Advice to guardians regarding the marriage of their daughters and wards – Shaykh Saaleh bin Fawzaan Al-Fawzaan

بچیوں کے سرپرستوں کو ان کی جلد از جلد شادی کروادینے کے بارے میں نصیحت   

فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظہ اللہ

(سنیئر رکن کبار علماء کمیٹی، سعودی عرب)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: نصيحة لولي الامر بتزويج البنات.

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: میں چاہتی ہوں کہ آپ باپوں کو نصیحت کریں اور انہيں ابھاریں اس بات پر کہ وہ اپنے ماتحت بچیوں کی شادی کروائیں، کیونکہ میرے والد بھی ہر شادی کا پیغام بھیجنے والے کو ٹھکرا دیتے ہيں، کیونکہ ہم تین بہنیں یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں اور بہت اچھا کماتی ہيں، ہم چاہتی ہيں کہ ان مناسب جوڑ کے نیک صالحین رشتوں سے شادی کرلیں  لیکن والد کو ہماری کمائی سے محروم ہونے کا خوف ہے، پس میں اس بارے میں نصیحت چاہتی ہوں؟

جواب: بلاشبہ بیٹیاں اپنے والد کے گلے میں لٹکی امانت ہوتی ہيں۔ اسے چاہیے کہ وہ ان کی مصلحت وبھلائی کا ہمیشہ خیال رکھے اور ان کی حفاظت کرے، کیونکہ وہ اپنے رعایا کے بارے میں مسئول ہے۔ اور بچیوں کی سب سے بڑی مسئولیت تو ان کی مناسب جوڑ کے نیک صالح رشتوں سے شادی کروادینا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’إِذَا أَتَاكُم مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ‘‘([1])

(جب تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ آئے کہ جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس سے شادی کروادو ، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوجائے گا)۔

شادی میں بہت ہی عظیم مصلحتیں پنہاں ہيں۔ اللہ تعالی نے شادی کو مشروع قرار دیا اور فرمایا:

﴿وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَاىِٕكُمْ ۭ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ﴾ (النور: 32)

(اور اپنے میں سے بےنکاح مردوں، عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے غلاموں اور اپنی لونڈیوں میں سے جو نیک ہیں ان کا بھی، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالی  انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے گا،  اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے)

چناچہ اس میں بہت عظیم مصلحتیں پائی جاتی ہيں لہذا عورت کے ولی کے لیے جائز نہيں خواہ والدہ ہو یا اس کے علاوہ کہ جب اس کا کوئی مناسب جوڑ کا رشتہ آئے اور وہ لڑکی اس سے راضی ہو تو وہ اسے اس سے روکے۔  یہ تو وہ حرام ’’العَضل‘‘ (عورت کو ظلماً شادی سے روکنا) ہے۔ اور ساتھ ہی اگر وہ اس پر مصر رہتا ہے تو اس کی ولایت ہی ساقط ہوجاتی ہے اور اس کے بعد والے قریبی ولی کو منتقل ہوجاتی ہے تاکہ عورتوں کی مصلحتوں کی حفاظت کی جاسکے۔

اس باپ کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے کہ جو اپنی بچیوں کی شادی ان کی نوکری اور کمائی کی لالچ میں نہیں کرواتا۔ کیونکہ یہ حرام’’عضل‘‘ ہے اور عورت کے لیے ضرر ونقصان کا سبب ہے۔ اور ایک مناسب جوڑ کا نیک صالح شخص  اس عورت کے لیے اس کی نوکری سے بہتر ہے ، کیونکہ تنخواہ کے لالچ میں لڑکی کی شادی نہ کروانے سے اس لڑکی کے وہ مصلحتیں فوت ہوجاتی ہيں جو اللہ تعالی نے شادی کی صورت میں اس کے لیے رکھی ہيں۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ اگر عورت کو پہلی بار رشتے کا پیغام آئے اور شادی نہ ہوپائے  تووہ  بن بیاہی رہ جاتی ہے، اور رشتوں کا پیغام بھیجنے والوں کو اس میں دلچسپی نہيں رہتی، اور وہ اس سے ناامید ہوکر اس سے پرہیز کرتے ہيں، اس صورت میں وہ سدا  بن بیاہی  ہی رہ جاتی ہے جس میں عورتوں پر اور معاشرے پر بڑا ضرر ہے۔

پس بچیوں کے ایسے باپوں اور ولیوں پر یہ واجب ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں اور زیردست بچیوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈریں  اور ان کی شادیاں ان کے مناسب جوڑ کےنیک صالحین رشتوں سے کروادیں اگر وہ لڑکیاں ان سے راضی ہوں۔  کیونکہ اگر عورت کی شادی نہ ہو تو اس سے بہت خیرکثیر فوت ہوجاتی ہے۔ وہ معطل ہوکر رہ جاتی ہے اور رشتوں کے پیغام بھیجنے والے بھی اس سے منہ پھیر لیتے ہیں ،جس صورت میں وہ بن بیاہی ہی رہ جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے اس پر کئی برس بیت جائيں ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بہت بڑی عمر کی ہوجائےاور پھر کسی کو اس میں رغبت ہی نہ رہے، اس صورت میں اس کا سبب اس کا باپ یا وہ ولی ہوگا جس نے اسے روکے رکھا ۔ اس شخص پر یہ تنخواہ کھانا بھی حرام ہے کہ جس کی وجہ سے اس نے اسے کسی جوڑ کے مناسب نیک صالح رشتے سے شادی کرنے سے روکے رکھا جس سے وہ راضی تھی۔  یہ (کمائی کھانا ) اس کے لیے حرام ہوگی کیونکہ یہ ظلم ہے۔ لہذا ولیوں پر خواہ باپ ہوں یا ان کے علاوہ یہ واجب ہے کہ وہ ان کے مصلحت کو مدنظر رکھیں، کیونکہ یہ ان کے پاس امانت ہيں۔ خود غرضی کرتے ہوئے خواتین کے بدلے یا ان کو نقصان پہنچا کر صرف اپنے ہی فائدے ومصلحت کی طرف نہ دیکھیں  ۔

اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو اس چیز کی طرف ہدایت دے جس میں ان کی خیر، بہتری اور استقامت ہو۔

 


[1] البیہقی  7/81، مصنف عبدالرزاق 10325، صحیح ترمذی 1084 وغیرہ کے الفاظ’’وفَسَادٌ عَرِيضٌ‘‘بھی ہیں۔