Being very busy with seeking knowledge and livelihood while neglecting one’s wife – Various ‘Ulamaa

طلبِ علم  و معاش میں کثرتِ مشغولیت کے سبب بیوی کو نظر انداز کرنا

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

طلب علم میں مشغولیت کے سبب بیوی کے جذبات کا خیال نہ رکھنا

سوال: احسن اللہ الیکم شیخنا، اللہ تعالی ہمیں اور آپ کو ثابت قدمی عطاء فرمائے یہاں تک کہ ہم اس سے ملاقات کریں، چھٹا سوال ہے، سائل کہتا ہے: فضیلۃ الشیخ ہم آپ سے امید رکھتے ہيں آپ رہنمائی پر مبنی کوئی کلام فرمائیں یا نصیحت  کیجئے ان شوہروں کو جو بہت محنت کے ساتھ طلب علم کرتے ہيں، ساتھ ہی اپنے دینی وخاندانی امور کا بھی شدید اہتمام کرتے ہيں، لیکن جو کچھ ان کی بیوی مطالبہ کرتی ہیں اس سے حد درجے لاپرواہی برتتے ہیں جیسے اسے دیکھے، اس کے لیے خاص اہتمام کرے، اور اسے اس کی منزلت واحترام کا شعور دلانے کی حرص کرے، اور وہ بیوی ہمیشہ بس صبر کو لازم پکڑے رہتی ہے لیکن آخرکار وہ بھی ایک عورت ہے اس کی اپنی ضروریات ومعاملات ہیں؟

جواب از شیخ عبید بن عبداللہ الجابری  حفظہ اللہ :

اولاً: جس قدر مجھے علم ہے اس کے مطابق بلاشبہ یہ ایک شاذ ونادر سی صورت ہے، ایسا نہیں ہے جیسا بظاہر سائلہ کے سوال سے محسوس ہوتا ہے۔

ثانیاً: ان لوگوں پر یہ ضروری ہے جن سے یہ حرکت سرزد ہوتی ہے جو آپ نے اپنے سوال میں ذکر کی یعنی بیوی کے مخصوص حقوق سے روگردانی کرنا جیسے اس کے ساتھ رات بِتانا، جماع کرنا ، بوس وکنار یا قربت ودوستانہ رویہ اور جو اس کے علاوہ حقوق ہیں، تو انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ جڑ کر رہیں قربت پیدا کریں، اور ہر حقدار کو اس کا حق دیں([1])۔ اپنے نفس کو بھی علم میں سے اس کا حق دیں یعنی اسے علم فراہم کریں، اور اپنے بیٹوں، بیٹیوں اور بیویوں کو بھی ان کے خاص وعام دیکھ بھال میں سے حقوق دیں۔

(ویب سائٹ میراث الانبیاء: نرجو توجيه نصيحة لطلبة العلم الذين يهملون زوجاتهم)

بیرون ملک پردیس میں کام کرنے والوں کو اہل وعیال کے تعلق سے نصیحت

سوال: سائل پوچھتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وہ کیا مدت ہے کہ مرد اپنی بیوی سے سفر کرجانے کی صورت میں دور رہ سکتا ہے، یہ بات معلوم ہو کہ وہ اپنی نوکری کی وجہ سے دور ہے؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ  حفظہ اللہ :

بے شک کبھی کبھار انسان واقعی مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ معاش کی طلب کے لیے سفر کرے، لیکن اس کے باوجود یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کو ان رسمی چھٹیوں پر جو ملازمین کو ملتی ہیں نہ بھولے۔ پس وہ اپنی استطاعت بھر ان کی زیارت کرے اور اسے ضائع نہ کرے کہ سال دو سال تک ان سے رکا رہے۔ بلکہ جب ایک سال بیت جائے تو معروف چھٹیاں لے کر اپنے اہل وعیال کے ساتھ انہیں گزارے، یہ اس پر واجب ہے۔

(المدة المسموح بها في غياب الزوج عن زوجته)

سوال: ہم اپنے اہل وعیال سے سال یا دو سال دور رہتے ہیں، کیا ہم پر ایسا کرنے میں کوئی گناہ ہے؟ اور ہم اس دوران اپنے اہل وعیال کے پاس کیسے لوٹ کر جائيں؟

جواب از شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ  حفظہ اللہ :

 میرے بھائیو! جب نظام عمل ہمیں یہ موقع فراہم کررہا ہے کہ بے شک ہر نوکری پیشہ کو سال میں 45 چھٹیاں ملیں  گی، تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے غنیمت جان کر اپنے اہل وعیال کی طرف جائيں، ان سے انس ومحبت پیدا کریں، ان کے غموں کا مداوا کریں، ضروریات کو پورا کریں  اور ان کے امور کی نگہبانی کریں۔ ساتھ ہی روزانہ ان سے موبائل وغیرہ سے رابطے میں رہیں۔  لیکن ان کو پورے سال یا دو سال نظر انداز کیے رکھنا  ایسی غلطی ہے کہ جو نہیں ہونی چاہیے۔ ضروری ہے کہ کم از کم ہر سال رسمی چھٹیوں  پر اگر اس سے زیادہ میسر نہ ہوں تو جائيں۔  کیونکہ آپ کا جانا ان کے غم وحزن پر مرہم رکھنے کا سبب بنے گا اور ان کے لیے تسلی کا باعث ہوگا۔

(الغياب عن الاهل)

عبادات، معاش و کاموں میں مشغول رہنے کے سبب بیوی  سے محبت کا اظہار و دل لگی نہ کرنے کی مذمت

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے سلمان فارسی اور ابوالدرداء  رضی اللہ عنہما  میں (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان ، ابودرداء  رضی اللہ عنہما  سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی بیوی) ام الدرداء رضی اللہ عنہا  کو بہت روکھے واجڑے  ہوئے حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ: یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء  رضی اللہ عنہا  نے جواب دیا کہ: تمہارے بھائی ابوالدرداء  رضی اللہ عنہ  کو دنیا کی کوئی حاجت و دلچسپی ہی نہیں ہے(سنن دارمی 2214 کی روایت میں ہے   کہ یہ دن میں روزے رکھتے ہیں، اور رات میں قیام، انہيں دنیاکی عورت میں کوئی دلچسپی ہی نہیں)۔ پھر ابوالدرداء  رضی اللہ عنہ   بھی آ گئے ، پس ان کے لیے کھانا تیار کیا(اور پیش کیا)، انہوں نے  کہا کہ: آپ بھی کھانا کھائیں، ابو الدرداء  رضی اللہ عنہ   نے کہا کہ: میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ:پھر  میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم بھی میرے ساتھ نہیں کھا ؤ گے۔ (راوی نے بیان کیا کہ ) پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے(اور نفلی روزہ توڑ دیا)۔ پھر جب رات ہوئی تو ابوالدرداء  رضی اللہ عنہ  قیام (تہجد) کے لیے اٹھے، مگر سلمان  رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ : ابھی سو جاؤ، تو وہ سوگئے، پھر کچھ دیر بعد دوبارہ سے قیام کے لیے اٹھنے لگے  تو واپس سے انہوں نے کہا کہ سو جاؤ، اور وہ سوگئے۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ  نے فرمایا کہ: اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان  رضی اللہ عنہ  نے ان سے فرمایا کہ :

” إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ “

 (بے شک تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، اور تمہارے نفس  کا بھی تم پر حق ہے، اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو اداکرو)۔

پھر آپ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے فرمایا :

(سلمان نے سچ کہا)۔

(صحیح بخاری 1968)


[1] جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

’’إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِلْمَرْأَةِ كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَزَّيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ﴾  (البقرة: 228)‘‘

(بے شک میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی عورت کے لیے زینت اختیار کروں جیسے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ میرے لیے بنے سنورے،  کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ’’اور معروف کے مطابق ان عورتوں کے لیے اسی طرح حق ہے جیسے ان کے اوپر حق ہے ‘‘)۔ (أخرجه البيهقي في «السنن الكبرى» (١٤٧٢٨)، وابن أبي شيبة في «مصنَّفه» (١٩٢٦٣) اور علامہ احمد شاکر نے اسے  عمدۃ التفسیر 1/277 میں “اسنادہ صحیح”  کہا ہے)۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)

talab_e_ilm_maash_kasrat_biwi_nazarandaz