Shaykh Saaleh Al-Fawzaan asked about whoever twisted his speech to attack Shaykh Rabee' Al-Madkhalee

 

شیخ صالح الفوزان حفظه الله کے کلام کو غلط مفہوم دے کر شیخ ربیع حفظه الله کے خلاف استعمال کرنا   

ترجمہ وترتیب: طارق علی بروہی

مصدر: مختلف مصادر

پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام


بسم اللہ الرحمن الرحیم

میزبان پروگرام: سائل ابو یحییٰ سوال کرتے ہیں۔

سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

میزبان: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

سائل: سماحۃ الشیخ الوالد حفظکم اللہ،  آپ نے بہت ہی قیمتی اور نافع نصیحت کی تھی دورۂ جامعہ ملک سعود کے آخر میں جو کہ جدہ میں منعقد ہوا تھا پچھلی گرمیوں کی چھٹیوں میں۔ تقویٰ الہی اور تحصیل علم پر مواضبط کی وصیت کے بعد آپ نے طالبعلموں کے درمیان موجودہ باہمی جھگڑوں اور چپقلش کو چھوڑ دینے  کی نصیحت فرمائی کہ جس نے امت اور طالبعلموں میں تفرقہ ڈال دیا ہے، اور ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ بس فلاں سے تحذیر (خبردار) کرنا، فلاں کے پاس نہ بیٹھا جائے، فلاں کے ساتھ نہ رہوکہتے ہیں۔ (آپ نے یہ بھی نصیحت فرمائی کہ) علماء کرام کا احترام کرنا واجب ہے اور انہیں غلط ثابت کرنے کی ٹوہ میں رہنا اور ان سے لوگوں کو روکنا جائز نہیں۔ اور یہ کہ جب علماء اور طالبعلموں کے درمیان ہی جدائی ڈال دی جائے گی تو پھر امت کے لیے کون بچے گا؟  لیکن سماحۃ الوالد صد افسوس کہ بعض لوگوں نے آپ کے اس کلام کی خود سے یہ تشریح کرنا شروع کردی کہ آپ کا مقصد اس کلام سے بعض ان علماء سے خبردار کرنا تھا کہ جن کے اہل باطل اور داعیانِ اہوا پرستی پر باکثرت ردود ہیں جیسے شیح ربیع المدخلی۔۔۔

میزبان: میرے بھائی نام لینے کی ضرورت نہیں،شیخ آپ کو جواب دیتے ہیں۔ شیخ جواب ارشاد فرمائیں۔

شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ: بات ایسی ہی ہے جیسا کہ آپ نے ابھی ذکر کی کہ طالبعلموں میں لڑائی جھگڑے جائز نہیں ،خواہ آپس میں ہو یا ان میں اور علماء کرام کے مابین ہو۔ بلکہ علماء اور طالبعلموں کو تو بالاولیٰ لوگوں میں محبت اور اللہ کی رضا کے لیے بھائی چارے کو نشر کرنا چاہیے  اور آپس میں بغض اور بائیکاٹ وغیرہ کو ترک کرنا چاہیے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کسی شخص سے غلطی ہوگئی ہے تو اسے خفیہ طریقے سے وضاحت کردیں یا اسے لکھ بھیجیں، ذرائع مواصلات (ٹیلی فون) وغیرہ کے ذریعے اس سے رابطہ کرلیں۔ ناصح اور منصوح (نصیحت کرنے والا اور جسے نصیحت کی جارہی ہے) آپس میں ہی بات کرلیں پس اسے اس خطاء پر تنبیہ کردی جائے جو اس سے سرزد ہوئی ہے۔ یہ بھی اس وقت جب واقعتاً اس سے کوئی خطاء ہوئی ہو۔ لیکن جو حال ہے کہ بعض طالبعلموں کے نزدیک ہر چیز ہے خطاء ہے اور ہر چیز ہی بدعت ہے تو یہ بات ناجائز ہے اور حکم لگانے میں جلدبازی کا مظاہرہ کرنا، اور لوگوں پر ، علماء اور طالبعلموں پر کلام کرنے میں بھی عجلت دکھانا یہ عمل قابل مذمت ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ﴾ (الحجرات: 6)

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لو، ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو جہالت کی وجہ سے نقصان پہنچا دو، پھر جو تم نے کیا اس پر نادم ہونا پڑے)

اور میرے جس کلام کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے میں نے اس میں کسی خاص شخصیت کا تعین نہیں کیا تھا جو کوئی کسی معین شخصیت کا اس سے مقصود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنی ہوائے نفس وخواہش سے ایسا کررہا ہےاور اس کا گناہ ووبال بھی اسی کے سر ہے۔

(دی مدخلی ڈاٹ کام سے ایک آڈیو)

 

6 ذوالحج بروز منگل 1435ھ ہماری شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ سے مکہ مکرمہ میں فتویٰ کمیٹی کے دفتر میں ملاقات ہوئی ان سوالات میں سے جو میں نے شیخ سے پوچھے یہ بھی تھا کہ:

بعض لوگ آپ کی طرف منسوب کرتےہيں کہ آپ شیخ ربیع المدخلی حفظہ اللہ اور ان کے عقیدے سے تحذیر (خبردار) فرماتے ہیں؟

آپ حفظہ اللہ نے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ: یہ خبر غیر صحیح ہے۔۔۔ایسے لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔

وکتبہ: ابو عبداللہ حبیب عجابی الجزائری

 

ایک اور موقع پر آپ سے سوال ہوا:

سائل: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

الشیخ صالح الفوزان: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔

سائل: حیاکم اللہ شیخنا صالح۔

الشیخ: حیاکم اللہ۔

سائل: شیخنا الکریم اللہ تعالی آپ کو برکت دے ہم آپ کی مبارک نصیحتوں کو جانتے ہیں کہ آپ نوجوانوں کے مابین قیل وقال کو ترک کردینے کی نصیحت فرماتے ہیں لیکن ہمارے بعض بھائی بس اسی پر مصر رہنا چاہتے ہیں اور آپ سے نقل کرتے ہیں کہ۔۔۔

الشیخ: ایسوں کو چھوڑ دیں اور ان سے دور رہیں۔

سائل: اللہ آپ کی حفاظت فرمائے وہ آپ سے نقل کرتےہیں (بارک اللہ فیکم) کہ آپ فرماتے ہيں مثال کے طور کہ شیخ ربیع بن ہادی بلاشبہ مرجئی ہيں، جبکہ شیخ ہم ان سے یہ کہتے ہيں کہ۔۔۔

الشیخ: انہوں نے یہ کلام کہاں پایا ہے؟ میرا یہ کلام کہاں پایا جاتا ہے؟!

سائل: واللہ یا شیخ !  وہ تو اس جرح کو اسی ترکیب سے پیش کرتے ہیں!

الشیخ: آخر یہ ہے کہاں؟! آپ پر واجب ہے کہ میرے کلام کی توثیق کرلیا کریں، لیکن بس محض یونہی (بےثبوت) کلام کردینا اور اسے نقل کرنا، یہ توجھوٹ ہوا جوکہ جائز نہیں۔

سائل: اللہ تعالی آپ کی حفاظت ورعایت فرمائے اور آپ میں برکت دے۔

وکتبہ سلطان بن محمد الجہنی

03/08/1436ھ موافق 17/06/2015م

(ویب سائٹ سحاب السلفیہ اور البیضاء العلمیۃ سے)