Ruling regarding speaking against the Muslim ruler of another country – Various ‘Ulamaa

اپنے ملک کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے مسلمان حکمران کے خلاف بات کرنے کا حکم   

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

سوال:فضیلۃ الشیخ وفقکم اللہ، یہ سائل کہتا ہے کسی  بھی ملک میں ایک مسلمان داعی  کے لیے جائز ہے کہ وہ  دوسرے ملک کے مسلمان حکمران کے خلاف بات کرے؟

جواب:  نہیں،  وہ عقیدۂ اہل سنت والجماعت کو نشر کرے، وہ بس حکمرانوں اور ان کے علاوہ کے بارے میں بھی عقیدۂ اہل سنت والجماعت نشر کرے، چاہے کافروں کے ملک ہوں یا مسلمانوں کے ملک۔ ایک طالبعلم پر اور ایک مسلمان پربس یہی چیز واجب ہے ۔

(شرح العقیدۃ الواسطیۃ بتاریخ 19/6/1437ھ)

شیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

سوال:بعض نوجوان ان حکام پر بات کرتے ہيں جو ان کے حکام نہیں ہوتے یعنی دوسرے (اسلامی) ممالک کے ہوتے ہیں، اور اگر انہيں نصیحت کی جائے تو وہ کہتے ہیں یہ ہم پر حکام نہيں، تو ہم ایسے لوگوں کا کس طرح سے رد کریں؟

جواب:میں نے ایک ماہ پہلے سنا تھا  یہ بات ہمارے نجد میں ایک بھائی کی طرف منسوب تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں نے پھر اس کا تتبع نہیں کیا۔ بہرحال خواہ اس کی طرف یہ بات صحیح منسوب ہو یا نہيں، یہ اس دور کی ایک غلطی ہے۔ کیونکہ بلاشبہ کوئی بھی ملک ہو ضرور وہاں ایسے احمق بیوقوف ہوتے ہيں جنہيں حمیت و جوش آتا ہے۔ اسی لیے میں اس کے جواز کا قائل نہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں مفاسد مرتب ہوتے ہيں۔

مثال کے طور پر اگر ہم اپنے ملک کے حاکم کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے حاکم کو گالی دیں اور عار دلائیں، تو اس کے نتیجے میں کوئی بھی بیوقوف، ظالم، منحرف واحمق شخص اس سے پرہیز نہیں کرے گا  کہ وہ ہمارے حکام کو گالی دے اور ان کے خلاف ابھارے، اور کبھی تو خوارج کے ساتھ ان کے منصوبوں میں شریک ہوجائے ۔

اور مفاسد کو دور کرنا ایک شرعی قاعدہ ہے۔ اور اس بارے میں ہم تفصیلی قول ایک سے زائد مجالس میں ذکر کرچکے ہيں، جن میں سے کتاب ’’ تيسير الإله بشرحِ أدلة شروط لا إله إلا الله ([1])  وغیرہ میں بھی اسے ذکر کیا ہے۔

[ویب سائٹ میراث الانبیاء سے فتوی ]


[1] اس کتاب کا ترجمہ ہماری ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

dosray_mulk_hakim_per_kalam_hukm_fawzaan_ubaid