Doing careful investigation of potential spouse – Shaykh Muhammad bin Saaleh Al-Uthaimeen

شادی سے پہلے رشتے کی اچھی طرح سے تحقیق کرنا   

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ المتوفی سن 1421ھ

(سابق سنئیر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

مصدر: فتاوى نور على الدرب [413] – للشيخ محمد بن صالح العثيمين۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: رشتے کا پیغام بھیجنے والے شخص کی تحقیق کرنے کے تعلق سے آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: رشتے کا پیغام بھیجنے والے شخص کی تحقیق کرنا  واجب ہے تاکیدی واجب۔ خصوصاً اس دور میں جس میں اچھا برا سب خلط ملط ہے، اور اس میں جھوٹ، جھوٹی صفات بیان کرنا، جھوٹی گواہی دینا سب عام ہے۔ کیونکہ ہوسکتا ہے بظاہر نکاح کا پیغام بھیجنے والے میں دین داری، استقامت اور عمدہ اخلاق نظر آتے ہوں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہو۔ اور وہ اپنا روپ ایسا دھار کر رکھے کہ نکاح کی امیدوار لڑکی اور اس کے گھر والوں کو یہ دھوکہ دے کہ وہ دینی استقامت  پر ہے اور بڑے اخلاق والا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے اس کے گھر والے اس کے اس جھوٹ میں اس کی تائید کریں۔اور ہوسکتا ہے وہ گھر والوں کے علاوہ بھی گواہ اٹھا لائے جو اس کی دین داری، نیک صالح ہونے اور استقامت کی گواہی دے۔ لیکن جب شادی ہوجائے تو پھر معلوم ہو کہ وہ درحقیقت اپنے دین واخلاق میں اس کے برعکس ہے جو وہ ظاہر کیا کرتا تھا۔

اسی لیے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ واجب ہے کہ تحقیق کی جائے،تاکیدی واجب، اور یہ تحقیق بہت باریک بینی سے کی جائے۔ اس میں کوئی نقصان وحرج نہيں اگر جواب دینے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہوجائے دس دن یا بیس دن یا پورا مہینہ، تاکہ انسان مکمل بصیرت پر ہو، پس اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ رشتے کا امیدوار واقعی ان اوصاف سے متصف ہے جن میں رغبت رکھی جاتی ہے، اور وہ ان میں سے ہے جن کے دین واخلاق سے راضی ہواجاتا ہے تو پھر شادی کرلے۔

اور کسی کے لیے جائز نہيں کہ وہ لڑکی کی اس قسم کے شخص میں رغبت پر کسی بھی حیل وحجت کے ذریعے اعتراض کرے ۔ کیونکہ ہم نے یہ بھی سناہے کہ لڑکیوں کے بعض اولیاء اپنی زیردست  لڑکی کو ایسے شخص سے نکاح کرنے سے روکتے ہيں جس کے دین واخلاق سے راضی ہوا جاتا ہے،  اور وہ لڑکی بھی اس سے راضی ہوجاتی ہے لیکن وہ لوگ فضول قسم کی حجتوں سے اسے روکتے ہيں جیسے کہتے ہیں: وہ شخص ہمارے قبیلے میں سے نہيں، یا کہتے ہیں: اس کے پاس تو ڈگری نہيں جبکہ ہماری لڑکی کے پاس ڈگری ہے، یا کہتے ہیں: اس کے پاس تو بڑی جاب نہيں حالانکہ اس کا مالی معاملہ (اس کے بغیر بھی) مستحکم ہوتا ہے اور اس کے علاوہ دیگر باطل اور بے کار وجوہات۔ اور بعض اپنی زیردست لڑکی کی شادی اس لیے نہيں کرواتے کہ وہ تو ابھی پڑھ رہی ہے، اور اس کی پڑھائی کے بعد اس کی کمائی اور تنخواہ کھانے کی تمنا رکھتے ہیں، چناچہ اس صورت میں وہ اسے اس غرض سے یوں غنیمت سمجھ کر بٹھائے رکھتے ہیں۔

الغرض میں اس قسم کے اولیاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ: اللہ تعالی سے اس بارے میں ڈرو کہ اس نے اسے تمہاری زیرسرپرستی دیا ہے، اپنے عورتوں کو اس شخص سے شادی کرنے سے ہرگز نہ روکو جس کے دین واخلاق سے وہ راضی ہوجائیں، محض اپنےشخصی اغراض ومقاصد ، یا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالف عادات واطوار وغیرہ کی وجہ سے ۔ جیسا کہ میں ان کو ایک بار پھر نصیحت کرتا ہوں اس کے برعکس معاملے کے تعلق سے بھی یعنی لڑکیوں کا نکاح کسی ایسے شخص سے کردیا جائے جو اسے پسند نہ ہو تو یہ پر ان پر حرام ہے۔ بلکہ قول راجح کے مطابق ایسا نکاح صحیح نہیں ہے، اگرچہ اس پر مجبور کرنے والا باپ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’ لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ‘‘

(کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے)۔

اور بیوہ کے لیے فرمایا:

’ لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ‘‘([1])

(بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے)۔

بلکہ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا‘‘([2])

(اور کنواری سے بھی اس کا باپ مشورہ کرے)۔

پس کنواری کے بارے میں بھی نص ہے اور اس کے باپ کے بارے میں بھی۔لہذا جائز نہيں کہ عورت کو ایسے شخص سے شادی کرنے پر مجبور کیا جائے  جس سے وہ شادی نہ کرنا چاہتی ہو چاہے کوئی بھی سبب ہو۔ اس صورت میں باپ پر بھی کوئی حرج وملامت نہيں اگر بالفرض  لڑکی بالکل بھی کسی سے نکاح کرنا ہی نہیں چاہتی ہو، اس صورت میں باپ پر کوئی پکڑ نہيں نہ ہی اس کے علاوہ دیگر اولیاء پر اگر وہ اس حالت میں اس کی شادی نہ کروائیں، اگرچہ وہ اپنی پوری زندگی بن بیاہی رہے۔ کیونکہ بلاشبہ یہ اس نے اپنی مرضی سے اختیار کیا ہے انہوں نے اسے اس پر مجبور نہيں کیا۔

 


[1] صحیح بخاری 5136۔

 

 

[2] اسے امام النسائی نے سنن النسائی 3264 میں روایت کیا اور شیخ البانی نے صحیح النسائی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔