Advice to those who avoid or disapprove Polygyny – Various ‘Ulamaa

ان لوگوں کو نصیحت جو کثرت ازواج کا انکار یا پرہیز کرتے ہیں

مختلف علماء کرام

ترجمہ و ترتیب: طارق بن علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز  رحمہ اللہ فرماتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحيم، الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه ومن اهتدى بهداه أما بعـد:

بلاشبہ تعدد ازواج میں بہت عظیم مصالح پنہاں ہیں اللہ عزوجل کا فرمان ہے:

﴿وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ (النساء: 3)

(اور اگر تم ڈرو کہ یتیموں کے حق میں انصاف نہیں کرو گے تو  عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں اور پسند ہوں ان سے نکاح کرلو، دو دو سے اور تین تین سے اور چار چار سے، پھر اگر تم ڈرو کہ عدل نہیں کرسکو گے تو ایک ہی سےکرو، یا جن کے مالک تمہارے دائیں ہاتھ ہوں (یعنی لونڈیاں)۔ یہ زیادہ قریب ہے (کہ ایسا کرنے سے ناانصافی اور) ایک طرف جھکنے سے بچ جاؤ)

پس اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے بندوں کے لیے تعدد ازواج کو بہت سے مصالح کے پیش نظر مشروع قرار دیا ہے۔

دیگر علماء کرام کے تفصیلی فتاوی جاننے کے لیے مکمل مقالہ پڑھیں۔

tauddud_azwaj_inkar_parhez_naseeha