Warning against Shariah violations in playing or watching the game of football – Various 'Ulamaa

فٹبال  کھیلنے اور دیکھنے میں بعض شرعی مخالفتیں   

مختلف علماء کرام

ترجمہ: طارق علی بروہی

مصدر: كرة القدم مخالفات ومحظورات (پمفلٹ)

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمیں اس کا واقعی اقرار کرنا پڑے گا کہ کھیل بالخصوص فٹبال اب ایک ایسا کھیل بن چکا ہے جس کا عالمی طور پر اور اکثرمعاشروں میں خوب اہتمام ہوتا ہے ۔ جس میں اسلامی معاشرے بھی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار وجدال نہیں۔

ان ایام میں ہی آپ فٹبال  کے جنون پر غوروفکر کرسکتے ہیں (اللہ تعالی آپ کی رعایت فرمائے) کہ کس طرح سے قیمتی اوقات کو قتل کیا جاتا ہے، طاقتوں کو ضائع کیا جاتا ہے، اموال کو بیکار لٹایا جاتا ہے، قابل ستر اعضاء جسم کا ننگا ہونا،  غیراللہ کی خاطر حب وبغض، دوستی ودشمنی کا اللہ تعالی کے لیے نہ ہونا، جھگڑے اور ضدبازیاں، فحش کلامی، جاہلی نعرے، ٹیموں کے لیے بدترین  تعصب،  بچوں کی طرح چیخنا چلانا، تالیاں، سیٹیاں، رقص، برا بھلا کہنا، گالم گلوج، لعن طعن یہ بعض ظاہر عیوب ہیں فٹبال کے اس کھیل میں۔۔۔

اس لیے ہم پر واجب تھا کہ ہم عام مسلمانوں کو اس بارے میں نصیحت کریں۔

پڑھیں ۔۔۔اور بچیں

دی پروٹوکولز آف یہود میں ہے کہ:

۔۔۔تاکہ لوگوں کی اکثریت گمراہی میں رہے، اور انہيں معلوم ہی نہ ہو کہ اس کے پیچھےو آگےکیا ہےاور اس سے کیا مقصود ہے، اس کے لیے ہم ایسے اعمال کریں گے جو ان کے ذہنوں کو اس طرف  پھیر دیں مختلف قسم کی تفریح کے سامان ومواقع، کھیل کود، لہو ولعاب، انواع واقسام کی ورزشیں وغیرہ۔۔۔پھر ہم اخبارات ووسائل نشر وغیرہ کے ذریعے ان کھیل وفن کے مقابلوں (ٹورنامنٹس)  کے لیے دعوت دیں گے۔۔۔

(پروٹوکولز حکما‌ء صیہون1-258 عجاج نویھض)

فٹبال میں ہونے والے بعض منکرات

آجکل فٹبال کے کھیل کے ساتھ لازمی طورپر بعض منکرات ہوتے ہیں جن کا تقاضہ ہے کہ اس کے کھیلنے سے منع کیا جائے، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ:

1- ہمارے نزدیک یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اس کھیل کے مقابلے نماز کے اوقات میں بھی ہوتے ہیں جس سے کھیلنے والے یا ناظرین وشائقین نماز چھوڑ دیتے ہیں، یا جماعت کو چھوڑ دیتے ہیں، یا اس کے وقت سے تاخیر کرکے پڑھتے ہیں۔ اور بلاشبہ کسی بھی ایسے کام کی حرمت میں کوئی شک نہيں کہ جو نماز کی ادائیگی میں حائل ہو یا جماعت کی فوتگی کا سبب ہو الا یہ کہ کوئی شرعی عذر ہو۔

2- جیسا کہ اس کھیل کا مزاج ہے کہ اس کی وجہ سے مختلف گروپ بازی ،یا فتنہ پروری ، یا بغض وحسد کا لوگ شکار ہوجاتے ہیں۔ اور یہ نتائج اسلام کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے درگزر کرنے، باہمی الفت وبھائی چارے، دلوں اور ضمیر کو حسد، بغض ، نفرت وکینہ پروری سے پاک رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔

3- اس کھیل میں کھلاڑیوں کے جسم کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں باہمی تصادم ، ٹکراؤ ودھکم پیل ہوتی ہے جس کا ذکر پہلے گزرا۔ غالباً کھیل میں کھلاڑیوں میں سےکوئی میدان میں گرجاتا ہے، چکرا جاتا ہے، یا ہاتھ پیر تک ٹوٹ جاتا ہے۔ اور اس بات کی سچائی کی اس سے زیادہ واضح کیا دلیل ہوگی کہ ہمیشہ اس کھیل کے وقت میدان (اسٹیڈیم) کی ایک طرف ایمبولینس ضرور کھڑی ہوتی ہے۔

4- جو کچھ پہلے بیان ہوا اس سے ہم نے جانا کہ کھیلوں کو مباح قرار دینے سے غرض انسانی جسم کو چست رکھنا ،  قتال فی سبیل اللہ کی تربیت  اور موذی امراض سے بچاؤ ہے۔ لیکن فی زمانہ فٹبال  کے کھیل میں ان اہداف میں سے کچھ بھی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس میں جو باتیں پہلے ذکر ہوئی کہ مال کو باطل طو رپر لٹانا، بلکہ اس کے بجائے اس میں تو جسم پر چھوٹیں لگتی ہیں، کھلاڑیوں اور ناظرین کے دلوں میں باہمی بغض وفتنہ پروری جنم لیتی ہے۔ بلکہ بات اس سے بھی آگے تک جاپہنچتی ہے یہاں کہ شائقین میں سے کسی نے کھلاڑی پر دست درازی کی اور قتل تک کردیا جیسا کہ کچھ ماہ پہلے ایک شہر میں منعقدہ مقابلے(میچ) میں ایسا ہوا یہ تنہاء بات ہی کافی ہے اس سے منع کرنے کے لیے۔ وباللہ التوفیق۔

(مفتی شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ  رحمہ اللہ ص ف 2852 بتاریخ 13/08/1387ھ)

ٹی وی پر نشر ہونے والے فٹبال مقابلے کو دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: میرے خیال میں ٹی وی پر آنے والے کھیلوں یا مقابلے یا اس کے علاوہ بھی جو کچھ عموماً دیکھا جاتا ہے وقت کا ضیاع ہے۔ اور ایک عاقل اور ہوشیار انسان اپنے قیمتی وقت کو اس قسم کے امور میں ضائع نہیں کرتا جن کا مطلقاً کوئی فائدہ ہی نہیں۔ یہ تو اس صورت میں جب اس میں دوسرے شر نہ ہوں لیکن اگر اس میں دوسرے شر ساتھ ہوں جیسے دیکھنے والے شائقین کا کسی کافر کھلاڑی کی تعظیم کرناتو یہ بلاشبہ حرام ہے۔ کیونکہ ہمارے لیے کسی بھی صورت میں جائز نہیں کہ کافروں کی تعظیم کریں خواہ وہ کتنے ہی ترقی یافتہ ہوجائیں ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ان کی تعظیم کریں۔

یا پھر اس میں نوجوانوں کی رانیں ظاہر ہوتی ہیں جو کہ فتنے کا سبب ہے۔ کیونکہ میرے نزدیک یہی راجح ہے کہ نوجوانوں کو فٹبال کھیلتے ہوئے اپنی رانیں ظاہر کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں فتنہ ہے۔ اگرچہ بعض کا یہ قول ہی کیوں نہ ہو کہ رانیں ستر میں شامل نہيں پھر بھی میرے خیال میں نوجوانوں کو اپنی رانیں کبھی ظاہر نہيں کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر اگر ہم کہیں کہ رانیں ستر میں شامل ہیں جیسا کہ امام احمدرحمہ اللہ کا مشہور مذہب ہے پھر تو بات بالکل واضح ہے کہ کسی بھی حال میں انہیں ننگا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

جس بات کی میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کروں گا وہ یہ کہ اپنے اوقات کی قدر کریں کیونکہ وقت تو مال سے بھی قیمتی شے ہے۔

(شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ)

ورلڈ کپ

سوال: کھیل کے مقابلے دیکھنے کا کیا حکم ہے جیسے ورلڈ کپ وغیرہ؟

فتویٰ  کمیٹی، سعودی عرب نے جواب دیا کہ:

 فٹبال کے وہ مقابلے (ٹورنامنٹس) جو مال یا اس جیسے انعامات پر ہوتے ہیں حرام ہیں کیونکہ یہ جوا ہے، اور اس لیے بھی کیونکہ کسی مقابلے کو جیتنے پر انعام یا معاوضہ لینا جائز نہیں سوائے ان مقابلوں کے جس  کی شریعت نے اجازت دی ہے جیسا کہ گھڑ دوڑ، اونٹ دوڑ یا تیر اندازی نشانہ بازی۔ اس لیے ان مقابلوں میں شرکت کرنا اسی طرح سے ان کو دیکھنا اس شخص پر حرام ہے جسے معلوم ہو کہ اس میں جیت کی صورت میں عوض دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا اس میں حاضر ہونا اس کا اقرار کرنا تصور ہوگا۔

البتہ اگر مقابلے میں عوض شامل نہ ہو اور یہ ان چیزوں کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ ہوں جو اللہ تعالی نے بندے پر واجب قرار دی ہيں جیسے نماز وغیرہ، اور دیگر منہیات بھی شامل نہ ہوں جیسے قابل ستر حصوں کا ظاہرہونا، یا مردوزن کا آزادانہ اختلاط، آلات موسیقی کا استعمال وغیرہ تو اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی اسے دیکھنے میں کوئی حرج ہے۔ وباللہ التوفیق۔

وصلی اللہ علی نبینا محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔

(فتاوی اللجنۃ الدائمۃ 15/238)

فٹبال وقت کا ضیاع ہے

سوال: فٹبال وغیرہ کے مقابلے دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: انسان کا وقت نہایت قیمتی شے ہے اسے ہرگز بھی اس قسم کے مقابلے دیکھنے میں ضائع نہ کیا جائے کیونکہ یہ اسے ذکر الہی سے مشغول کردیں گے۔ اور ہوسکتا ہے اسے اتنا اپنے طرف مائل کریں کہ وہ مستقبل میں کھلاڑی یا ایتھلیٹ بن جائے جس صورت میں وہ کسی سنجیدہ کام یا نفع بخش کام سے پھر کر ایک بے فائدہ کام میں جالگے گا۔

(شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ الاجوبۃ المفیدۃ 124)

فٹبال کے میدان (اسٹیڈیم) میں جانا

سوال: فٹبال کے میدان میں جاکر کسی مقابلے کو دیکھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: فٹبال کے میدان میں جاکر مقابلہ دیکھنے سے اگر کسی واجب کا ترک نہیں ہوتا جیسے نماز، اور نہ ہی اس میں قابل ستر اعضاء جسمانی کو دیکھنے کا امکان ہو، اور نہ اس سے باہمی نفرت وعداوت جنم لے تو پھر اس میں کوئی بات نہیں۔ البتہ اسے ترک کرنا افضل ہے کیونکہ یہ لہوولعب میں شامل ہے اور غالباًاس میں حاضر ہونے والے واجب کو چھوڑنے یا حرام کا ارتکاب کرنے والے ہوجاتے ہیں۔

(اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء فتوی رقم 5413)

عام قاعدہ۔۔۔

شیخ الاسلام ابو العباس امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر وہ کھیل یا لہو ولعب  یا ورزشی سرگرمی جس میں کھلاڑی یا بہادر لوگ حصہ لیتے ہیں ہے اگر اس سے شرعی حق میں استعانت نہ ملتی ہو تو وہ سب حرام ہیں۔

(حقیقۃ کرۃ القدم ص 5 ذیاب الغامدی)

اختتام۔۔۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے بندو! بلاشبہ فٹبال جو کچھ اس کے بارے میں کہاجاتا ہے، جو اس کے تعلق سےرواج دیا جاتا ہے، اور جو طاقتیں وامکانیات اس کے لیے کھپائی جاتی رہیں گی ، اور جس طرح سے یہ باتوں اور واقعات میں موضوع سخن بنا ہوا ہے،  یہ سب افسوس کے ساتھ ایک ہتھکنڈا بن گیا ہے،  جو مسلمانوں کو مارنے اور کمزور کرنے میں ہمارے دشمنوں کی خدمت کرتاہے۔

(خطبۃ الجمعۃ: حکم لعب ومشاھد‏ کرۃ القدم وما فیھا من مخالفات ومحظورات – الشیخ عزالدین رمضاني)

فإذا عرفت فالزم، ولا تكن بوقاً لأعدائك، فالمؤمن كيس فطن.

دیکھیں کتاب: حقیقۃ کرۃ القدم ص 5 ذیاب الغامدی۔