Ruling regarding the followers of the innovators? – Shaykh Rabee' bin Hadee Al-Madkhalee

بدعتیوں کے پیروکاروں کا حکم؟   

فضیلۃ الشیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ

(سابق صدر شعبۂ سنت، مدینہ یونیورسٹی)

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: کیسٹ ’’المنهج التمييعي وقواعده‘‘، محاضرہ ’’إن الله يرضى لكم ثلاثاً‘‘

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوال: کیا بدعتی کی اتباع کرنے والے کا بھی اس بدعتی کی طرح ہجر(بائیکاٹ ) کیا جائے گا؟

جواب: میرے بھائیوں ان میں سے جو فریب خوردہ ہے اسے تعلیم دی جائے گی، جلد بازی سے کام نہ لیں، اسے علم دیں اور اس کے لیے وضاحت کریں۔ کیونکہ ان میں سے بہت سارے لوگ خیر ہی چاہتے ہیں حتی کہ ان صوفیوں میں بھی۔ اللہ کی قسم اگر صحیح معنوں میں سلفی دعوت کھڑی ہو تو آپ ان لوگوں کو  سلفیہ میں جوق در جوق داخل ہوتا پائیں گے۔

آپ کے نزدیک محض یہی کلی قاعدہ نہیں ہونا چاہیے کہ بس ہجر،ہجراورہجریعنی بنیادکیا ہے؟ بس ہجر(بائیکاٹ)! حالانکہ اساس کیا ہے؟ لوگوں کی ہدایت اور لوگوں کو اس خیر میں داخل کرنا۔  ہجر کے معاملے کو بسااوقات غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔ اگر آپ تمام لوگوں سے ہی ہجر کرجائیں گے تو پھر سنت میں کون داخل ہوگا؟  اگر ہم ہجر کے ذریعے اپنے اور ان کے درمیان یہ دیواریں کھڑی کرلیں گے اور ایسے بند باندھ دیں گے ۔ ایسی ہجر تو میرے پیارے بھائیوں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے دور میں ہوا کرتی تھی۔ جب دنیا سلفیوں سے بھری ہوتی تھی۔ اگر امام احمد رحمہ اللہ کہہ دیں کہ فلاں بدعتی ہے تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور اس کا معاملہ ختم ہوجاتا۔ لیکن اب سلفیہ آپ کے یہاں ایسے ہے جیسے کالے بیل میں سفید بال۔  تو ہجر نہیں کیا جائے گا مگر صرف متکبر ومعاند بدعتی سے۔ لیکن جو ان کے دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ تھوڑا تحمل سے معاملہ کیا جائے، انہیں حکمت اور اچھے وعظ ونصیحت کے ساتھ اللہ تعالی کی راہ کی طرف بلایا جائے، یقیناً ان میں سے بہت سے لوگ اس دعوت کوقبول کریں گے۔

لہذا آپ کے یہاں اساس لوگوں کی ہدایت اورانہیں باطل سے نکالنا ہو۔ لوگوں سے نرمی سے پیش آئیں، انہیں دعوت دیں ان کے قریب ہونے کی کوشش کریں، اور لوگوں کو نفع بخش علمی کتب ورسائل اور کیسٹیں پیش کریں اور تمام شرعی وسائل دعوت کو بروئے کار لائیں جیسے خطبہ، تقریریں ودروس تو ان سے ان شاء اللہ خیر کثیر کا حصول ہوگا۔ اور ان شاء اللہ سلفیوں کے گروہ میں اضافہ ہوگا۔ اور بہت سے لوگ آپ سے نہیں چھوٹیں گے۔ (مگر یہ حال کہ) تمام لوگ آپ کے نزدیک گمراہ ہیں، نہ کوئی نصیحت، نہ وضاحت ، نہ کچھ؟! یہ بات غلط ہے! اس کا معنی تو یہ ہوا کہ لوگوں پر خیر کے دروازوں کو بند کیا جارہا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس بس ہجر ہجر ہی ہو۔

اساسی قاعدہ لوگوں کی ہدایت ، انہیں سنت میں داخل کرنا اور گمراہی سے بچانا ہے ۔ یہ قاعدہ ہونا چاہیے آپ کے پاس۔صبر کریں تحمل مزاجی سے کام لیں جب یہ سب کرلیں تو پھر اگر اس واضح بیان کے بعد بھی کوئی عناد کرے پھر کہیں جاکر آخری دواء داغنا ہوتا ہے، لیکن پہلی ہی باری میں داغ دینا یہ غلط ہے، بارک اللہ فیکم۔

پس چاہیے کہ میرے بھائیوں آپ کے نزدیک قاعدہ لوگوں کو بچانا ہو۔ اللہ کی قسم! بہت سے لوگ خیر چاہتے ہیں، وہ جنت کے طالب ہیں میرے بھائیوں، خیر کی چاہت رکھتے ہیں۔ چناچہ ضروری ہے کہ آپ کے اسلوب حکیمانہ ہوں۔ اللہ کی قسم ! ایسا حکیم ورحیم اسلوب کہ اسے محسوس ہو کہ آپ اس پر بڑائی نہیں چاہتے، نہ ہی اس کی توہین کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا اس کے لیے تواضع اختیار کریں ، نرمی اپنائیں، مہربانی کریں اور حکمت کے ساتھ تبلیغ کریں۔ کتنے ہی لوگوں کو جو قبرپرست تھے اللہ تعالی نے بہت قلیل اہلحدیثوں کے ذریعے ہدایت نصیب فرمائی کہ جب انہوں نے علم، حکمت اوربہترین انداز میں وعظ ونصیحت کو اپنایا۔

میں آپ کے سامنے ان داعیان میں سے ایک کی مثال پیش کرتا ہوں:

شیخ ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ ہندوستان کے بڑے علماء اور حکماء میں سے تھے جو حکمت واچھی وعظ ونصیحت کے ساتھ دعوت الی اللہ کیا کرتے تھے۔ اور حکمت، حجت وبرہان کو اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پیش کرکے مناظرے بھی کیا کرتے تھے۔ لہذا خلق کثیر آپ کی دعوت کی طرف متوجہ ہوئی اور اسے قبول کیا۔ اس بات نے علماء سوء وضلالت کو غیض وغصے میں بھر دیا جو اس دعوت سے عناد رکھتے تھے چناچہ انہوں نے ایک جاہل وفاجر شخص کو ان کے قتل کی ذمہ داری سونپی۔ پس وہ شخص شیخ ثناء اللہ کے پاس آیا جبکہ آپ درس دے رہے تھے  تو اس نے ایک بیلچے کے ذریعے آپ پر حملہ کردیا اور ایسی جان لیوا ضرب لگائی کہ وہ بیہوش ہوکر گر گئے۔ پھر حکومتی کارندے (پولیس والے) آئے (دیکھیں تو کس طرح شیخ نذیر حسین رحمہ اللہ کے تین چار کبار تلامذہ نے پورے ہندوستان کی اپنے علم وحکمت کے ذریعے کایا پلٹ دی!) بہرحال انہوں نے اس مجرم کو پکڑااور اسے جیل میں پھینک دیا۔  جیسے ہی شیخ رحمہ اللہ بیہوشی سے ہوش میں آتے ہیں تو کہتے ہیں: وہ شخص کہاں ہے جس نے مجھے مارا تھا؟ لوگ کہتے ہیں: وہ تو جیل میں ہے۔ فرماتے ہیں: اسے جیل میں کبھی نہیں ڈالنا چاہیے۔ لیکن حکومت اسے جیل میں رکھنے پر مصر رہتی ہے۔ تو یہ حلیم صفت شیخ اس مجرم کی اولاد پر خرچ کرتے رہتے ہیں جب تک وہ جیل میں رہتا ہے۔ پھر جب اسے آزادی ملتی ہے تو سب سے پہلا جو کام وہ کرتا ہے وہ ان شیخ کی زیارت ہوتی ہے اور بدعات کو پھینک کر سلفیہ میں داخل ہونے کا اعلان کرتا ہے۔

دوسری مثال:

اس زمانے میں سوڈان میں سلفیہ کے سب سے پہلے داعی شیخ حسونہ رحمہ اللہ تھے۔ آپ تو صبر، حلم اور حکمت میں ضرب المثل تھے۔ وہ مساجد وغیرہ میں دعوت الی اللہ میں بڑے فعال تھے۔ ان پر اہل بدعت نے دھاوا بول دیا اور شدید مارپیٹ کی یہاں تک کہ ان لوگوں کو یقین ہوگیا کہ وہ مرچکے ہیں۔ تو انہیں ٹانگوں سے گھسیٹ کر مسجد سے باہر پھینک دیا۔ جب وہ ہوش میں آئے تو ہوش میں آتے ہی جو بات لوگوں نے سب سےپہلے دیکھی وہ ان کا مسکرانا تھا، نہ کوئی گالم گلوچ، نہ غصہ، نہ کسی سے نفرت، نہ انتقام، نہ کچھ۔ پس بہت سے لوگ ان اعلیٰ اخلاق کے سبب دعوت سلفیہ میں داخل ہوئے۔

اور ایک مرتبہ آپ ریل گاڑی میں سفر کررہے تھے کہ مغرب یا عشاء کی نماز کا وقت ہوگیا پس آپ نے لوگوں کی امامت کروائی اور بہت ہی میٹھی آواز میں قرآن کی تلاوت کی، کہ لوگوں کو بہت پیاری لگی۔ اس پر لوگوں نے مقتدیوں سے پوچھا کس نے تمہیں نماز پڑھائی ہے؟ کہا: میں فلاں۔ پس وہ سب اس پر ٹوٹ پڑے اور شدید طریقے سے مارا پیٹا کہ آپ بیہوش ہوگئے۔ مگر حسب عادت جب ہوش آیا مطمئن تھےمسکرا رہےتھے۔

شاہد یہ ہے کہ آپ پر واجب ہے کہ آپ کےپاس حکمت، حلم وبردباری، صبر اور نیک نیتی ہو ، بارک اللہ فیکم، تو اللہ کی قسم حکیمانہ اخلاق اور حلم ونرمی سے لوگ آپ کی دعوت کی طرف لپکے آئیں گے۔ لیکن اگر آپ کے پاس محض روکھے پن وسختی کے سوا کچھ نہ ہو تو فرمان الہی ہے:

﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ﴾ (آل عمران: 159)

(پس یہ اللہ کی طرف سے رحمت ہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم ہوگئے ہیں اور اگر آ پ بد خلق اور سخت دل ہوتے تو یقیناً وہ آپ کے اردگرد سے منتشر ہو جاتے)

اے بھائیو! بارک اللہ فیکم ہمارے بعض بھائیوں کے یہاں حد سے بڑھ کر شدت پائی جاتی ہے جو لوگوں کو سلفیہ سے نکال دیتی ہے اس میں کسی کو داخل نہیں کرتی۔ یہ حالت آج موجود ہے۔ لہذا یہ بھائی جو لوگوں کو دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالی کے حضور توبہ کریں، اور اپنے اخلاق کو سنواریں اور اللہ تعالی کی راہ کی جانب ہدایت کرنے والے بنیں، بارک اللہ فیکم۔  آپ پر لازم ہے ان اخلاق کو اپنانااور محض ہجر پر توجہ مرکوز رکھنے کو ترک کردو۔  ہجر کرنا مشروع ہے لیکن  جب صبر اور نرمی سب کوآزما لیا گیاہو، بارک اللہ فیکم۔ پس آپ کو چاہیے کہ لوگوں کو خیر کی جانب ترغیب دیں اور اس خیر میں داخل کرنے کی کوشش کریں۔

(درس بعنوان’’إن الله يرضى لكم ثلاثاً‘‘ سوال 14)

سوال: کیا بدعتی کی اتباع کرنے والے بھی اسی کے حکم میں داخل ہیں؟

جواب: جی ہاں، اسی کے ساتھ داخل ہیں اگر وہ اس کی نصرت وتائید کریں اور اس کا دفاع کریں تو وہ اسی کا گروہ ہیں۔ وہ انہی میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ فرعون کا گروہ تھا:

﴿وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا، رَبَّنَآ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا﴾ (الاحزاب: 67-68)

(اور کہیں گے اے ہمارے رب! بے شک ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنامانا تو انہوں نے ہمیں اصل راہ سے گمراہ کر دیا، اے ہمارے رب! انہیں دوگنا عذاب دے اور ان پر لعنت کر، بہت بڑی لعنت)

پس اتباع کرنے والے پیروکار وہ کمزور لوگ ہوتے ہیں جنہیں اہل باطل نےدھوکے میں مبتلا کررکھا ہوتا ہے۔ جو حق کی مخالفت اور اہل حق کے خلاف لڑائی میں ان کی قیادت کرتے ہیں۔ ان کاحکم ان کے بڑوں اور لیڈروں کا سا حکم ہے ۔ لیکن اگر بعض لوگوں کو دیکھیں جو ان کے دام فریب میں آچکے ہیں تو کوئی حرج نہیں کہ آپ انہیں بصیرت دیں او ران کے سامنے حق کو واضح کریں۔ پھر اگر وہ اپنے بڑوں کے ساتھ ہی چپکا رہتا ہے اور اسی ڈگر پر قائم رہتا ہے تو وہ اسی کے حکم میں ہے۔

(کیسٹ المنهج التمييعي و قواعده سوال 5)