The ruling on the one who feels disturbed by his wife attending the 'Ulamaa's Duroos – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

بیوی کے علماءکرام کے دروس میں شرکت کرنے سے شوہر کاتنگ دلی کا مظاہرہ کرنا     

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء: حكم من يستثقل ويتضايق من ذهاب امرأته لدروس العلماء۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 

سوال: سائل کہتا ہے: بعض نوجوان ایسی لڑکی سے شادی کرتے ہيں جو علم او راہل علم سے محبت کرتی ہے، لیکن جب وہ ان کے ساتھ علماء کرام کے دروس میں شرکت کرنے کے لیے جانا چاہتی ہےتو وہ تنگ دلی اور بیزاری کا مظاہرہ کرتے ہیں، بلکہ کبھی تو اپنے قول وفعل سے ایذا ء رسانی تک کرتے ہیں، اس حرکت کا کیا حکم ہے؟ اور ہم آپ سے اس بارے میں توجیہ چاہتے ہیں، جزاکم اللہ خیراً؟

 

جواب: اس کے مختلف احوال ہيں:

پہلی حالت: اس نے عقد نکاح میں یہ شرط عائد کردی ہو کہ وہ مساجد میں قابل اعتبار وبھروسہ سلفی علماء کرام کے دروس میں شرکت کرے گی تو پھر بیوی کی اس شرط کی وفاء کرنا شوہر پر واجب ہےورنہ نکاح فسخ ہوجائے گا البتہ یہ دوسری بات ہے کہ وہ اپنی اس شرط سے دست برداری کرلے، تاکہ اللہ تعالی اس کا بہترین عوض اسے عطاء فرمائے۔

 

دوسری حالت: اس نے یہ شرط نہ رکھی ہو، تو پھر اس حال میں ان امور کو ہم دیکھیں گے:

پہلا امر: اس کے جانے سے کوئی مصلحت فوت نہ ہوتی ہو، یعنی اگر وہ اس کے ساتھ مسجد گئی تو وہ مصلحت ضائع ہوجائے گی اور فساد اس کی جگہ لے لے گا۔

دوسرا امر: اس کے جانے سے نہ شوہر کو خود کوئی نقصان ہو نہ ہی گھر کو، تو پھر اس پر واجب ہے کہ وہ اسے اجازت دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’ لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ‘‘([1])

(اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو)۔

اور ایک روایت میں ہے:

’’إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَأْذَنْ لَهَا‘‘([2])

(اگر تم میں سے کسی کی عورت اس سے مساجد جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اجازت دے دے)۔

 

آخری حالت: اس کے جانے میں شوہر کے لیے او رخود اس کے لیے خطرہ ہو۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب امن وامان کی کمی ہو یا بالکل ہی ناپید ہو، فاسق وبدقماش لوگ گھات میں بیٹھے ہوتے ہیں، خصوصاً جب مسافت بھی بعید ہو۔ اگر وہ دیکھتے ہیں کسی شخص کو کہ اس کے ساتھ عورت ہے تو انہیں ایذاء پہنچانے سے دریغ نہیں کرتے، کبھی تو اس شخص کو قتل کرکے اس کی عورت کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں، تو اس حالت میں وہ اسے منع کرے گا۔

 


[1] صحیح بخاری 900، صحیح مسلم 442۔

[2] صحیح بخاری 5238 کے الفاظ ہیں: ’’إِذَا اسْتَأْذَنَتِ امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يَمْنَعْهَا‘‘ (توحید خالص ڈاٹ کام)۔