Al-Usool-us-Sittah (Six fundamental principles of Deen) – Imaam Muhammad bin Abdul Wahhab

دین کے چھ بنیادی اصول

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ رحمہ اللہالمتوفی سن 1206ھ

ترجمہ وعناوین: طارق علی بروہی

مصدر: متن الأصول الستة من الدليل الرشيد الى متون العقيدة والتوحيد۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

مقدمہ

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 اللہ سب پر غالب بادشاہ کی قدرت پر دلالت کرنے والی نہایت عجیب ترین اور بڑی نشانیوں میں سے یہ چھ اصول ہیں جنہیں اللہ تعالی نے عام عوام کے لئے گمان کرنے والوں کے گمان سے بڑھ کربالکل واضح طور پر بیان فرمایا، مگر  اس کے باوجود ان (اصولوں)  میں بہت سے دنیا کے ذہین ترین اور بنی آدم میں سے عقل مند ترین لوگ سوائے معدودے چند کےغلطی کرگئے۔

پہلا اصول

اللہ تعالی کے لئے اخلاص

اللہ تعالی اکیلے کے لئے دین کو بلاشرکت غیرے خالص کرنا اور اس کی ضد کا بیان جو کہ اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا ہے، اور قرآن کریم کا اکثر حصہ اس اصول کو ایسے مختلف انداز میں بیان کرنے پر مشتمل ہوناجسے نابلد عوام تک بآسانی سمجھ جائیں۔ پھر امت کی حالت (اس تعلق سے)یہ ہوگئی  کہ شیطان نے ان کے لئے  (عبادت میں) اخلاص کو صالحین کے حق میں تنقیص وتقصیر (گستاخی) باور کرادیا، اور شرک کو صالحین سے محبت اور ان کی پیروی باور کرادیا۔

دوسرا اصول

دین میں اجتماع برقرار رکھنا اور تفرقہ بازی سے بچنا

اللہ تعالی نے دین میں اجتماع کا حکم دیا اور تفرقے سے منع فرمایا۔ پس اللہ تعالی نے اس کا اتنا کافی شافی بیان فرمایاکہ جسے عام عوام تک بآسانی سمجھ جائیں، اور ہمیں اس بات سے منع فرمایا کہ ہم ان لوگوں جیسے نہ بن جائیں جو ہم سے پہلے تفرقہ اور اختلاف کا شکار ہوکر ہلاکت میں پڑگئے، اور یہ بیان فرمایا کہ اس (اللہ تعالی) نے مسلمانوں کو دین میں اجتماع کا حکم دیا اور اس (دین) میں تفرقہ بازی سے منع فرمایا۔ اس کی مزید وضاحت سنت میں بھی حیران کن طریقے سے وارد ہونے کے باوجود حالت یہ ہوگئی ہے کہ دین کے اصول وفروع میں تفرقہ کرنا ہی علم اور دین میں فقاہت کہلایا جانے لگا، اور دین میں اجتماع کے بارے میں تو (لوگوں کے نزدیک) سوائے زندیق (بےدین) اور پاگل کے کوئی بات نہیں کرتا!۔

تیسرا اصول

حکام کی اطاعت وفرمانبرداری

مسلمانوں کے اجتماع کومکمل کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم سنیں اور اطاعت کریں ان کی جو ہمارے حاکم ہیں اگرچہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔ پس اللہ تعالی نے اس کا بھی مختلف جہتوں سے اور مختلف شرعی اور قدری انواعِ بیان کے ذریعہ بالکل کھلم کھلا اور کافی شافی بیان فرمایا ہے، پھر یہ اصول بہت سے ان لوگوں کے یہاں بھی ناپید ہوگیاجو علم کے دعویدار ہیں تو اس پر عمل تو دور کی بات رہی!۔

چوتھا اصول

حقیقی علماء وفقہاء کرام کا بیان

علم و علماء اور فقہ و فقہاء کا بیان، اور ان لوگوں کا بیان جو ان جیسا روپ دھار لیتے ہيں مگر درحقیقت وہ ان میں سے نہیں، اللہ تعالی نے اس اصول کو سورۂ بقرہ کے شروع میں اس آیت ﴿ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ۔۔۔﴾  (البقرة: من الآية40) (اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی۔۔۔) سے لیکر ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے ذکر سے پہلے کی اس آیت﴿ يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا۔۔۔﴾  (البقرة: من الآية122) تک جو پہلی آیت ہی کی طرح ہے (اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر انعام کی۔۔۔)میں بیان فرمایا۔ اس کی مزید وضاحت وہ کلامِ کثیرکرتا ہےجوسنت میں صراحتاً ذکر ہواجو ایک عام انسان اور نابلد کے لئے بھی بالکل کھلم کھلااور واضح ہے۔ پھر یہ بھی ایک اجنبی ترین چیز بن گیا، اور علم وفقہ ہی بدعت وگمراہی بن گیا، اور ان کے نزدیک بہترین شخص وہ ٹھہرا جو حق میں باطل کی آمیزش کرتاہے، اور وہ علم جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض قرار دیا اور اس کی تعریف فرمائی، اس کے ساتھ کلام نہیں کرتا مگر زندیق یا پاگل!، اور جو اس (حقیقی علم) کا انکار کرے، اس سے دشمنی برتے، اور اس سے سختی کے ساتھ روکے اور منع کرے وہ (ان کے نزدیک) فقیہ اور عالم ہے!!۔

پانچواں اصول

حقیقی اولیاء اللہ کا بیان

(اللہ تعالی کا اپنے اولیاء کے بارے میں بیان کرنا، اور اللہ تعالی کا ان (اولیاء)اور جو منافقین وفاسق وفاجر اللہ تعالی کے دشمن ان جیسا محض روپ دھار لیتے ہیں کہ درمیان تفریق کرنا۔ اس بارے میں سورۂ آل عمران کی ایک آیت ہی کافی ہے، اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے:﴿قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔۔۔﴾ (آل عمران:31)  (کہہ دو کہ اگر تم واقعی اللہ تعالی سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو، اللہ تعالی خود تم سے محبت فرمائے گا۔۔۔)، اور ایک آیت جو سورۂ مائدہ میں ہے اور وہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: ﴿يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَنْ يَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ۔۔۔﴾ (المائدة: من الآية54)  (اے ایمان والو! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ تعالی بہت جلد ایسی قوم کو لائے گا جو اللہ تعالی کی محبوب ہوگی اور وہ بھی اللہ تعالی سے محبت رکھتی ہوگی۔۔۔) اور سورۂ یونس کی آیت میں اللہ تعالی کا یہ فرمان: ﴿اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ،  الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ﴾ (يونس:62-63)  (یاد رکھو کہ بے شک اولیاء اللہ (اللہ تعالی کے دوستوں) پر نہ کوئی خوف واندیشہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں)۔ پھر اکثر ان لوگوں کے یہاں جو علم کے دعویدار ہیں، لوگوں کے رہبر ورہنما ہیں، اور شریعت کے محافظ سمجھے جاتے ہیں یہ معاملہ بھی ایسا  ہوگیا کہ اولیاء اللہ ہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع وپیروی سےروگردانی کرتے ہوں، اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرتے ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں ہوسکتے! اور یہ بھی لازم ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کردیں جو جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں! اور انہیں ایمان وتقویٰ کو بھی چھوڑنا لازم ہے! جو ایمان وتقویٰ کے پابند ہیں وہ ان (اولیاء) میں سے نہیں! اے ہمارے رب ہم تجھ ہی سے عفوودرگزر اور عافیت کے خواستگوار ہیں، بے شک تو دعائوں کا سننے والا ہے۔

چھٹا اصول

قرآن وسنت کی پیروی کا بیان

اس شبہے کا  رد جو شیطان نے قرآن وسنت کو چھوڑنے اور مختلف و متفرق  آراء واہواء کی اتباع کرنے کے تعلق سے پیدا کیا، اور وہ یہ ہے کہ قرآن وسنت کو سوائے مجتہد ِمطلق کے اور کوئی نہیں سمجھ سکتا، اور مجتہد کے فلاں فلاں اوصاف ہونے چاہیے جو شایدمکمل طور پر ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما  تک میں بھی نہ پائے جاسکیں! پس اگر کوئی انسان ایسا (مجتہد)نہ ہو تو اس پر ان(کتاب وسنت) سے اعراض کرنا حتمی طور پر ایسا فرض ہے جس میں کوئی شک یا اشکال نہیں، اور جو کوئی ان (کتاب وسنت)میں سے ہدایت کا طالب ہو وہ یا تو زندیق ہے یا پھر پاگل کیونکہ ان کا فہم بہت کٹھن اور مشکل ہے! ! پس اللہ تعالی پاک ہے اپنی تعریف وحمد کے ساتھ کہ اس نے شرعاً وقدراً ، خلقاً وامراً کس قدر مختلف انداز میں اس ملعون شبہے کا رد فرمایا ہے یہاں تک یہ ضروریات عامہ کی حد کو پہنچ گیا، فرمان الہی ہے: ﴿وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ﴾ (الأعراف: من الآية187)  (مگر اکثر لوگ نہیں جانتے)،  اورفرمایا:

﴿لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰٓي اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ،اِنَّا جَعَلْنَا فِيْٓ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِىَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ، وَجَعَلْنَا مِنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ سَدًّا وَّمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَيْنٰهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ، وَسَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ،اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّـبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ ۚ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّاَجْرٍكَرِيْمٍ﴾

 (یس :7-11)

(بے شک ان کے اکثر پر بات ثابت ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے، بے شک ہم نے ان کی گردنوں میں کئی طوق ڈال دیے ہیں، پس وہ ٹھوڑیوں تک ہیں، سو ان کے سر اوپر کو اٹھے رہ گئے ہیں، اور ہم نے ان کے آگے سے ایک دیوار کردی اور ان کے پیچھے سے ایک دیوار، پھر ہم نے انہیں ایسا ڈھانپ دیا ہے کہ انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا ، اور ان پر برابر ہے، خواہ تم انہیں ڈراؤیا انہیں نہ ڈراؤ، وہ ایمان نہیں لائیں گے، تم تو صرف اسی کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمٰن  سے بن دیکھے ڈرے۔ سو اسے بڑی بخشش اور باعزت اجر کی خوش خبری دے دو) ۔

ختم شد۔ والحمدلله رب العالمين، وصلى الله على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليما كثيرا إلى يوم الدين.

usool_e_sittah