Advice to those who avoid or disapprove polygyny – Various 'Ulamaa

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ فرماتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اهتدى بهداه أما بعـد:

بلاشبہ تعدد ازواج میں بہت عظیم مصالح پنہاں ہیں اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

 

﴿وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ (النساء: 3)

(اور اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو  عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں اور پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پھر اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرسکو گے تو ایک ہی سےکرو، یا جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں (یعنی لونڈیاں)۔ یہ زیادہ قریب ہے (کہ ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھکنے سے بچ جاؤ)

 

پس اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں کے لیے تعدد ازواج کو بہت سے مصالح کے پیش نظر مشروع قرار دیا ہے