Disliking of being an expert in Arabic grammar if it leads one to arrogance and haughtiness – Imaam Abu Bakr Ahmed bin Alee Al-Khateeb Al-Baghdaadi

علم نحو (عربی گرامر) میں مہارت حاصل کرنے کی کراہیت اگر وہ تکبر وگھمنڈ کا سبب ہو   

امام أبو بكر أحمد بن علي الخطيب البغدادي رحمہ اللہ المتوفی سن 463ھ

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: "اقتضاء العلم العمل"  دراسة وتحقيق: محمد ناصر الدين الألباني

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

باب: ’’مَنْ كَرِهَ تَعَلُّمَ النَّحْوِ لِمَا يُكْسِبُ مِنَ الْخُيَلاءِ وَالزَّهْوِ‘‘ (ان کے بارے میں  باب جو علم نحو کی تعلیم کو مکرو جانتے ہیں اگر وہ تکبر وگھمنڈ کا سبب ہو)۔

 

150- ۔۔۔الضحاک بن ابی حوشب فرماتے ہیں: میں نے القاسم ابن مخیمرہ کو فرماتے ہوئے سنا:

’’تَعَلُّمُ النَّحْوِ أَوَّلُهُ شُغْلٌ وَآخِرُهُ بَغْيٌ‘‘

(نحو کی تعلیم کا آغاز تو شغل ہوتا ہے اور انجام فساد ہوتا ہے)۔

 

151- ۔۔۔سلمہ بن کلثوم فرماتے ہیں: میں نے ابر اہیم بن ادہم کو مالک ابن دینار سے روایت کرتےہوئے سنا کہ وہ فرماتے ہیں:

’’تَلْقَى الرَّجُلَ وَمَا يَلْحَنُ حَرْفًا، وَعَمَلُهُ لَحْنٌ كُلُّهُ‘‘

(ایسے شخص سے بھی آپ ملیں گے کہ وہ (عربی لغت کے) ایک حرف تک میں لحن (غلطی) نہیں کرتا ہوگا ، جبکہ  اس کے تمام اعمال لحن ہی لحن ہوں گے)۔

 

152- ۔۔۔عبداللہ بن خبیق کہتے ہيں کہ ہم نے اہل دمشق میں سے اپنے شیخ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابراہیم بن ادہم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’أَعْرَبْنَا فِي الْكَلامِ فَمَا نَلْحَنُ، وَلَحَنَّا فِي الأَعْمَالِ فَمَا نُعْرِبُ‘‘

مفہوم: (اپنے کلام میں ہم ایسے عرب بنے کہ لحن نہیں کرتے اور اعمال میں یوں لحن ہیں کہ سدھار نہیں)۔

 

153- ۔ ۔ ۔ الصولی فرماتے ہیں کہ بعض زہاد کا کہنا ہے:

لَمْ نُؤْتَ مِنْ جَهْلٍ وَلَكِنَّنَا         نَسْتُرُ وَجْهَ الْعِلْمِ بِالْجَهْلِ

 نَكْرَهُ أَنْ نَلْحَنَ فِي قَوْلِنَا         وَلا نُبَالِي اللَّحْنَ فِي الْفِعْلِ

 

154- ۔۔۔علی بن ناصر یعنی ان کے والد فرماتے ہیں:

میں نے خلیل بن احمد (جنہوں نے عربی کی سب سے پہلی معجم لکھی تھی) کو خواب میں دیکھاتو میں نے خواب میں ہی کہا کہ:  میں نے خلیل سے بڑھ کر کوئی عقل مند نہیں دیکھا۔ پھر پوچھا اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ فرمایا:

’’أَرَأَيْتَ مَا كُنَّا فِيهِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ‘‘

(کیا تم جانتے ہو کہ ہم کس چیز میں مگن تھے! یہاں آکر معلوم ہوا کہ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ سے افضل کوئی چیز نہیں)۔

 

155- ۔ ۔ ۔دوسری روایت میں ہے کہ:

میں نے خلیل بن احمد کو خواب میں دیکھا تو پوچھا آپ کے ساتھ آپ کے رب نے کیا معاملہ فرمایا؟ فرمایا: مجھے بخش دیا۔ میں نے پوچھا کس چیز کےسبب آپ کو نجات ملی؟فرمایا:

’’بِلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، قُلْتُ: كَيْفَ وَجَدْتَ عِلْمَكَ أَعِنِّي الْعَرُوضَ، وَالأَدَبَ، وَالشِّعْرَ؟، قَالَ: وَجَدْتُهُ هَبَاءً مَنْثُورًا‘‘

(لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ سے۔ میں نے پوچھا : آپ کا جو علم تھا اسے کیسا پایا یعنی عروض، ادب اور شعر؟ فرمایا: انہیں ہباء منثورا  پایا (یعنی بے فائدہ))۔

 

156- ۔۔۔ہمیں ہلال بن العلاء الباہلی نے خود بیان فرمایا:

سَيَبْلَى لِسَانٌ كَانَ يُعْرِبُ لَفْظَةً                فَيَا لَيْتَهُ فِي وَقْفَةِ الْعَرْضِ يَسْلَمُ

 وَمَا يَنْفَعُ الإِعْرَابُ إِنْ لَمْ يَكُنْ تُقًى           وَمَا ضَرَّ ذَا تَقْوَى لِسَانٌ مُعْجَمُ

 

157- ۔ ۔۔محمد بن المثنی السمسار کہتے ہیں کہ ہم بشر بن الحارث کے پاس تھے اور ان کے پاس العباس بن عبدالعظیم العنبری بھی موجود تھے جو کہ مسلمانوں کے سادات میں سے تھے۔ تو ان سے فرمایا: اے ابا نصر آپ ایسی شخصیت ہيں کہ جس نے قرآن پڑھا اور احادیث لکھیں تو کیوں نہیں آپ عربی زبان سیکھتے کہ جس کے ذریعے آپ لحن کو جان سکیں اور لحن میں مبتلا نہ ہوں؟ تو آپ نے جواب دیا: مجھے کون اس کی تعلیم دے گا؟ انہوں نے فرمایا: میں اے ابا نصر۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر دیجئے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ کہیں:

’’ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا، قَالَ: فَقَالَ لَهُ بِشْرٌ: يَا أَخِي، وَلِمَ ضَرَبَهُ؟، قَالَ: يَا أَبَا نَصْرٍ، مَا ضَرَبَهُ، وَإِنَّمَا هَذَا أَصْلٌ وُضِعَ، فَقَالَ بِشْرٌ: هَذَا أَوَّلُهُ كَذِبٌ لا حَاجَةَ لِي فِيهِ‘‘

(ضَرَبَ زَيْدٌ عَمْرًا یعنی زید نے عمرو کو مارا۔  اس پر بشر نے فرمایا: اے بھائی، اس نے کیوں اسے مارا؟ فرمایا: اے ابا نصر حقیقت میں اسے نہيں مارا یہ تو بس سمجھانے کے لیے ایک اصل یوں وضع کی گئی ہے۔اس پر بشر نے فرمایا: اس کا تو اول ہی جھوٹ پر مبنی ہے مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں)۔

158- ۔۔۔ابن ابی اویس فرماتے ہیں:

اشرافیہ میں سے ایک شخص حاضر ہوا جس نے ریشمی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ فرمایا کہ: اما م مالک رحمہ اللہ کوئی کلام کررہے تھے جس میں کچھ لحن تھا۔ اس شریف (صاحب حیثیت) شخص نے کہا : کیا اس شخص کے والدین کے پاس دو درہم بھی نہیں تھے کہ دے کر اسے نحو ہی سکھا لیتے؟ فرمایا: امام مالک نے اس شریف کی یہ بات سنی تو جواب دیا کہ:

’’لأَنْ تَعْرِفَ مَا يَحِلُّ لَكَ لُبْسُهُ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَيْكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ضَرَبَ عَبْدُ اللَّهِ زَيْدًا، وَضَرَبَ زَيْدٌ عَبْدَ اللَّهِ‘‘

(تمہارا یہ جاننا کہ کیا پہننا تمہارے لیے حلال ہے اور کیا حرام ہے تمہارے  ضَرَبَ عَبْدُ اللَّهِ زَيْدًا، وَضَرَبَ زَيْدٌ عَبْدَ اللَّهِ جاننے سے بہتر ہے)۔