Specifying the day of 'Eid to visit graves and relatives – Shaykh Muhammad Naasir-ud-Deen Al-Albaanee

زندوں یا مردوں کی زیارت کے لیے عید کے دن کو مخصوص کرنا

فضیلۃ الشیخ محمد ناصرالدین البانی  رحمہ اللہالمتوفی سن 1420ھ

(محدث دیارِ شام)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: سلسلۃ الھدی والنور کیسٹ 527۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

شیخ محمد ناصر الدین البانی  رحمہ اللہ  سے سوال ہوا: ہم نے سنا ہے کہ لوگوں کا عید کے روز ایک دوسرے کی زیارت کرنا بدعت ہے۔ امید ہے کہ آپ اس کا حکم بیان فرمائیں گے کہ عید کے روز بھائیوں سے ملنا اور جو کچھ عید پر لوگ کرتے ہیں کیسا ہے؟

جواب: ہم نے کئی بار یہ بات دہرائی ہے لہذا یہاں اس کے تکرار کی ضرورت نہیں البتہ اختصارا ہم بیان کرتےہیں کہ: زندوں کا عید کے دن مردوں کی زیارت کرنا بدعت ہے کیونکہ یہ شریعت کی جانب سے مطلق چیز کو مقید کرنا ہے۔ شارع حکیم صحیح حدیث میں فرماتے ہیں:

’’كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ أَلَا فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ‘‘([1])

(میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا، پس اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں)۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان: ’’فَزُورُوهَا‘‘عام ہے۔  اسے کسی خاص زمان ومکان سے مقید کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ نص کو مقید یا مطلق کرنا لوگوں کا وظیفہ نہیں، بلکہ یہ تو رب العالمین کا وظیفہ ہے۔ جس کا مکلف اس نے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بنایا ہے، چناچہ فرمایا:

﴿وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ﴾ (النحل: 44)

(یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا ہے آپ اسے کھول کھول کر بیان کر دیں)

اگر کوئی مطلق نص مقید ہو تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتادیا اور اگر کوئی عام نص مخصص ہو تو وہ بھی بتادیا۔ اور جس کا نہیں بتایا تو نہیں۔ اس لیے جب یہ کہا کہ: ’’أَلَا فَزُورُوهَا‘‘ (تو ان کی زیارت کیا کرو) یعنی مطلق ہے پورے سال میں۔ اس دن اور کسی اور دن میں کوئی فرق نہیں۔ اور نہ ہی کسی وقت سے مقید ہے کہ صبح ہو یا شام، ظہر ہو، دن ورات وغیرہ۔

اسی طرح سے ہم کہتے ہیں کہ: جیسا کہ زندوں کا عیدکے دن مردوں کی زیارت کرنا خاص بات بن جاتی ہے اسی طرح سے زندوں کا زندوں کی بھی زیارت اس دن کرنا خاص بن جاتی ہے۔

اور عید کے دن جو مشروع زیارت ہے صد افسوس کہ اسے چھوڑ دیاگیا ہے جس کا سبب لوگوں کا مختلف متفرق مساجد میں عید نماز کے لیے جانا ہے۔ حالانکہ ان سب پر واجب ہے کہ وہ مصلی(عیدگاہ) میں جمع ہوں۔ اور وہ مصلی شہر سے باہر ہوتا ہے اتنا وسیع کے شہر کے لوگ اس میں آجائيں۔ وہاں وہ ملاقاتیں کریں، حال چال معلوم کریں  اور عید کی نماز پڑھیں۔ یہ سنت معطل ہوچکی ہے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری حیات مداومت فرمائی تھی۔

یہاں پر ایک اور ملاحظہ ہے جس پر ہم سب کا متنبہ ہونا ضروری ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ‘‘([2])

(میرے اس مسجد (مسجد نبوی) میں پڑھی گئی نماز اس کے علاوہ کسی بھی مسجد میں پڑھی گئی نماز سے ہزار گنا افضل ہے سوائے مسجد الحرام کے)۔

چناچہ باوجویکہ ان کی مسجد میں پڑھی گئی نماز ہزار گنا افضل ہے پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی مسجد سے باہر پڑھا کرتے تھے یعنی مصلی میں، کیوں؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کے تمام مسلمانوں کو ایک ایسی وسیع جگہ جمع کرنا چاہتے تھے جو ان سب کو کافی ہوجائے۔ یہ مصلے زمانہ گزرنے کے ساتھ اور لوگوں کا مندرجہ ذیل باتوں سے دوری کے سبب کہ:

اولاً: سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی معرفت سے دوری۔

ثانیاً: جو کچھ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں علم ان کے پاس باقی بھی ہو اس سے دوری۔

ثالثاً: اس کی تطبیق اور اس پر عمل کرنے سے دوری۔

وہ اسی بات پر قناعت کرکے بیٹھ گئے ہیں کہ عید کی نماز مساجد میں ادا کرلیں جیسا کہ وہ نماز جمعہ یا باقی پنج وقتہ فرض نمازیں ادا کرتے ہیں۔ جبکہ سنت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں عید کی نماز مصلی ہی میں ادا فرمائی ہے ایک مرتبہ بھی مسجد میں ادا نہيں فرمائی۔

اب کچھ سالوں سے بعض مسلمانوں نے ان شہروں میں اس سنت کی جانب توجہ کی ہے اور نماز عید مصلی میں پڑھنا شروع کردی ہے۔ لیکن ان پر ایک بات باقی رہ گئی ہے۔ امید ہے کہ شاید لوگوں کا مساجد سے نکل کر عید کی نماز کے لیے  اب مصلی کا رخ کرنا اچھی بشارت ہو کہ عنقریب ایسا دن بھی آئے گا جب تمام مسلمان ایک جگہ جمع ہوجائیں گے۔ یعنی ایک شہر کے تمام لوگ ایک میدان میں جمع ہوجائیں۔ جیسا کہ تمام دنیا کے لاکھوں مسلمان مکہ اور اس کے گردونواح مزدلفہ وعرفہ وغیرہ میں جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کے پاس کا کوئی بدل نہیں ہوتا اور اتنی بڑی تعداد کے باوجود وہ سب ایک جگہ جمع ہوجاتےہیں۔

لہذا جتنی بھی مسلمانوں کی تعداد زیادہ کیوں نہ ہو انہیں کوئی شہر ایک بڑے میدان میں جمع کردینے سے عاجز نہیں۔ لہذا امید ہے کہ یہ خوشی کی بشارت ہے کہ اب وہ مساجد سے نکل کر مصلی کی طرف جانے لگے ہیں تو ان شاء اللہ عنقریب تمام شہر کے لوگ بھی ایک جگہ جمع ہوجائیں گے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کے معنی کی حقیقت کا فہم حاصل کرلیں کہ:

’’يَدُ اللَّهِ مَعَ الْجَمَاعَةِ‘‘([3])

(اللہ تعالی کا ہاتھ جماعت پر ہے)۔

جماعت تو وہ ہے جسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان شرعی وسائل کے ساتھ جمع فرمایا تھا۔ اور انہی وسائل میں سے ایک مصلی ہونا ہے ناکہ مسجد، بلکہ ایک شہر میں ایک سے زیادہ مصلی بھی نہیں۔

پس (اس دن کو مخصوص کرکے) یہ زیارت ہو (قبروں کی) یا وہ زیارت (رشتہ داروں کی) مخالف سنت ہے۔

عید کے دن جو مشروع زیارت ہے وہ یہی ہے کہ لوگ وفد کے وفد بن کر جم غفیر کی صورت کثرت کے ساتھ مصلی کی طرف نکلیں۔ بلاشبہ لوگ وہاں ایک دوسرے سے متعارف ہوں گے اور ایک دوسرے کی زیارت کریں گے اس تقلیدی زیارت سے بڑھ کر جو لوگوں نے بنارکھی ہے۔ کیونکہ جب وہ عید میں ایک دوسرے کے گھر زیارت کے لیے جاتے ہيں تو انہی کے گھر جاتے ہیں جن کو جانتے ہوں اور پورے سال ان سے ملنے کی فرصت نہ ملتی ہو، چناچہ وہ عید کے دن کو اس ملاقات کے لیے مخصوص کردیتے ہیں۔ لہذا ہم کہتے ہیں کہ (اس مخصوص دن) زندوں کا مردوں کی زیارت کرنے کا سنت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بدعات میں سے ہے اسی طرح سے زندوں کا زندوں کی زیارت کرنابھی ہے۔

اس کا کیا معنی ہوا؟! اس کا معنی یہ ہے کہ یہ زیارتیں چاہے زندہ لوگ مردوں کی کریں سال میں محض ایک بار نہیں ہونی چاہیے اسی طرح سے زندہ لوگوں کی زندہ رشتہ داروں کی زیارت صرف سال میں ایک بار نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ مسلسل رہے۔ کیونکہ اس زیارت سے یعنی زندہ جو زندوں کی کرتے ہیں مودت ومحبت اور مسلمانوں کے مابین تعارف حاصل ہوتا ہے جیسا کہ رب العالمین کا ارشاد ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا﴾ (الحجرات: 13)

(اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک (ہی) مرد و عورت سے پیدا کیا ہے،  اور اس لئے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو کنبے قبیلے بنا دیئے)

جہاں تک زندوں کا مردوں کی زیارت کرنا ہے تو ضروری ہے وہ بھی جاری وساری رہے تاکہ وہ غایت حاصل ہو جس کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کو مشروع قرار دیا ہے جبکہ پہلے اس سے منع کیا گیا تھا۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ:

’’ أَلَا فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ‘‘([4])

(پس اب ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہیں)۔

 


[1] صحیح ابن ماجہ 1285 وغیرہ۔

 

[2] صحیح بخاری 1190، صحیح مسلم 1394۔

 

[3] صحیح ترمذی 2166۔

 

[4] حدیث پہلے گذر چکی ہے۔