The ruling on putting personal pictures on social networks – Shaykh Ubaid bin Abdullaah Al-Jabiree

سوشل نیٹ ورک ویب سائٹس پر اپنی ذاتی تصاویر ڈالنے کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ عبید بن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ

(سابق مدرس جامعہ اسلامیہ، مدینہ نبویہ)

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: ویب سائٹ میراث الانبیاء فتوی 4378۔

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: جزاکم اللہ خیراً شیخنا، یہ بیسواں سوال ہے مغرب (مراکش) سے سائل انٹرنیٹ فارمز (یا سوشل نیٹ ورک ویب سائٹس) پر ممبرز کا اپنی ذاتی تصاویر ڈالنے کے حکم کے بارے میں سوال پوچھتا ہے خصوصاً فیس بک اور ٹوئیٹر کے صفحات پر؟

جواب: میں یہ کہتا ہوں کہ ذوات ارواح (جاندار) چیزوں کی تصویر حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

’’أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ‘‘([1])

(بروز قیامت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ شدید ترین عذاب مصوروں کو ہوگا)۔

اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاس بات کی بھی خبر دی کہ مصور کے لیے ہرتصویر کے بدلے میں ایک نفس بنایا کیا جائے گااور کہا جائے گا اس میں روح پھونکو اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہیں پھونک پائے گا۔ اور شاید کے ابوزیاد بھائی ہمیں یہ بات آئندہ ملاقات میں یاد دلائیں کیونکہ یہ بات تفصیل طلب ہے۔

بہرحال یہ بات معلوم ہوئی کہ اپنی شخصی تصاویر کو ٹوئیٹر یا (سوشل) کلبز وغیرہ میں نشر کرنا جائز نہيں۔ لیکن اگر ذمہ دار ادارے آپ سے کسی مخصوص غرض کے لیے قانونی طور پر تصویر طلب کریں جیسے ٹریفک ، سکیورٹی اور حکومتی ادارے کہ جو کسی شخص کے تعین کے لیے تصویر طلب کرتے ہیں تو اسے بقدر ضرورت وبقدر حاجت دیا جاسکتا ہے اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

أستودعكم الله جميعًا الذي لا تضيع ودائعه وصلى الله وسلم على نبینا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

 


[1] صحیح مسلم 2110۔