Women dealing with the issues of Jarh wat Ta’deel – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

خواتین کا جرح وتعدیل کے باب میں داخل ہونا   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق بن علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیۃ (تعامل المرأة مع الجرح والتعديل)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں یہاں ایک قضیہ پر تنبیہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بہت سی خواتین جرح وتعدیل کے باب میں داخل ہوجاتی ہیں، حالانکہ یہ غلطی ہے مختلف پہلوؤں سے:

اول: نیک صالحات صحابیات اور جو ان کے بعد آئیں ان کے کردار کے برخلاف ہے۔ کیونکہ یہ بات نہیں جانی جاتی کہ ان میں سے کسی نے جرح وتعدیل کے لیے پیش قدمی کی ہو۔ بلکہ ان میں سے کسی کے پاس یعنی ان فاضلات صحابیات جن میں سرفہرست امہات المؤمنین ہیں کے پاس جب کوئی شخص آتا تو پردے کے پیچھے سے ان سے سوال کرلیتا اور وہ اسے فتویٰ دے دیتیں۔ صحابیات  میں سے امہات المؤمنین کے علاوہ سیدہ نسیبہ بنت کعب ام عطیہ رضی اللہ عنہا اور ان کے علاوہ بھی کئی تھیں۔ اور تابعیات میں سے عمرۃ بنت عبدالرحمن جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ساتھیوں میں سےتھیں،  معاذہ بنت عبداللہ العدویہ البصریہ اور حفصہ بنت سیرین رحمہن اللہ۔

ہاں، حالانکہ ان میں عالمات فاضلات بھی پائی جاتی تھیں حتیٰ  کہ ان بعد والے زمانوں میں بھی۔ مثال کے طور پر میں ذکر کرتا ہوں کریمہ بنت احمد المروذیہ ثم المکیہ آپ کی کنیت ام الکرام تھی۔ اور آپ کنواری ہی فوت ہوگئی شادی نہ ہوئی۔ اور آپ عورتوں میں سے صحیح بخاری کی راویان میں سے ایک ہیں۔ آپ صحیح بخاری کو امام بخاری سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک روایت کرتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ فقیہا اور بہت ماہر تھیں۔ آپ سے چار سو ماہر فقہاء نے علم حاصل کیا۔ آپ صبح کی نماز کے بعد سے عشاء تک بیٹھتیں اور لوگ آپ سے پردے کے پیچھے سے علم حاصل کرتے۔

دوم: ایک عورت کو خواہ کتنی ہی قوت وتجربہ دیا گیا ہو وہ کبھی بھی مردوں کی چھپی باتوں تک نہیں پہنچ سکتی، یہ بہت ہی مشکل ترین کام ہے۔

سوم: وہ اپنے آپ کو ایسے معاملات کی نذر کررہی ہے کہ جس میں اس کا بچاؤ نہیں جیسا کہ ہوسکتا ہے اس کے اپنے مرد حضرات اس پر غصہ ہوجائيں۔ کیونکہ ایسا کوئی بھی غیرت مند مرد نہیں ہوگا کہ جو اپنے عورتوں کو چھوڑ دے کہ وہ باہر جائيں اور مردوں سے اختلاط کریں یا ان سے روابط رکھیں۔

اس سوال کے جواب میں یہی کچھ اللہ تعالی نے ہمارے لیے آسانی فرمائی۔

khawateen_jarh_tadeel_muamalah