Justifying one's Hizbiyyah and forming Jama'at with the speech of Shaykh-ul-Islaam Ibn Taymiyyah – Various 'Ulamaa

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے کلام سے اپنی حزبیت وجماعت سازی پر استدلال کرنا

مختلف علماء کرام

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اقوال ’’مجموع الفتاوی‘‘سے امیر کے تحت جماعت وتنظیم سازی کے حق میں پیش کیے جاتے ہيں۔ جیسا کہ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے صوفیہ کی اصطلاحات کا ذکر کرتے ہوئے اس اصطلاح ’’رأس الحزب‘‘  کی وضاحت فرمائی کے اس سے مراد صوفی طائفہ کا بڑا جسے پیر ِطائفہ بھی کہا جاتا ہے، ایسا طائفہ جو اس کے گرد ایک حزب کی شکل اختیار کرجاتا ہے، پھر فرمایا:

اگر وہ  بلازیادتی ونقص کے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر جمع ہیں تو وہ مومنین ہيں۔ ۔۔اگر اپنے حزب کے لیے حق ہو یا باطل تعصب کرتے ہیں  اور جو ان میں سے نہيں اسے خاطر میں نہيں لاتے تو یہ مذموم تفرقہ ہے([1])۔

(سبحان اللہ! کیا اس طور پر کسی صوفی طائفہ اور ان کے بڑے پیر کے جواز کی اہل سنت وحدیث جمعیات قائل ہیں؟! ظاہر ہے یہ فتویٰ ان کی مطلوبہ دلیل کے بارے میں نہیں ہے، جسے وہ بھی بخوبی جانتے ہیں۔ اور مجموع الفتاویٰ کی یہ پوری جلد ہی تصوف کے بارے میں ہے، اور اس سے پہلے صوفی طائفہ کے ’’زعیم‘‘ اور ’’فتیٰ‘‘ وغیرہ کی اصطلاحات کی بھی وضاحت فرمائی ہے)۔

اسی طرح سے ج 28 ص 390 میں جہاں شرعی سیاست سے متعلق  ابواب چل رہے ہيں وہاں فصل ہے سلطان حکمران کو نصب کرنے کا وجوب اور دین ودنیا میں اس کی اہمیت کا بیان ہے، وہاں سے اجتماع وامارت کی اہمیت سفر وحضر میں جیسی عبارت کو پیش کرکے اپنی جماعتوں پر فٹ کیا جاتا ہے۔

شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بہت سے مواقع پر اس جماعت کا ذکر کیا ہے یعنی جماعت بمعنی شرعی تجمع ، اور وہ یہ ہے کہ اس کے افراد باہمی مشترکہ اتفاق سے کام کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو نص آئی ہے وہ اسی بارے میں آئی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی کو یمن کی جانب روانہ فرمایا تو ہدایت فرمائی:

’’تَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا‘‘([2])

(تم دونوں آپس میں اتفاق رکھنا ‘ اختلاف نہ پیدا کرنا)۔

تو یہی اصل رہی ہے ہر ان لوگوں کے لیے جو دعوت کے لیے جمع ہوتے ہیں کہ ان کے مابین تطاوع ہو، جبکہ الطاعۃ جس کا مطلب ہے کہ تابع شخص مطیع ہوگا کس کا؟ یعنی طاعت واقع ہوگی مامور پر امیر کی طرف سے(جیساکہ تنظیموں جماعتوں میں ہوتا ہے) تو یہ اسلامی ملک میں جائز نہیں ہے۔ کیونکہ بلاشبہ یہ طاعت خاص ہے جو نصوص آئے ہيں وہ اس سے متعلق نہيں ہيں، وہ جو نصوص آئے ہيں وہ صرف سفر میں طاعت کے لیے ہے اس کی ضرورت کی وجہ ہے بس۔ جبکہ حضر واقامت کی حالت میں جب شرعی مسلمان حکمران قائم وموجود ہے اور اس کی بیعت منعقد ہے، تو پھر جائز نہيں کہ کسی کی حضر میں مستقل طاعت ہو سوائے اس کی طاعت کے۔ ہاں البتہ تطاوع ہو۔

اسی طرح سے تنظیم کی جہت سے دیکھیں تو بعض جماعتیں تجمع کرتی ہيں اکٹھا کرتی ہيں مگر تنظیمی شکل میں۔ یہی بات میں نے بعض مؤلفات میں دیکھی کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور دیگر اہل علم کے کلام سے استدلال کرتے ہیں (یعنی ان کے نزدیک یہ دینی جماعتوں وتنظیموں کی جواز وعدم جواز کا مسئلہ اختلافی ہے اور ان علماء کے کلام کو وہ اپنے حق میں دلیل سمجھتے ہيں) تو ان لوگوں نے ان کے کلام کو سمجھا ہی نہيں! کیونکہ بے شک شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے نظام کا ذکر کیا ہے ناکہ اس تنظیم کا۔ کیونکہ یہ جو تنظیم سازی ہے یہ نئی ایجاد ہے۔ تنظیم کا معنی ہے ایک حزب  وجماعت بنتی ہے اس کا رئیس وامیر ہوتا ہے، اس کے ماتحت ہوتے ہيں اور اس کی طرف سے انہیں احکام اور باتیں موصول ہوتی ہیں سو وہ اس کی مانتے ہيں، اور یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے حکمران کے ساتھ رویہ ہوتا ہے کہ اس کی سنی اور مانی جاتی ہے۔ لہذا بلاشبہ یہ ناجائز ہے نا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اور نا ہی کسی دوسرے عالم کا کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے (جس سے وہ استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں)([3])۔

شیخ عبدالعزیز البرعی حفظہ اللہ  فرماتے ہیں:

ابو الحسن المأربی  کتنا دائیں بائیں بھاگتا پھرا کبھی کہاں سے فتویٰ لا رہا ہے تو کبھی کہاں سے لیکن اس کے لیے ممکن نہ ہوا کہ وہ اس کتاب ’’الأجوبة المفيدة‘‘از شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کا ذکر کبھی اپنی زبان پر بھی لائے۔ اس پر پھر سے غور کرو میرے بھائیوں کہ اس کا معاملہ کتناعجیب سا ہے کیا آپ کو یاد ہے کہ اس نے کبھی الشاطبی رحمہ اللہ کی کتاب  الاعتصام سے نقل کیا ہو؟ یا ابن ابی عاصم وعبداللہ بن حنبل رحمہما اللہ کی السنة سے نقل کیا ہو، یا اللالکائی رحمہ اللہ کی شرح اصول اعتقاد أهل السنة سے نقل کیا ہو؟ حالانکہ اس نے اپنے طلاب کو مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ میں گھسا رکھا ہے کیونکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بہت کثیر کلام فرمایا ہے جس کا ان کی مراد کے مخالف مفہوم بیان کرنا ممکن ہے اور کلام کو اس کی حقیقت سے یکسر پھیر کر پیش کرنا ممکن ہے، یہاں تک کہ آپ کے ذہن میں جو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  کا تصور ہے کوئی اس سے بالکل ہٹ کر ایک الگ ہی شخصیت کے طور پر ثابت کرسکتا ہے([4])۔

شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ کی قسم! ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ یہ حزبی لوگ ان (سلف کی)  کتابوں کا برا حشر کرتے ہیں کہ اس میں سے اپنا منہج تمییع (اہل بدعت کے تعلق سے بےجانرمی) اپناتے ہیں۔ مؤلف کا مقصود کوئی خاص معین بات یا معین معاملہ ہوتا ہے جس کا وہ معالجہ کررہا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمان کتاب وسنت اور منہج سلف کی روشنی میں اسے تسلیم کرلیں لیکن کوئی حزبیت سے جلا شخص آتا ہے اور اسے بدل دیتا ہے اور جو نکتۂ نظر وہ پیش کرنا چاہتا ہے اسے بدلنے کا یہ کھیل کھیلتا ہے، اور لوگوں کو مؤلف کی صحیح مراد سمجھنے سے پھیر دیتا ہے([5]

 


[1] مجموع الفتاوی ج 11 ص 92۔

 

[2] صحیح بخاری 3038 وغیرہ۔

 

[3] شرح مسائل الجاہلیۃ کیسٹ رقم 5 سائیڈ بی سوال 5۔

 

[4] ’’شخصیات کے ذریعے جانچنا اور امتحان لینا کیسا ہے؟‘‘  مضمون سے ماخوذ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

 

[5] مضمون ’’حزبیت کیا ہے اور حزبیوں سے کیا سلوک کیا جائے؟‘‘ سے ماخوذ۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)