Rulings related to the Ayat of fasting – Imaam Abu Bakr Al-Qurtubee

مسائل آیتِ صیام

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد القرطبی رحمہ اللہ المتوفی سن 671ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: الجامع لأحكام القرآن ج 2 ص 272-275 سے مختصراً ماخوذ۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ تعالی فرماتا ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ (البقرۃ: 183)

(اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا (فرض کردیا) گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو)

اس میں ہم پانچ مسائل ذکر کریں گے:

1- اللہ تعالی کا یہ فرمانا: ﴿ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ ﴾ جب اللہ تعالی نے اس سے پہلے ذکر فرمادیا جو مکلفین پر قصاص او روصیت کو لکھ دیا گیا ہےتو یہ بھی ذکر فرمایا کہ ان پر روزوں کو بھی لکھ دیا گیا ہے، اس کو ان پر لازم اور واجب قرار دیا ہے۔اس میں کوئی اختلاف نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ وَالْحَجِّ‘‘([1]) اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت فرمایا ہے۔

(اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا)۔

لغت میں اس کا معنی ہے ’’الْإِمْسَاكُ، وَتَرْكُ التَّنَقُّلِ مِنْ حَالٍ إِلَى حَالٍ‘‘ (رک جانا، اور ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہونے کو ترک کرنا) اور خاموشی کو بھی صوم کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں بھی کلام کرنے سے رکا جاتا ہے۔ اللہ تعالی نے سیدہ مریم علیہا السلام کے متعلق خبر دی کہ:

﴿ اِنِّىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِـيًّا﴾ (مریم: 26)

(میں نے تو رحمٰن کے لیے روزے کی نذرمانی ہے، سو آج میں ہرگز کسی انسان سے بات نہ کروں گی)

یعنی کلام کرنے سے سکوت اختیار کیا ہے۔

اور شریعت میں صوم (روزے) کا معنی ہے: ’’الْإِمْسَاكُ عَنِ الْمُفْطِرَاتِ مَعَ اقْتِرَانِ النِّيَّةِ بِهِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَتَمَامُهُ وَكَمَالُهُ بِاجْتِنَابِ الْمَحْظُورَاتِ وَعَدَمِ الْوُقُوعِ فِي الْمُحَرَّمَاتِ‘‘ (مفطرات سے نیت کے ساتھ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک رکے رہنا، اور اس کا اتمام اور کمال محظورات سے اجتناب کرکے اور محرمات میں اپنے آپ کو واقع ہونے سے بچا کر ہوتا ہے)۔

کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:

’’مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةً فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ‘‘([2])

(جو کوئی جھوٹی بات اور اس پر عمل نہيں چھوڑتا تو اللہ تعالی کو کوئی حاجت نہيں کہ وہ محض اپنا کھانا پینا چھوڑ دے)۔

2- روزے کی فضلیت عظیم ہے، اور اس کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ اس بارے میں بہت سے صحیح اور حسن احادیث آئی ہیں جنہیں آئمہ کرام نے اپنی مسانید میں ذکر فرمایا ہے، عنقریب ان میں سے بعض کا ذکر آئے گا۔ ابھی آپ کے لیے روزے کی فضلیت میں سے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اسے اپنی طرف نسبت دے کر خاص فرمایا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت شدہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب تعالی کے متعلق خبر دیتے ہيں کہ وہ فرماتا ہے:

’’يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ‘‘([3])

(اللہ تبارک وتعالی فرماتاہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے، کیونکہ بے شک یہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا)۔

تو یہاں صرف روزے کو خاص فرمایا کہ بے شک یہ اس کے لیے ہے، حالانکہ تمام کی تمام عبادات صرف اسی کے لیے ہیں  دو وجوہات کی بنا پرجس کی وجہ سے روزہ دیگر تمام عبادات سے ممتاز ہے۔

پہلی وجہ یہ کہ بے شک روزہ نفس کی لذتوں اور شہوات سے یوں روکتا ہے جیسے باقی ساری عبادات نہيں روکتیں۔

دوسری وجہ بے شک روزہ ایک راز ہے بندے اور اس کے رب کے مابین جو اس کے سوا کسی پر ظاہر نہیں، اسی لیے وہ اس کے ساتھ مخصوص ہے۔ جبکہ اس کے علاوہ جتنی عبادات ہیں وہ ظاہر ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ریاءکاری اور دکھلاوے کے لیے کرتا ہو، اسی لیے روزے کو دوسری عبادات کی نسبت خاص فرمایا۔ اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں اس بارے میں۔

3- اللہ تعالی کا یہ فرمانا: ﴿كَمَا كُتِبَ﴾ اس کے تحت لغوی مسائل ذکر فرمائے امام قرطبی نے۔

4- امام الشعبی اور قتادہ ; وغیرہ نے فرمایا: جو تشبیہ ہے (پہلے کے لوگوں کے روزوں کے ساتھ) وہ روزوں کے وقت اور مقدار کی طرف لوٹتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے قوم موسی وعیسی علیہما الصلاۃ والسلام پر رمضان کے روزے فرض کیے تھے تو انہوں نے اسے تبدیل کردیا۔ اور ان کے احبار (علماء) نے اس پر دس ایام کا اضافہ بھی کردیا۔ پھر ان میں سے بعض احبار بیمار ہوئے  تو نذر مان لی کہ اگر اللہ تعالی نے شفاء دی تو وہ ان کے روزوں میں دس ایام کا اضافہ کردیں گے، پس انہوں نے کردیا۔ پس نصاریٰ کے روزے پچاس دنوں کے ہوگئے۔ لہذا ان پر گرمیوں کے موسم میں روزے رکھنا مشکل ہوگیا تو انہوں نے اسے بہار کے موسم میں منتقل کردیا۔ اس قول کو امام النَّحَّاس نے اختیار فرمایا ہے اور کہا: یہ اس کے زیادہ مشابہ ہے جو کچھ آیت میں بیان ہوا۔  اور اس بارے میں ایک حدیث بھی ہے جو اس کی صحت پر دلالت کرتی ہے جس کی سند دَغْفَل ابن حنظلہ سے ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا:

’’كَانَ عَلَى النَّصَارَى صَوْمُ شَهْرٍ فَمَرِضَ رجل منهم فقالوا لئن شفاه الله لنزيدن عَشْرَةً ثُمَّ كَانَ آخَرُ فَأَكَلَ لَحْمًا فَأَوْجَعَ فاه فقالوا لئن شفاه الله لنزيدن سَبْعَةً ثُمَّ كَانَ مَلِكٌ آخَرُ فَقَالُوا لَنُتِمَّنَّ هَذِهِ السَّبْعَةَ الْأَيَّامَ وَنَجْعَلَ صَوْمَنَا فِي الرَّبِيعِ قَالَ فَصَارَ خَمْسِينَ ‘‘([4])

(نصاریٰ پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے۔ پس ان میں سے کوئی شخص مریض ہوگیا تو انہوں نے کہا اگر اسے اللہ تعالی نے شفاء دی تو ہم ضرور ان میں دس ایام کا اضافہ کریں گے۔ پھر ایک دوسرے نے گوشت کھایا تو اس کے منہ میں تکلیف ہوگئی تو انہوں نے کہا کہ اگر اللہ تعالی نے اسے  شفاء دی تو ہم ضرور ان میں سات ایام کا مزید اضافہ کریں گے۔ پھر کوئی بادشاہ تھا تو انہوں نے کہا کہ ہم ضرور ان سات ایام کو مکمل ہی کردیں گے، اور اپنے روزوں کو موسم بہار میں منتقل کردیں گے۔ چناچہ آخرکار ان کے روزے پچاس ہوگئے)۔

اورامام  مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے ہر امت پر ماہ رمضان کے روزے فرض قرار دیے تھے۔

اور کہا جاتا ہے کہ: انہیں ایک دستاویز ہاتھ لگی جس کی وجہ سے وہ تیس روز سے پہلے ایک روزہ رکھتے اور تیس روز کےبعد ایک روزہ رکھتے۔تو سالہا سال اس طرح رکھنے کی وجہ سے روزے پچاس تک پہنچ گئے۔ پس ان پر گرمیوں میں روزے رکھنا بہت مشکل ہوگیا تو انہوں نے اسے فصل شمسی میں منتقل کردیا۔

میں یہ کہتا ہوں (اللہ اعلم)  اسی لیے اب شک کے دن کا روزہ اور شوال کے چھ روزے عید الفطر کے فورا ًبعد رکھنا مکروہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ: جو تشبیہ ہے وہ روزے کی ا س صفت سے متعلق ہے جو ان پر فرض تھے  کہ اس میں بھی کھانا، پینا اور نکاح (جماع) منع تھا۔ جب افطار کا وقت آجاتا تو یہ کام وہ شخص نہ کرسکتا تھا جو سو جاتا۔ اسی طرح سے پہلے پہل نصاریٰ پر اسی طرح تھا اور اول اسلام میں بھی۔ پھر اللہ تعالی نے اسے اپنے اس فرمان کے ساتھ منسوخ فرمادیا:

﴿ اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاۗىِٕكُمْ ﴾ (البقرۃ: 187)

(تمہارے لیے روزے کی رات اپنی عورتوں سے صحبت کرنا حلال کردیا گیا ہے)

اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تشبیہ دراصل روزے کی ہے نہ صفت کی اور نہ مقدار کی، اگرچہ دونوں روزوں میں کمی وزیادتی کے اعتبار سے اختلاف ہے۔

﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ﴾ کا معنی ہے اول اسلام میں ہر ماہ کے تین روزے اور یوم عاشوراء کا روزہ فرض تھا، جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں پر فرض تھا، جو کہ یہود ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق تین ایام او ریوم عاشوراء، پھر اس امت کے لیے یہ ماہ رمضان کے روزے کے ساتھ منسوخ ہوگیا۔

اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ منسوخ ہوا ﴿اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ﴾ سے پھر وہ منسوخ ہوا ایام رمضان سے۔

5- ﴿لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴾ اور ’’تَتَّقُوْنَ‘‘ کے متعلق کہا گیا کہ اس کا یہاں معنی ہے ’’تَضْعُفُونَ‘‘ (کمزور ہوجاؤ) کیونکہ بلاشبہ جس قدر کھانا کم ہوگا شہوت بھی کم ہوگی، اور جس قدر شہوت کم ہوگی گناہ بھی کم ہوں گے۔  اور یہ ایک اچھا مجازی معنی ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا کہ: تاکہ تم گناہوں سے بچو۔

اور یہ بھی کہا گیا کہ: یہ عام ہے۔ کیونکہ جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’الصِّيَامُ جُنَّةٌ وَوِجَاءٌ‘‘

(روزہ ڈھال ہے اور خصی ہونے کے قائم مقام ہے(یعنی شہوت کو مارنے والا ہے))۔

اور تقویٰ کا سبب ہے۔ کیونکہ یہ شہوات کو دبا  دیتا ہے۔


[1] صحیح بخاری 8، صحیح مسلم17۔

[2] صحیح بخاری 1903۔

[3] صحیح بخاری 1904، صحیح مسلم 1152۔

[4] الناسخ والمنسوخ للنحاس ج 1 ص 93۔

masail_ayat_e_siyaam