کی۔ اسی طرح سے ان کے والد (یعنی زید  رضی اللہ عنہ وہ بھی آزاد کردہ غلام تھے) نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے شادی کی جو کہ اسدی تھیں اور ان کی والدہ نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی پھوپھی تھیں۔ اور ان کے طلاق دیے جانے کے بعد خود نبی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ان سے نکاح فرمالیا۔ بلال رضی اللہ عنہ جو کہ حبشی آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے زہریہ جو کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کی بہن تھیں ان سے شادی کی([6])۔


[1] صحیح بخاری 4905، صحیح مسلم 2586۔

[2] مسند احمد 16718، تخریج المشکوۃ المصابیح للالبانی 3622 اسنادہ صحیح۔

[3] صحیح مسلم 105۔

[4] السنن الکبری للنسائی 8809، السلسلة الصحيحة 269۔

[5] اللقاء الباب المفتوح للشيخ ابن عثيمين 233۔

[6] موقف الإسلام من التمييز العنصري مختصراً۔

islam_asbiyyat_muzammat