Defaming and degrading the Sahabi Muawiyyah (radiAllaaho anhu) and Banu Umayyad & Abbasid caliphate – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

معاویہ رضی اللہ عنہ اور بنوامیہ و بنو عباس پر طعن و تشنیع کرنا

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: الإجابات الفاصلة على الشبهات الحاصلة، شبهة: 42۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سوال:اس ملک میں ایک داعی ظاہر ہوا ہے جو ایک فضائی چینل پر بیٹھ کر معاویہ  رضی اللہ عنہ  پر طعن وتشنیع کرتا ہے اور کہتا ہے: بلاشبہ الحسن بن علی  رضی اللہ عنہما   پوری زمین اگر معاویہ  رضی اللہ عنہ  جیسوں سے بھر جائے ان سے بھی افضل تھے، ساتھ ہی کہتا ہے کہ: بے شک بنی امیہ و بنی العباس ہی دراصل سبب ہيں جس (برے )حال میں آج ہم جی رہے ہیں، آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے جو اس طرح کہتا ہے([1]) ؟

جواب: بنو امیہ و بنو العباس مسلمانوں کے ولاۃ امور   (حکمران) رہ چکے ہیں  اور بالجملہ انہوں نے امت میں اصلاح بھی کی ہے اگرچہ ان میں سے بعض سے کچھ غلطی بھی ہوئيں، لیکن بالجملہ انہوں نے جہاد کیا، اسلام کو نشر کیا اور فتوحات کیں، اور اسلامی مملکت کی حفاظت کی الحمدللہ۔ پس ان کے ہاتھوں خیر کثیر حاصل ہوئی۔

جبکہ جہاں تک بات ہے معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی تو آپ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، آپ  رضی اللہ عنہ  کی اپنی ہی قدر و منزلت ہے، آپ بالجملہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  میں شامل ہیں کہ جن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي‘‘ ([2])

(میرے صحابہ کو سب و شتم نہ کرو)۔

معاویہ  رضی اللہ عنہ  کو سب و شتم کرنا جائز نہيں کیونکہ بلاشبہ آپ  رضی اللہ عنہ  صحابی ہيں۔ اس میں کسی کا بھی اختلاف نہيں کہ بلاشبہ معاویہ  رضی اللہ عنہ  صحابہ میں سے ہیں لہذا انہيں سب و شتم کرنا یا ان کی تنقیص شان وتوہین کرنا  کسی صورت جائز نہيں، ایک زاویہ تو یہ ہے۔

دوسرا زاویہ: معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے اعمال میں سوائے خیر ، مسلمانوں کے کلمے کو مجتمع رکھنے اور گمراہ فرقوں کا سدباب کرنے کے کچھ نہیں جانا جاتا، اسی لیے ان کی بیعت والے سال کو عام الجماعۃ (جماعت کا سال) کہا جاتا ہے۔کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی نے اس میں ان کے ذریعے مسلمانوں کے مابین اجتماع فرمایا اور اہل شر و گمراہی کے شر وبرائی کا سدباب فرمایا تھا۔ اور آپ  رضی اللہ عنہ  نے مسلمانوں کی بڑی حکیمانہ وعادلانہ سیاست چلائی([3])۔

اور الحسن بن علی  رضی اللہ عنہما  کی بھی بلاشبہ بہت بڑی فضیلت ہے، آپ  رضی اللہ عنہ  تو اہل جنت نوجوانوں کے سردار ہيں۔ اور خود یہی الحسن  رضی اللہ عنہ  ہی تو تھے جو معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے لیے خلافت سے دستبردار ہوئے تھے تاکہ مسلمانوں کا خون نہ بہے اور ان کا کلمہ جمع رہے۔ تو کیا الحسن  رضی اللہ عنہ  نے ایسا کرکے غلطی کی تھی؟؟! خود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ  رضی اللہ عنہ  کے اس مؤقف کی (پیشگی) تعریف فرمادی تھی، فرمایا تھا کہ:

’’إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَسَيُصْلِحُ اللهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ بَينَ الْمُسْلِمِينَ‘‘([4])

(بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور عنقریب اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے مابین صلح کروادے گا)۔

چناچہ آپ  رضی اللہ عنہ  کے اس مؤقف کی تعریف فرمائی کہ آپ نے مسلمانوں کے کلمے کو جمع رکھنے اور ان کا خون بہنے سے بچانے کی خاطر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے لیے دستبرداری اختیار کی  اور اس سے خیر کثیر حاصل ہوئی الحمدللہ۔ لہذا یہ تو الحسن  رضی اللہ عنہ  کے فضائل میں سے ہے ، اور ا ن کے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف ہی کافی ہے ہر تنقید کرنے والے کے خلاف جو اس مؤقف پر ان کے تنقید کرے([5])۔

اور امویوں اور عباسیوں کو سب و شتم کرنا سوائے خبیث باطنیوں کے کسی سے نہیں جانا جاتا کہ جو مسلمانوں کے اندر فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اسلام کا پرچار کرنے والی ان دو عظیم حکومتوں میں موجود اپنے سلف پر اعتماد نہ کریں۔


[1] ہمارے یہاں بھی ابوالاعلیٰ مودودی وسید قطب وغیرہ جیسوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مولوی اسحاق جہال والا اور انجینئر محمد علی مرزا اسی باطل و فتنہ پرورمنہج پر گامزن ہیں۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[2] أخرجه البخاري: 1343/3، رقم: 3470، ومسلم: 1967/4، رقم: 2541۔

[3] تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر ’’امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے فضائل اور آپ کا دفاع‘‘ ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

[4] صحیح بخاری 7109۔

[5] تفصیل کے لیے پڑھیں ہماری ویب سائٹ پر ’’ مختصر سیرت نواسان ِرسول حسن وحسین رضی اللہ عہنما ‘‘ ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

muawiyyah_bano_umayyah_abbas_tan_krna